صحافت میں جدت اور پیشہ ورانہ ضوابط کا امتزاج

صحافت میں جدت اور پیشہ ورانہ ضوابط کا امتزاج
صحافت میں جدت اور پیشہ ورانہ ضوابط کا امتزاج

  

چائنا میڈیا گروپ کے موجودہ سربراہ شن ہائی شیونگ انتہائی متحرک شخصیت کے مالک ہیں۔اُن سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو  ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کو جدت سے ہم آہنگ کرنے میں انہوں نے انتہائی قلیل مدت میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ابھی سال نو کے موقع پر انہوں نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ سال 2020ایک غیر معمولی سال تھا۔ اس سال دنیا کو بے شمار مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔اچانک پھوٹنے والی وبا نے انسانی سماج کو  شدید متاثر کیا۔صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں چین نے ملک گیر  کٹھن جدوجہد کے بعد وبا کی روک تھام و کنٹرول میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور چین دنیا میں مثبت معاشی نمو کی حامل واحد بڑی معیشت بن چکی ہے۔

شن ہائی شیونگ  نے وبائی صورتحال کے پھیلاو کے تناظر میں دنیا سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یہ امید ظاہر کی کہ جلد ہی مشکلات پر قابو پا لیا جائے گا اور ہر کوئی صحت مند و توانا ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بطور صحافی یہ ہمارا فرض ہے کہ حقائق بتائے جائیں۔ چین میں وبا کی شروعات میں چائنا میڈیا گروپ کے دو ہزار سے زائد صحافی وبا کی روک تھام وکنٹرول کی فرنٹ لائن پر فوری پہنچے۔وبا کے "ریڈ زون" سے نامہ نگاروں نے رپورٹنگ کی اور   "وبا کے خلاف مشترکہ جنگ" جیسے کثیر اللسانی دستاویزی پروگراموں کے ذریعے دنیا کو  بروقت اور شفاف طور پر چین کی وبا کے خلاف جنگ سے آگاہ کیا گیا۔

چائنا میڈیا گروپ نے "گلوبل وبائی مشاورتی روم" کا آغاز کیا جس میں دنیا بھر سے طبی ماہرین کو مدعو کیا گیا اور  چینی ماہرین کے انسداد وبا سے متعلق موئثر تحربات کا تبادلہ کیا گیا۔عالمی ماہرین سے خصوصی انٹرویوز کے ذریعے سائنس اور حقائق کی بنیاد پر وبا سے جڑی متعدد افواہوں کی وضاحت کی گئی۔

شن ہائی شیونگ کے مطابق گزشتہ برس کے حقیقی احساسات آج بھی بدستور موجود ہیں۔ نو سو برس قبل سونگ دوربادشاہت میں ایک چینی فلسفی چانگ زائی کی کہاوت ہے کہ غربت اور غم انسانی ہمت کو بڑھاتے ہوئے کامیابی میں مدد کر سکتے ہیں۔ یہ فلسفہ لوگوں پر بھی لاگو ہوتا ہے اور ممالک پر بھی۔مصائب کا سامنا کرتے ہوئے دنیا نے اپنائیت اور  رحمدلی بھی محسوس کی ہے اور  انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کے حقیقی معنیٰ کو صحیح طور پر سراہا جا سکتا ہے۔وبا کے بعد  اس چیز کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ وبا جیسے مشترکہ چیلنجوں سے اکھٹے مل کر ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

گزشتہ برس چائنا میڈیا گروپ کی جانب سے انسداد وبا  کے لیے یورپ اور لاطینی امریکہ کی ایک سو سے زائد میڈیا تنظیموں کے ساتھ "کلاوڈ فورم" کے تحت تعاون کیا گیا ہے ،کئی میڈیا اداروں کے ساتھ فلموں "تاریخ کی کھوج" اور "چین کے خزانے" جیسے منصوبوں کی صورت میں ادارہ جاتی تعاون تشکیل دیا گیا ہے ۔وبائی صورتحال میں مشترکہ پروگرامنگ نے لوگوں کو ثقافتی   طاقت فراہم کی ہے۔

شن ہائی شیونگ نے مزید کہا کہ وبا کی طرح غربت بھی انسانی معاشرے کا ایک دائمی مرض ہے۔صدر شی جن پھنگ کا کہنا ہے کہ "غربت کا خاتمہ قدیم وقتوں سے ہی انسانیت کا ایک خواب رہا ہے اور ایک خوشحالی زندگی کی جستجو تمام ممالک کے عوام کا بنیادی حق ہے"۔گزشتہ برس چین نے غربت کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔آٹھ سالہ جدوجہد کے بعد  تقریباً دس کروڑ لوگوں نے غربت سے نجات حاصل کی ہے۔چین نے تخفیف غربت کی انسانی تاریخ میں ایک معجزہ تخلیق کیا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ  ایک عالمی معیار کے نئے مین اسٹریم میڈیا کی تعمیر جاری رکھی جائے گی اور انٹرنیٹ ماحول پر مبنی جامع میڈیا کی تعمیر کی جستجو کی جائے گی۔ چین کے چاند سے متعلق تحقیقی مشن چھانگ عہ فائیو اور چینی آب دوز"اسٹرگل" کی زیرسمندر دس ہزار میٹر گہرائی تک جانے جیسے اہم سائنسی واقعات کی   "5G+4K/8K+AI"ٹیکنالوجی کی مدد سے کوریج کی گئی ہے۔تیسری چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کے دوران لائیو ویب کاسٹ کی بدولت چینی منڈی میں کئی یورپی مصنوعات کے لیے ایک شاندار آن لائن چینل کھلا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ  مستند خبریں اور  حقیقی معلومات میڈیا کی ذمہ داری اور معیار کی عکاسی کرتی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ چین سے متعلق کچھ میڈیا رپورٹس میں ، تعصب نے انصاف کی جگہ لی ہے اور افواہوں نے حقائق کو مسخ کیا ہے۔ چاہے انسداد وبا ہو یا ہانگ کانگ  اور سنکیانگ  وغیرہ سے متعلق رپورٹنگ ، ایسی غلطیاں  حتیٰ کہ خیالی تصورات بھی سامنے آچکے ہیں۔ چائنا میڈیا گروپ نے  فوری جواب دیا اور حقائق سامنے لائے ہیں۔ رائے مختلف ہوسکتی ہے ، لیکن سچائی صرف ایک ہی ہے۔ نئے سال میں عالمی میڈیا کے پیشہ ور افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بین الاقوامی رائے عامہ کے میدان میں افواہوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

نئے سال کے حوالے سے شن ہائی شیونگ  نے کہا کہ چائنا میڈیا گروپ  بین الاقوامی مین اسٹریم میڈیا کی حیثیت سے  حقیقی اور شفاف موقف اپناتے ہوئے  حق اور سچ کی آواز کوعام کرے گا  اور تہذیب کی خوبصورتی کو دنیا تک پھیلانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہے گا۔دنیا کو بتایا جائے گا کہ چین کے عوام چینی کمیونسٹ پارٹی سے کیوں عقیدت رکھتے ہیں جبکہ چین اور دنیا کے بارے میں جامع اور معروضی رپورٹنگ کے اعلیٰ پیشہ ورانہ جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے  مزید معیاری پروگرام پیش کیے جائیں گے۔

۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -