پی ڈی ایم کا سربراہ ہی اجلاس آج، محمد علی درانی کی فضل الرحمن سے ملاقات، پیر پگاڑ کا پیغام پہنچایا، درانی حکومت سے مذاکرات ناممکن: جے یو آئی سربراہ

    پی ڈی ایم کا سربراہ ہی اجلاس آج، محمد علی درانی کی فضل الرحمن سے ملاقات، ...

  

 لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا سربراہی اجلاس آج (جمعہ)  کوجاتی امرا رائے ونڈ میں ہوگا۔ اجلاس کی صدارت اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان کریں گے جبکہ اجلاس میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہان اور سینئر مرکزی رہنما بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ضمنی اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے حوالے سے غور کیا جائے گا اور اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں متوقع طور پر اکثریتی رائے کا فیصلہ تسلیم کیاجائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفے دینے او رلانگ مارچ کیلئے مناسب وقت بارے بھی غوروخوض کیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام جماعتیں 31دسمبر کی ڈیڈ لائن کے مطابق اپنے اراکین کے استعفوں کے حوالے سے بھی آگاہ کریں گی۔ اجلاس میں سابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کا بھی امکان ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مر کزی نائب صدر مر یم نوا ز لاہور پہنچ گئیں  اجلاس میں اسمبلیوں سے استعفوں سمیت دیگر معاملات پر حکمت عملی طے کی جائے گی۔ دریں اثنامسلم لیگ فنکشنل کے جنرل سیکرٹری محمد علی درانی نے لاہور میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی  اور سیاسی صورت حال پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما ریاض درانی کے گھر پر ہوئی۔ ملاقات میں سیاسی صورت حال پر گفتگو کی گئی، محمد علی درانی کاکہنا تھا کہ یہ محاذ آرائی کا وقت نہیں، حکومت اور پی ڈی ایم درمیانی راستہ اختیار کریں۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمدعلی درانی کا کہنا تھا کہ مولانا کے لیے پیر پگارا کا پیغام لیکر آیا، ملکی حالات میں ٹکراؤ کو بچانے کے لیے نئے راستے نکلنا چاہئیں،،ملاقات بہت مفید رہی ہے، آگے بڑھنے کے راستے نکلیں گے۔محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ اگلا سال اتحاد و اتفاق کا سال ہوگا،عوامی مشکلات کے حل میں مولانا کا کردار بہت ہے،گرینڈ ڈائیلاگ شروع کرنے سے پہلے ایجنڈے کی ضرورت ہے، قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے گرفتاریوں سے اتفاق میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے کہا ہے کہ جو پی ڈی ایم کا فیصلہ ہوگا وہی میرا ہوگا، شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے بارے میں فکر مند ہوں۔  اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ محمد علی درانی سے دیرینہ تعلقات ہیں، درانی صاحب اور پی ڈی ایم کی سوچ مثبت ہے،ہمارا واضح مؤقف ہے کہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اور یہ عوام کی نمائندہ حکومت نہیں۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ جو فیصلہ پی ڈی ایم کا ہوگا وہ سب کا ہوگا،اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز سامنے آنے پر کوئی بات ہوگی، اے پی سی کے اعلامیے کو اسٹریٹجی کی شکل دینا ہے،تمام پارٹیوں کے استعفے جمع ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی دنیا میں چھوٹی موٹی خبریں اڑتی رہتی ہیں،فرد کی رائے کو نہیں دیکھا جاتا، عوام پارٹی کی پالیسیوں کو دیکھتے ہیں،حکومت کے ساتھ مذاکرات کی بات کرناعوام کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی بات ہے۔ اس جعلی حکومت کے ہوتے ہوئے مذاکرات نہیں ہو سکتے ، جو قابل عمل بات ہوگی اس پر عمل کیا جائے گا

پی ڈی ایم اجلاس

مزید :

صفحہ اول -