وہ انوکھا خاندان جس کی 3 نسلوں سے کسی فرد کے بھی فنگر پرنٹ نہیں ہیں

وہ انوکھا خاندان جس کی 3 نسلوں سے کسی فرد کے بھی فنگر پرنٹ نہیں ہیں
وہ انوکھا خاندان جس کی 3 نسلوں سے کسی فرد کے بھی فنگر پرنٹ نہیں ہیں
سورس:   PxHere

  

ڈھاکہ(مانیٹرنگ ڈیسک)فنگرپرنٹس کو دنیا بھر میں انسان کی شناخت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن بنگلہ دیش میں ایک ایسا انوکھا خاندان موجود ہے، تین نسلوں سے جس کے مردوں کے فنگرپرنٹس ہی نہیں ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس خاندان کے لوگ ’ایڈرمیٹولیفیا‘ (Adermatolyphia)نامی بیماری کا شکار ہیں جو ایک نایاب بیماری ہے۔ اس بیماری میں ہتھیلیوں ، تلوﺅں اور انگلیوں کی لکیریں لگ بھگ ختم ہو جاتی ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق اس بیماری کے شکار لوگوں کو بیرون ملک سفر کرنے میں شدید مشکل پیش آتی ہے کیونکہ ان کے فنگرپرنٹس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شناخت نہیں ہو پاتی۔ اس خاندان کے ایک مرد ’اپو‘ کا کہنا ہے کہ میرے دادا سے یہ بیماری ہمارے خاندان میں چلی آ رہی ہے۔ فنگرپرنٹس نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا قومی شناختی کارڈ بھی نہیں بن پاتا۔ 2016ءسے ’سم کارڈ‘ خریدنے کے لیے بھی فنگرپرنٹ لازمی قرار دے دیئے گئے ہیں جس کے بعد سے ہمارے لیے سم کارڈ خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -