2020ء شعبہ صحت پر انتہائی بھاری سال ثابت ہوا

  2020ء شعبہ صحت پر انتہائی بھاری سال ثابت ہوا

  

 (رپورٹ،جاوید اقبال)کورونا وباء کے باعث سال 2020ء لاکھوں لوگوں کی زندگیاں نگل کر اور کروڑوں کی داؤ پر لگانے کے بعد اختتام پذیر ہو گیا،شعبہ صحت پر پورا سال موت کے بادل چھائے رہے ابھی بھی کورونا وباء کی تباہ کاریاں عروج پر ہیں،۔2020 میں منافع خوروں نے بھی خوب فائدہ اٹھایا، ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے بھی یہ سال ملکی کی تاریخ کا تباہ کن سال ثابت ہوا،جس میں پانچ سو گنا تک ادویات کی قیمتو ں میں اضافہ ہوا،ڈرگ مافیا کی چاندی رہی۔محکمہ حکام کرپٹ عناصر کیخلاف کوئی کاروائی نہ کرسکے، مریضوں کو سہولیات فراہم کرنے میں محکمہ صحت ناکام رہا۔پورا سال فضا سوگوار رہی اور خوف و ہراس کے سائے منڈلاتے رہے۔ ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر بھی بھا ر ی رہا، دو ہزار کے قریب ہیلتھ پروفیشنلزکورونا کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے،جن میں دو سو ڈاکٹرز نے دوران ڈیوٹی جا م شہادت نوش کیا۔ 2020ء میں پاکستان سمیت پوری دنیا میں پندرہ لاکھ سے زائد بنی نوع انسان لقمہ اجل بنے،پاکستان میں مجموعی طور پر تین لاکھ کے قریب لوگ کسی نا کسی صورت کورونا میں مبتلا جبکہ دس ہزار سے زائد دنیا سے رخصت ہوئے،جن میں پنجاب میں ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ3982، صوبہ سندھ3520،کے پی کے 1627،اسلام آباد 415،بلوچستان میں 182رہی۔پورا سال ملک بھر کے ہسپتالوں میں کورونا سے جنگ جاری رہی،پنجاب میں محکمہ صحت کوئی بڑا پراجیکٹ مکمل کرنا تو دور سامنے بھی لانا ممکن نا بن سکا اور تمام پراجیکٹس کی فائلیں الماریوں کی زینت بنی رہیں۔دوسری جانب کورونا سے بچاؤ سے متعلقہ اشیاء کی خریداری میں کروڑوں کے گھپلے سا منے آئے،مگر مرتکب عناصر کیخلاف کاروائی نہ ہو سکی۔

رپورٹ جاوید اقبال

مزید :

صفحہ اول -