2020ء نہ بھلایا جانے والا سال، مسلم ممالک کے سرخیل ایکسپوز، انڈیا پر تھو تھو 

  2020ء نہ بھلایا جانے والا سال، مسلم ممالک کے سرخیل ایکسپوز، انڈیا پر تھو تھو 
  2020ء نہ بھلایا جانے والا سال، مسلم ممالک کے سرخیل ایکسپوز، انڈیا پر تھو تھو 

  

 (تجزیہ،ایثار رانا)بالآخر 2020ء کا سورج تما م سال اپنی دہشت،بھوک،بیروز گاری اور موت پھیلا کے رخصت ہوا۔یہ سال انسانی تاریخ میں کبھی نہ بھلا یا جا سکے گا۔پوری دنیا کیساتھ عالم اسلام پر بھی سال 2020 ء نے اپنی زقند لگائی،مسلم امہ خیر پہلے بھی بے توقیر تھی لیکن اس سال نے مسلم ممالک کو بری طرح ایکسپوز کر دیا،اسرائیل کیخلاف کئی دہائیوں سے جاری جنگ آج عرب ممالک ہار چکے،مسلم ممالک کے تمام سر خیل لیڈ ر گھٹنے ٹیک چکے،اسوقت عملی طور پر وزیر اعظم عمران خان فلسطینیوں کے وکیل کے طور پر کھڑے ہیں۔2020ء کی بے مہری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وہ عرب ممالک جو مسلم دنیا کے چیمپئن تھے آج پاکستان سے اسلئے ناراض ہیں کہ پاکستان انکی طرح انکل سام کی ہدا یت پر اسرائیل کو اپنا دوست تسلیم کرنے اور اس کے اعلان کرنے میں دیر کیوں کر رہا ہے۔آج سے چودہ سو سال پہلے جس سر زمین پر آقا ئے نامدار،مولائے کُل،ختم الرسُل،نبی محترمؐ نے بت پاش پاش کئے آج اس دھرتی پر بتوں کی پوجا کرنیوالے سب سے بڑے ملک کا سپہ سالار شاہی پروٹوکول انجوائے کر رہا ہے۔ماتم کا مقام ہے،اذیت کے لمحے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان کا کڑا امتحان۔پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی کووڈ۔19نے موت اور بھوک پھیلائی، گو پوری دنیا پاکستانی اقدامات کی تعریف کر رہی ہے اور وزیر اعظم عمران خان کو سراہا جا رہا ہے لیکن سراہنے سے چولہے جلتے ہیں،نہ بھوکے پیٹو ں کو تسکین ملتی ہے۔بھارت کا جنگی جنون پورے سال سر چڑھ کر بولتا رہا، سیکڑوں معصوم اپنی جانوں سے گئے،املاک تباہ ہو ئیں، بھارت کو منہ کی کھانی پڑی، پا کستا ن نے جہاں پوری دنیا کواپنے تدبر اور صبر و تحمل سے متاثر کیا وہیں اس نے بھارتی سورماؤں کے طیارے گرا کر یہ پیغام بھی دیا شرافت کا مطلب بزدلی نہیں ہوتا۔2020ء میں بھارتی غلیظ پراپیگنڈہ بری طرح ایکسپوز ہوا پوری یونین کی ڈس انفولیبارٹری نے انڈیا کا بھیانک غلیظ چہرہ دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا،پوری دنیا میں بھارت پر تھو تھو ہوئی،مقبوضہ کشمیر کے لا چار،بے بس بھائی بہن آج بھی ہماری طرف دیکھ رہے ہیں،ان پر ظلم کی رات ٹلی ہے نہ اذیتوں کے دن۔فلسطین،شام، عراق، افغا نستان، مصر،لیبیا،سوڈان سمیت مسلم ممالک کے لاچار مسلمان سارا سال خون میں لت پت رحم رحم پکارتے رہے، عالم اسلام خون خون تڑپتا رہا اور دنیا کے چند ٹھیکیدار دہشت گرد بھی مسلما نو ں کو ثابت کرتے رہے،اور مسلم حکمران اپنی دولت حرم اور عیا شیاں بچانے کیلئے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ہاتھ باندھے ہونٹ سیئے لرزتے رہے۔2020ء میں عالمی جنگ کے سائے بڑھتے رہے،چین کی بڑھتی اقتصادی ترقی اور غلبہ یورپ،امریکی منڈیوں میں دندناتا رہا۔امریکہ اپنی شرمندگی مٹانے کیلئے پاکستان،بھارت،افغانستان بارڈر میں آگ پھیلاتا رہا۔وہ چین سے پراکسی وار میں پاکستان کو رگید تا رہا۔گو طا لبان نے امریکہ کو افغانستان میں خاک چٹوائی،اسے مذاکرات کیلئے جھکنا پرا،عمران خان کا با ر بار موقف سچ ثا بت ہوا،امریکہ کو بہ امر مجبو ر ی تسلیم کرنا پڑا امن جنگ سے نہیں بات کرنے سے آئیگا۔حیرت ہے امریکہ مسلم ممالک میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے نام پر مسلمانوں کو مارتا رہا۔ماؤ ں کے پیٹ میں بچے مر گئے۔جگہ جگہ تورا بورا جیسے واقعات ہوئے۔ مدرسے کے معصوم بچوں کو بھی نہ بخشا گیا،پورا سال پاکستا ن چاروں طرف سے خطرات میں گھرا رہا۔کووڈ۔19، دہشت گردی،معاشی بدحالی نے پاکستانیوں کو جکڑے رکھا،لیکن افسوس ہماری سیا سی قیادت ان خطروں سے آگاہ ہونے کے با وجود سیاسی استحکام کی بجائے ابتری پر کام کرتی رہی۔ایسا بیانیہ اختیار کیا گیا جس سے بھارت اور پاکستان مخالفین کے موقف کو تقویت ملے۔2020 ء میں حکمرانوں،سیاستدانوں کی باہمی لڑائی نفرت میں بدل گئی۔دیکھتے ہیں 2021 ء میں یہ سلسلہ کہاں جا کے تھمتا ہے۔دعا یہ ہے کہ 2021ء غریب عوام کیلئے سکھ کا لمحہ اپنی جھولی میں سمیٹ کر لائے لیکن کاش سب کچھ دعا ؤ ں سے ممکن ہو سکتا۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید :

تجزیہ -