گزشتہ سال کے آخری ہفتے کونسی اشیائے ضروریہ مہنگی اور سستی ہوئیں؟ ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کر دی

گزشتہ سال کے آخری ہفتے کونسی اشیائے ضروریہ مہنگی اور سستی ہوئیں؟ ادارہ ...
گزشتہ سال کے آخری ہفتے کونسی اشیائے ضروریہ مہنگی اور سستی ہوئیں؟ ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کر دی
سورس:   File

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) گزشتہ سال کے  آخری ہفتے میں 15 اشیائے ضروریہ مہنگی جبکہ 10 سستی ہوئیں، ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کے اعدادو شمار جاری کر دیئے گئے۔ 

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے آخری ہفتے میں چینی اور آٹا مزید مہنگے ہوئے۔ چینی ایک روپے 94 پیسےفی کلو مہنگی ہونے کے بعد قیمت 84 روپے فی کلو فروخت ہوئی اور آٹے کا 20 کلوکا تھیلااوسطاًایک روپے 78 پیسےمہنگاہوا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق دال ماش دو روپے 87 پیسے فی کلو، گھی کا ڈھائی کلوکاڈبہ تین روپے 40 پیسے،انڈے اوسطاً 64 پیسے فی درجن مہنگے  ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق مٹن،بیف،دال مونگ،کوکنگ آئل،ایل پی جی بھی مہنگی ہوئی۔ 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 10 اشیاءسستی ہوئیں، پیاز پانچ روپے 44پیسےاورآلو چار  روپے87 پیسےفی کلو سستا ہوئے۔ مرغی 19 روپے 85 پیسے فی کلو، ٹماٹر چار روپے 35 پیسے فی کلو سستا ہوا۔ ادرک،دال چنا،کیلا،دال مسور اوردودھ سستا ہوا۔ 

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے 26 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا اوردسمبر 2020 میں مہنگائی کی شرح آٹھ فیصدرہی جبکہ نومبر کے مقابلے دسمبرمیں مہنگائی کی رفتارمیں کمی ریکارڈ کی گئی۔ نومبر 2020 میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصدتھی۔ رپورٹ کے مطابق جولائی       تادسمبرمہنگائی کی شرح 8.63 فیصد رہی۔ 

مزید :

قومی -بزنس -