حکومتی اتحادی ان سے الگ ہو گئے: سید نفیسہ شاہ 

حکومتی اتحادی ان سے الگ ہو گئے: سید نفیسہ شاہ 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان پیپلزپارٹی  پارلیمنٹرین کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات سیدہ نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ حکومتی اتحادی ان سے الگ ہوگئے ہیں۔ وفاقی حکومت پی ڈی ایم کی نہیں اپنے اتحادیوں کی فکر کرے۔ہم اب حکومتی اتحادیوں سے رابطے کریں گے۔لانگ مارچ کے اعلان نے حکومت کو ذہنی مریض بنادیا ہے۔سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کا مقصہ اٹھارہویں ترمیم پر سمجھوتہ کرنا نہیں بلکہ ہم تحریک انصاف کو کھلا میدان دینا نہیں چاہتے۔جس کسی پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم پر سمجھوتہ کیا اس کا سیاسی جنازہ نکلے گا۔کسی کو بھی سندھ کے جزیروں پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر تعلیم سندھ کے کیمپ آفس کلفٹن میں صوبائی وزیر سیدہ شہلا رضا اور عاجز دھامراہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیدہ نفیسہ شاہ نے کہا کہ حکومتی نمائندے  پی ڈیم ایم کی سرگرمیوں پر کمنٹری کرتے ہیں لیکن اپنی کارکردگی پر نظر نہیں ڈالتے ہیں۔ملک میں گیس اور پٹرول کا بحران ہے۔گیس کی قلت کی وجہ سے صنعتوں کاپہیہ جام ہے۔حکومت کی جانب سے عوام پر پر ایک مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کرکے پٹرول بم گرانے کی تیاری کی جارہی ہے لیکن حکومتی وزراء اس کی کوئی  فکر نہیں ہے۔ان کی ساری توجہ اس بات ہے کہ پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے کیا کہا ہے۔وزیرخارجہ سے کوئی پوچھے کہ آپ کی کارکردگی کیاہے۔ملک اکیلے پن کاشکارہے۔شبلی فراز ہمیں حکومت کی کارکردگی کے بجائے الزامات لگاتے نظرآتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی پر دھیان دے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحادٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔پیپلزپارٹی کا وفد ایم کیو ایم سے ملا ہے۔مردم شماری پر متحدہ اور ہمیں تحفظات ہیں۔ہم اس معاملے پر ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں۔پی ٹی آئی اپنے اتحادیوں کی فکر کرے اسے پی ڈی ایم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اب ہم حکومتی اتحادیوں سے رابطے کریں گے۔اب اس اتحاد میں طلباء، کسان تاجرسول سوسائٹی سب شامل ہونگے۔حکومتی اتحادی ان سے الگ ہوگئے ہیں۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ لوگ پارلیمنٹ اور سینیٹ کو یرغمال بنانا چاہتے ہیں پی ڈی ایم اس کی اجازت نہیں دیگی۔اٹھارہویں ترمیم ختم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت چاہیے۔تحریک انصاف اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ انہیں اکثریت ملے گی۔جس کسی پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم پر سمجھوتہ کیا اس کا سیاسی جنازہ نکلے گا۔ہم آپ کے لیے کوئی سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہا ہے۔خرم ہمایوں کی خودکشی سوالیہ نشان ہے۔سوال یہ ہے کہ ملک کابائیس گریڈ کاآفیسر جواس ملک کے حساب کتاب کامالک ہو یعنی کنٹرولراکاؤنٹس خودکشی کرتاہے۔یہ سوال اعلی عدلیہ پوچھے کہ وہ موت کاشکارکیوں ہوتاہے۔اس وقت ہرچھوٹابڑاملازم نیب کاشکارہے۔سیاستدان کے خلاف پولیٹیکل انجینئرنگ کی جاتی ہے۔تقریباً 12 کے قریب افسران، ریٹائرڈ پولیس آفیسراوراساتذہ نیب گردی کاشکارہوئے ہیں۔ہم چاہتے ہیں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اس معاملے پر بحث ہو۔صوبائی وزیر سیدہ شہلا رضانے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہاتھا بجلی گیس کی قیمتیں بڑھیں توسمجھ لیں وزیاعظم چورہیں۔آپ ہمیں توچورثابت کرنے پر لگے رہے اب بتائیں آپ کاکیاحال ہے۔یہ اب عوام کے لیے کیوں باہر نہیں نکل رہے۔انہوں نے کہا کہ کل ہم ایم کیوایم سے ملے ہیں۔مردم شماری کے معاملے پر ہمارا موقف یکساں ہے۔مردم شماری کی منظوری دینا وفاقی کابینہ کا کام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے جزائر کے مسئلے پر صوبے کی تمام جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔ہم کسی کو سندھ کے جزائر پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔عاجز دھامراہ نے کہا کہ حکومت کے حواس باختہ ہوگئے ہیں۔وزیر اپنی کاردگی بتانے کے بجائے پی ڈی ایم پر تنقید کرتے ہیں۔لانگ مارچ سے قبل ہی حکومت  ذہنی مریض بن گئی ہے۔حکومتی نمائندے اپنی کارکردگی نہیں بتاتے بس میڈیا میں شورشرابا کرتے رہے ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -