وہ 27 سالہ نوجوان جو انٹرنیشنل ریس کھیلنے والا واحد پاکستانی ہے ،اس کے کارنامے جان کر آپ بھی سیلیوٹ کریں گے 

وہ 27 سالہ نوجوان جو انٹرنیشنل ریس کھیلنے والا واحد پاکستانی ہے ،اس کے ...
وہ 27 سالہ نوجوان جو انٹرنیشنل ریس کھیلنے والا واحد پاکستانی ہے ،اس کے کارنامے جان کر آپ بھی سیلیوٹ کریں گے 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )27 سالہ محمد عثمان غنی واحد پاکستانی ہیں جو پیشے کے لحاظ سے بائیک ریسرے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بائیک ریسنگ میں حصہ لیتے ہیں ، ان کے پاس ایف آئی ایم ریسنگ اور کوچنک کا لائسنس بھی موجودہے جو کہ انہوں نے اپنی قابلیت کو منواتے ہوئے حاصل کیاہے ۔محمد عثمان نے بتایا کہ وہ یو اے ای نیشنل سپر سٹاک روکی چیمپئن شپ جیت چکے ہیں ،انہوں نے نیشنل یو اے ی سپر سٹاک چیمپئن شپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ، اب وہ ولید الشمیس چیمپئن شپ میں حصہ لینے جارہے ہیں ۔

روزنامہ پاکستان کے ساتھ خصوصی نشست میں محمد عثمان غنی نے میزبان اوسامہ بن عتیق کو بتایا کہ میں بچپن سے ہی بائیک ریسنگ کا شوقین تھا ، ہمارے گھر کے قریب ہی بائیک ٹریک تھا تو ایک دن میں نے سوچا کہ ٹریک پر جاتا ہوں اور بائیک چلاتاہوں لیکن جب میں وہاں تو وہ دنیا ہی الگ تھی ، سڑک پر پانچ مہینے بائیک چلانا اور ٹریک پر ایک دن چلانا برابر ہے ، ٹریک پر بائیک چلاکر کر آپ ایک دن میں اتنا سیکھتے ہیں جتنا آپ سالوں سڑکوں پر چلا کر نہیں سیکھتے ۔

ویڈیو دیکھیں:

محمد عثمان غنی واحد پاکستانی ہیں جو کہ انٹر نیشنل ریسنگ ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں ، ان کے پاس ایف آئی ایم ریسنگ اور کوچنگ کا لائسنس موجود ہے جو کہ پاکستان کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے ۔عثمان نے بتایا کہ ریسنگ لائسنس لینے کیلئے تین سال تک ٹریک پر بائیک چلانے کا تجربہ ہونا چاہیے ،اس کے بعد دو ٹیسٹ ہوتے ہیں ،ایک تحریری امتحان ہوتا ہے اور دوسرے ٹیسٹ میں ایف آئی ایم کا کوچ ٹریک پرآپ کے ساتھ بائیک پر جاتاہے ، کوچ300 کی سپیڈ پر آپ کا جائزہ لیتاہے ، اس دوران آپ کی بائیک کے ساتھ اگلی بائیک ہوتی ہے اور آپ کی کہنی بالکل ٹریک کے ساتھ لگی ہوتی ہے ،اس ٹیسٹ میں اکثر لوگ خوف کھا جاتے ہیں اور ٹیسٹ میں فیل ہو جاتے ہیں ۔ 

ان کا کہناتھا کہ اکثرلوگ جب ٹریک پر بائیک چلاتے ہیں توپہلے ایکسیڈنٹ کے بعد خوف کھا کر چھوڑ جاتے ہیں ، ، میرا پہلا ایکسیڈنٹ ہو ا ، ہڈیاں ٹوٹیں لیکن میں نے ہار نہیں مانی ۔کوچنگ لائسنس کیلئے بھی تین سال کم از سال ریس کرنی ہوتی ہے اورآپ کو ٹاپ تھری میں آنا ہوتاہے ، پھر وہ دیکھتے ہیں کہ آپ کسی کو پڑھانے اور سکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو لائسنس جاری کیا جاتاہے ۔

محمد عثمان نے بتایا کہ میری اب تک 22 ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں، ٹریک پر سیفٹی بہت زیادہ ہوتی ہے ، جب گرتے ہیں تو سیف ہوتاہے کیونکہ کوئی گاڑی آکر ٹکر نہیں مارتی ہے ، اکثر ایسے ہوتا ہے کہ آپ سلائیڈ ہوتے ہوئے جاتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتا ہے ، لیکن بعض اوقات اگر چوٹیں آئیں تو میڈیکل سٹاف زیادہ سے زیادہ ایک منٹ میں آپ تک پہنچ جاتاہے ۔

انہوں نے بتایا کہ میرے بہت سارے سٹوڈنٹ ہیں جوکہ بھارت سے بھی آتے ہیں ، ان میں معروف شخصیات بھی ہیں ، لڑکیاں بھی سیکھنے آتی ہیں ،پاکستان میں ٹریک نہیں ہے ، جن لوگوں نے مہنگی بائیکس خریدی ہیں تو ان کا حق ہے کہ ان کے پاس جگہ ہو جہاں وہ بائیک کی مکمل صلاحیت استعمال کر سکیں ،پاکستان میں بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکل چلانا سٹائل سمجھتا جاتاہے لیکن ہمارے ٹریک پر پارکنگ میں بھی بائیک ہیلمٹ کے بغیر نہیں چلا سکتے ، ، ٹریک پر کم سے کم سپیڈ 120 ہوتی ہے اور 300 تک جاتی ہے ۔

محمد عثمان نے بتایا کہ وہ یو اے ای نیشنل سپر سٹاک روکی چیمپئن شپ جیت چکے ہیں ،انہوں نے نیشنل یو اے ی سپر سٹاک چیمپئن شپ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی ، اب وہ ولید الشمیس چیمپئن شپ میں حصہ لینے جارہے ہیں ۔ ان کا کہناتھاکہ فی الحال ہمارا ریس سیزن چل رہاہے اور میں دوسری پوزیشن پر ہوں ، امید ہے کہ اگلے تین ریس ویک اینڈ میں پہلی پوزیشن پر اختتام کروں گا،آئندہ سال یورپین چیمپئن شپ میں جا رہاہوں ، امید ہے اس میں بھی پاکستان کا نام روشن کروں گا ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -کھیل -