وزیر اعلیٰ محمودخان نے ہمیشہ صحافیوں کے مسائل کے بروقت حل کو ترجیح دی ہے: کامران بنگش 

وزیر اعلیٰ محمودخان نے ہمیشہ صحافیوں کے مسائل کے بروقت حل کو ترجیح دی ہے: ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاور پریس کلب نے ہمیشہ معاشرے کے حقیقی مسائل کو اُجاگر کرکے عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ پُل کا کردار ادا کیا ہے، وزیراعلی محمود خان نے ہمیشہ صحافیوں کے مسائل کے بروقت حل کو ترجیح دی ہے، پریس کلب کابینہ کیساتھ مل کر صحافی دوست اقدامات اٹھارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار وزیراعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے اپنے دورہ پشاور پریس کلب کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات امدادللہ اور وزیراعلی کے فوکل پرسن برائے سوشل میڈیا سید فرقان کاکا خیل بھی ان کے ہمراہ تھے۔ معاون خصوصی نے نومنتخب صدر ایم ریاض اور اسکی کابینہ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں وزیراعلی محمود خان کا تہنیتی پیغام پہنچایا۔ کامران بنگش اس موقع پر پریس کلب کے تمام اراکین و سینئر صحافیوں سے بھی ملے اور انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ہار پہنائے۔ انہوں نے مد مقابل امیدوار جمشید باغوان اور ان کے پینل سے بھی ملاقات کی۔اس موقع پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کامران بنگش نے دونوں فریقین کو مبارکباد دی۔اور کہا کہ ہار جیت جمہوری عمل کا حصہ ہے اور جو بھی پینل پریس کلب کے اقتدار میں آتا ہے صحافیوں کی فلاح و بہبود اس کا منشور ہوتا ہے۔ جمہوری طریقے سے انتخابات کرانا پشاور پریس کلب کی روایت رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پشاور پریس کلب اپنی تاریخی ساکھ بحال رکھے ہوئے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ اطلاعات اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور اس ضمن میں محکمہ اطلاعات بالخصوص اور حکومت خیبرپختونخوا بالعموم موجودہ کابینہ کے ساتھ ملکر صحافی دوست پالیسیاں مرتب کریگی۔ ہماری حکومت نے ہمیشہ صحافیوں کے مسائل کے بروقت حل کو ترجیح دی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کو مقدم رکھا ہے۔ نومنتخب صدر ایم ریاض نے معاون خصوصی کی پریس کلب آمد کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان سے حلف برداری تقریب کے جلد سے جلد انعقاد کی بھی استدعا کی۔ ایم ریاض کے مطابق پشاور پریس کلب کے دونوں پینلز کا منشور صحافی برادری کو معاشی اور جسمانی تحفظ سمیت ان کے اہل و عیال کیلئے فلاحی اورصحتمند انہ سرگرمیوں کا انعقاد ہے۔ صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے سب سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش نے کہا ہے کہ ضلع مہمند میں محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے ضلع کے ہر ہائی سکول میں ماڈل سائنس لیبز کھولے جائیں گے. جہاں پر سائنس و ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائیگی. جبکہ ضلع مہمند کے ماربل صنعت سے وابستہ افراد کیلئے جدہد سائنسی اصولوں پر مشتمل ٹیکنالوجی ماربل کٹنگ کیلئے دی جائیگی. جسکی مدد سے بلاسٹنگ کے عمل سے مکمل چھٹکارا پایا جائیگا. اسی طرح ماربل ویسٹ کیلئے بھی یہاں ریفائنری لگائی جائیگی. پورے ضلع میں ویدر سٹیشن قائم کیا جائے گا جس کی مدد سے زراعت سے وابستہ افراد کو موسم کی آگہی اور موسمیاتی عوامل کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی.اسی طرح توانائی کے متبادل ذرائع کو استعمال میں لانے کیلئے ضلع میں ونڈٹیکنالوجی استعمال کرکے ونڈ ملز لگائیں جا ئیں گے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع مہمند کے دورے کے موقع پر کھلی کچھری سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ڈپٹی کمشنر غلام حبیب، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجودتھے.ضیاء اللہ بنگش نے اپنے خطاب میں کہاکہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمودخان کی ہدایت پر تمام وزراء قبائلی اضلاع کے دورے کر رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد جاری کاموں کا جائزہ لینا‘ ترجیحاتی منصوپوں کا انتخاب کرنا اورتمام فیصلوں میں قبائلی عوام کی مشاورت لینا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ضلع مہمند کیلئے بہت فنڈ مختص ہے اورترقیاتی کام بھی جاری ہیں جبکہ اس ضلع کیلئے ساڑھے چار ارب روپے کے منصوبے تیارکئے گئے جوکہ منظوری کیلئے وزیراعلی محمودخان کو بھجوادئیے گئے ہیں اور یہ تمام چھوٹے منصوبے یہاں کے مقامی علاقہ عمائدین کی مشاورت سے تیارکئے گئے ہیں۔ اسی طرح اربوں روپے کی لاگت سے روڈ بنائے جارہے ہیں ابنوشی میں 50 کروڑ روے کی لاگت سے 81ٹیوب ویلز تعمیر ہورہے ہیں۔ سکولوں کی حالت بہتربنانے اور فرنیچرکی فراہمی کیلئے 29 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں اسی ضلع میں 384 اساتذہ مزید تعینات کردیے گئے ہیں۔  پاکستان تحریک انصاف کی تعلیم دوست پالیسی کے مطابق ضلع مہمند میں کیڈٹ کالج مامد گٹ کا قیام‘ تین ہائرسیکنڈری سکولز کی سٹینڈرڈ آئزیشن اور 298 تباہ شدہ سکولوں کی تعمیرنوکیساتھ ساتھ ہائر ایجوکیشن کے تحت گورنمنٹ کالج لکڑو کی تعمیرنو اوردیگر کئی اہم منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔  اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی 40 کروڑ روپے کی لاگت سے کئی اہم منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی محمود خان کے وژن کے مطابق ضلع مہمند کے تقریباٌ 72 ہزار خاندانوں میں صحت انصاف کارڈ تقسیم ہوچکے ہیں اور اب ضلع مہمند کے ہر باشندے کوقومی شناختی کارڈ پرصحت کارڈ کی سہولت دی گئی ہے۔ نوجوانوں کیلئے انصاف روزگار سکیم کے اجراء، سولر منصوبے، سمال ڈیمز اور 27 کروڑ روپے کی لاگت سے ضلع میں بجلی کے 14 نئے فیڈرز کی تنصیب کا منصوبہ بھی شروع کیاجاچکاہے۔ جبکہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے شروع کردہ منصوبے مہمند ماربل سٹی کیلئے بھی 90 کروڑ روپے کی لاگت سے یکہ غنڈ میں گریڈسٹیشن کوتعمیر کیاجارہاہے۔ضیاء اللہ بنگش نے کہاکہ ان عظیم منصوبوں کی تکمیل سے قبائلی عوام کو انضمام کے خقیقی فوائد مل سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد ترقی کے رفتار میں تیزی لاناہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی کے ہدایت پر وزراء تسلسل کے ساتھ قبائلی اضلاع کے دورے کررہے ہیں آپ لوگ اپنے منصوبوں کی خودمانیٹرنگ کریں گے اور غلط کام کی نشاندہی کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ضیاء اللہ بنگش نے کہاکہ مہمندڈیم کی تعمیرسے جہاں انرجی کاسب سے بڑا مسئلہ حل ہوجائیگا وہاں پر یہاں کے نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔ اور انڈسٹری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو مختلف اداروں میں جاری بھرتی کے عمل کوفوراٌ مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔ علاقہ عمائدین کی طرف سے ڈومیسائل مسئلے‘ زیتون درختوں کی فراہمی کے منصوبے‘ دوبارہ مردم شماری کی درخواست‘ مہمندڈیم کے زمین کی ادائیگی کے مسائل‘ کیڈٹ کالج میں ضلع مہمندسے کوٹہ میں اضافہ‘ روزگار سکیم‘ زراعت منصوبے کے اجراء اورکالجز میں بی ایس پروگرام کے اجراء کی نشاندہی کی گئی۔ جس کے متعلق ضیاء اللہ بنگش نے یہ مسائل وزیراعلی کے نوٹس میں لانے کاعندیہ دیا۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلی کی زیرصدارت ضلع مہمند کے اجلاس میں یہ تمام مسائل پیش ہوں گے۔ ضیاء اللہ بنگش نے کھلی کچہری کے احتتام پر صوبائی حکومت کی طرف سے جاری مہمند انڈسٹریل سٹی کا دورہ بھی کیا جہاں انہیں انڈسٹریل سٹی کے متعلق بریفنگ دی گئی۔ انہیں بتایاگیاکہ ٹوٹل 219 پلاٹس میں 93 پلاٹس پرکام جاری ہے جبکہ 43 پلاٹس الاٹ کئے گئے ہیں اورتقریباٌ 8 پلاٹس انڈسٹریل یونٹس آپریشنل ہورہے ہیں۔ جس میں زیادہ ترماربل انڈسٹری اوراس کے ذیلی انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضیاء اللہ بنگش نے انڈسٹریل سٹی میں جاری ترقیاتی کام کے سائٹ کا بھی دورہ کیا۔#

مزید :

صفحہ اول -