2020ء سفا کی اور بد اخلاقی واقعات نے سرشرم سے جھکائے رکھے 

        2020ء سفا کی اور بد اخلاقی واقعات نے سرشرم سے جھکائے رکھے 

  

 (رپورٹ، یونس باٹھ) پنجاب پولیس 2020ء میں بھی امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی قتل‘ ڈکیتی چوری‘ خودکشی‘کمسن بچوں کیساتھ بداخلاقی و قتل،خواتین پر تشدد اور اغواء برائے تاوان کے واقعات میں مجموعی طور پر اضافہ ہواجبکہ افسران بالا کم نفری‘ وسائل اور تفتیشی افسران کے فقدان اور فنڈز کا رونا روتے رہے۔صوبہ پنجاب بد امنی میں گھرا رہا، لاوارث لاشیں پولیس کیلئے درد سر بنی رہیں۔شراب و دیگر منشیات کھلے عام فروخت ہوتی رہی،سوشل کرائم میں اضافہ ہوا۔دہشتگردوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کے سرچ آپر یشن کاغذی کارروائیوں تک محدود رہے۔اغواء اور قتل کے مقدمات پولیس کیلئے چیلنج بنے رہے۔اکثر مغویوں کو تاوان کی رقم وصول کرنے کے بعد قتل کیا گیا۔اشتہاریوں اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ سال بھر جاری رہا۔ضلعی حکومتوں کی نا اہلی کے باعث صوبہ بھر میں آتشزدگی کے واقعات بڑھے۔پولیس افسران جرائم کم ہونے کے دعوے کرتے رہے جبکہ صورتحال اس کے بر عکس رہی۔2020کے دوران پنجاب میں کل4لاکھ سے زائدمقدمات درج ہوئے جبکہ6لاکھ سے زائد درخواستوں پر مقدمات کا اندراج التوا کا شکار رہا۔سائلین مقدمات درج کروانے کیلئے عدالتوں کا رخ اختیار کرتے رہے جبکہ ہزاروں جھوٹے مقدمات درج ہونے کے باعث متاثرین پولیس افسران کے دفاتر میں دھکے کھاتے جبکہ بعض جیلوں میں سزا کاٹتے رہے۔پنجاب میں 2020کے دوران قتل کے6410مقدمات درج ہوئے جن میں 10512مرد‘ خواتین اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جبکہ صوبہ بھر میں قتل کے310ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن مقتولین کی شناخت ہی نہیں ہو سکی ان میں 52خواتین بھی شامل ہیں۔پنجاب بھر سے 2600 سے زائد لاوارث لاشیں ملیں اور پولیس انہیں نشئی قرار دیکر دفن کرتی رہی۔صرف لا ہور شہر سے20 20میں 795سے زائد لاوارث لاشیں برآمد ہوئیں،2020کے دوران مبینہ پولیس مقابلوں میں 100سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا،پھربھی ڈاکو اور چور دندناتے رہے۔صوبہ کے602تھانوں میں ڈکیتی‘راہزنی اور چوری کے کل ایک لاکھ 9 ہزار مقدمات درج ہوئے جن میں اربوں روپے مالیت کی اشیاء زیورات‘ گاڑیاں‘ موٹر سائیکل اور مویشی شامل ہیں لوٹ لئے گئے،6ہزار سے زائد گاڑیاں 20ہزار سے زائد موٹر سائیکل جبکہ2لاکھ سے زائد پرس چھینے گئے یا چوری ہوئے۔ اقدام قتل اور لڑائی جھگڑوں کے26456مقدمات درج ہوئے جن میں ایک لاکھ سے زائد مردو خواتین اور بچے زخمی ہوئے جبکہ کئی اپاہج ہو گئے۔ نوسر بازی کی ہزاروں وارداتوں میں شہری کروڑوں مالیت کی نقدی‘ موبائل اور دیگر قیمتی سامان سے محروم ہوئے جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 389 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔گھریلو جھگڑوں سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر شادی شدہ خواتین سمیت3650سے زائد مردوں اور لڑکی لڑکوں نے خود کشیاں کیں۔ ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات میں 9ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ3لاکھ سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ اغوا کے14ہزارجبکہ اغوا برائے تاوان کے 99 مقد ما ت درج ہوئے۔صرف لا ہور میں سال کے دوران اغوا کے 2154اور اغوا برائے تاوان کے23 واقعات ہوئے۔ آتشزدگی کے15ہزار سے زائد واقعات پیش آئے جن میں کروڑوں مالیت کا سامان جل کر راکھ ہو گیا جبکہ درجنوں افراد ہلاک 590سے زائد زخمی ہوئے۔ انتہائی مطلوب109دہشتگرد، سر کی قیمت والے240خطرناک مجرموں اور عدالتی مفروروں سمیت ڈیڑھ لاکھ سے زائد مجرموں کی گرفتاری پولیس کیلئے چیلنج بنی رہی جبکہ ایف آئی اے‘ ریلوے پولیس اور محکمہ اینٹی کرپشن کو مطلوب اشتہاریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔پنجاب پولیس کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پنجاب پولیس نے2020کے پہلے10ماہ کے دوران ڈاکوؤں اور چوروں کے2410گینگز کے8201ارکان کو گرفتار کیا اور ان سے ایک ارب47کروڑ روپے سے زائد مالیت کی کرنسی‘ زیورات و دیگر مسروقہ مال برآمد کر کے مدعیوں کے حوالے کیا۔ ایک لاکھ ایک ہزار اشتہاری اور28ہزار سے زائد عدالتی مفرور گرفتار کئے، بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت جرائم کی شرح میں کمی ہو ئی،  فر ی رجسٹریشن کی وجہ سے مقدمات میں کی تعداد بڑھی مگر گزشتہ سالوں کی نسبت ریکوری اور ملزمان کے گرفتار ہونے کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ 

رپورٹ یونس باٹھ

مزید :

صفحہ اول -