نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں اور وزیر تعلیم شفقت محمود کے درمیان ملاقات میں سکول کھولنے کا فیصلہ نہ ہو سکا

نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں اور وزیر تعلیم شفقت محمود کے درمیان ...
نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں اور وزیر تعلیم شفقت محمود کے درمیان ملاقات میں سکول کھولنے کا فیصلہ نہ ہو سکا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر تعلیم شفقت محمود سے نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں نے ملاقات کی لیکن اس دوران نجی ادارے 11 جنوری کو کھولنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم شفقت محمود نے نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں سے ملاقات کے دوران چار جنوری تک کا وقت مانگ لیاہے ، اس دوران ان کا کہناتھا کہ چار جنوری کو وزرائے تعلیم اور این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صحت کی تجاویز کے بغیر تعلیمی ادارے نہیں کھول سکتے ۔ بچوں ، اساتذہ اور سٹاف سمیت سب کی صحت کو دیکھنا ہو گا ،وزارت صحت کی بریفنگ پر تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ان کا کہناتھا کہ نجی تعلیمی اداروں کی مشکلات کا ادراک ہے ، نجی تعلیمی اداروں کو پیکج بھی دے رہے ہیں ۔

دوسری جانب نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود کا کہناتھا کہ گزشتہ سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر شے تبدیل ہو گئی ۔ تعلیمی ادارے ،دفاتر ، صنعتیں اور مارکیٹیں بند رہیں ، کوروان کے باعث سکول حاضری کے بجائے آن لائن نظام پر جانا پڑا، یکساں تعلیمی نصاب ملک بھر کیلئے مثبت قدم ہوگا اس لیے کوشش کر رہے ہیں کہ یکساں تعلیمی نصاب ماڈل بن جائے ۔انہوں نے کہا کہ آن لائن نظام پر آنے کے بعد بیشتر شہروں میں طلبہ کو مشکلات کا سامنا رہا ۔

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود مخالفین پر برس پڑے اور کہا کہ پی ڈی ایم کا مستقبل ختم ہو چکاہے ، پی ڈی ایم کا مستقبل لاہور جلسے کے بعد ڈوبتا نظر آیا ، پی ڈی ایم کا ور چلتا رہے گا لیکن بیچ میں جان نہیں ہو گی ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -