اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی 

  اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی 
  اسمبلیاں تحلیل نہیں ہوں گی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 عمران خان کیونکہ گزشتہ اپریل میں بھی ایسی ہی کوشش کر چکے ہیں کہ جب قومی اسمبلی میں اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی تو امریکی سائفر کو بنیاد بنا کر رجیم چینج کا ڈرامہ رچاتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور وزیر قانون فواد چودھری نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لئے اجلاس کو ختم کردیاتھاجس کے فوری بعدعمران خان نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیج دی جنہوں نے بلاچوں و چراں عمل کرتے ہوئے اُس پر اپنے دستخط ثبت کر دیئے تھے۔ پھرچشم فلک نے دیکھا کہ سپریم کورٹ رات کے بارہ بجے کھلی اور پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی تمام تر کارروائی کو کالعدم قراردیتے ہوئے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروائی گئی جس کے انعقاد سے قبل پی ٹی آئی قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کا اعلان کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلی گئی تھی۔قصہ مختصر یہ کہ اِس کے باوجود عمران خان قومی اسمبلی کی تحلیل کا شوق پورا نہیں کرسکے تھے۔ 


سپریم کورٹ نے بعدمیں اِس معاملے پراپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 17(5)کے تحت عوام کے حق حکومت کو سلب نہیں کیا جاسکتا اور اسمبلی کو زیربار کرنے کا مطلب ملک میں جمہوریت کو زیربار کرنا ہے، گویا آئین کے تحت عوام کو حاصل بنیادی حقوق سے روگردانی آسان عمل نہیں کیونکہ اسمبلیوں کی تحلیل سیاسی نہیں آئینی معاملہ ہے جس کا اعلیٰ عدالتیں جائزہ لے سکتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وزیر اعظم یا وزرائے اعلیٰ جب چاہیں چائے کا ایک کپ نوش فرما کر صدر یا گورنر کو اسمبلیاں تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیج دیں اور عوام کے حق حکومت پر ڈاکہ ڈال کر چلتے بنیں۔ افسوس یہ ہے کہ عمران خان نے ایک آئینی معاملے کو سیاسی معاملہ بنا کر اُس وقت بھی اپنی سیاست چمکائی تھی اب بھی صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی گیدڑ بھبکیاں ایسی ہی ایک ناکام کوشش ہے جس کا کوئی سر ہے نہ پیر ہے۔
عمران خان یہ بات سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ آئین کے تحت پاکستان میں حکومت سازی کی اساس پارلیمانی جمہوریت پر ہے جس میں اختیارات کو انتظامیہ،مقننہ اور عدلیہ کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک ادارہ دوسرے ادارے کے عمل کا جائزہ لے کر اُس کی درستگی کر سکتا ہے۔ یعنی انتظامیہ (حکومت) اگر کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے تو مقننہ (قومی اسمبلی اور سینٹ) اُس کو کثرت رائے سے رد کرسکتی ہے اور اگر مقننہ ایسا کوئی قانون بناتی ہے جو آئین اور قانون سے متصادم ہو تو عدلیہ اُس کا جائزہ لے کر اُسے ختم کر سکتی ہے۔ جمہوریت میں کوئی بھی کلی اختیار کا مالک نہیں ہوتا بلکہ چیک اینڈ بیلنس کے ذریعے ایک ایسانظام وضع کیا جاتا ہے جس کا مقصد عوام کے آئینی حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے نظام کے تسلسل کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ آپ اندازہ کیجئے کہ اگر اِس وقت سپریم کورٹ نے مداخلت نہ کی ہوتی،قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد عام انتخابات کا ڈول ڈال دیا جاتا جبکہ سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں قائم رہتیں تو ملک کے آئینی حالات کیا ہوتے،ملک شاید اِس سے بُرے معاشی حالات سے دوچار ہوتا جس کا  اِن دنوں سامنا ہے۔


پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان  میں خودمختاری اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے جبکہ ملک کو اُس کی مخلوق کی مرضی کے تابع رکھتے ہوئے اِس کا نظم و نسق چلایا جا ئے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ خود مختاری کا یہ حق کسی ایک فرد یا کسی ایک سیاسی گروہ کو تفویض کر دیا گیا ہے جو من مرضی کرتا پھرے اور جب چاہے اسمبلیوں کو بنا دے اور جب چاہے تحلیل کر دے۔ اِس حوالے سے جب بھی کوئی ایسا فیصلہ کیا جائے گااُسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا اور عدالتیں عوام کے بنیادی حقوق کی کسوٹی پر ایسے کسی بھی فیصلے کو پرکھ کرفیصلہ دیں گی۔یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطررہنی چاہئے کہ پارلیمان کی خودمختاری تو عدلیہ بھی آسانی سے ختم نہیں کرسکتی ہے، کجا یہ کہ کوئی ایک شخص یا کوئی ایک گروہ ایسا آسانی سے کرپائے۔ 


ہمارے ہاں برطانوی پارلیمانی نظام رائج ہے اور برطانوی عدالتوں نے متعدد مرتبہ مداخلت کر کے پارلیمانی خود مختاری کا تحفظ کیا ہے، اِنتظامیہ یعنی حکومت کے اختیارات کے آگے بندھ باندھا ہے کیونکہ حکومت کاتمام تر استحقاق پارلیمانی خودمختاری کے تابع تصور کیا جاتا ہے اگر حکومت عوام کو اِس کے قانون سازی کے حق سے مجروح کرتی ہے تو عدلیہ فوری طورپر مداخلت کرسکتی ہے۔ اِس کی ایک بڑی مثال ماضی قریب میں تب سامنے آئی تھی جب برطانیہ نے یورپی یونین سے علیحدگی اِختیار کی۔ اِس موقع پر وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کیا تو عدالت نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے فیصلے کے موقع پر وزیر اعظم ایسا نہیں کرسکتے۔ چنانچہ پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرکے پورے معاملے پر عوام کے نمائندوں نے تفصیل سے بحث کی اوریورپی یونین سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ 
عمران خان کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ آئین کہیں بھی یہ نہیں کہتا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئین پر فوقیت حاصل ہے بلکہ آئین کو ہر ریاستی  ادارے پر فوقیت ہے۔ پارلیمنٹ عوام کے تابع ہے جسے ووٹ کے ذریعے عوام اپنی اُمنگوں کی تکمیل کے لئے معرض وجود میں لاتے ہیں۔ اِس لئے پارلیمنٹ کے پاس آئین کو بدلنے کا لامحدود اختیار نہیں بلکہ ایسا کوئی بھی فعل سیاسی اور عدالتی ریویو کے تابع ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کسی بھی آئینی ترمیم کو طے شدہ حدود پھلانگنے پر مسترد کرسکتی ہے کیونکہ پارلیمانی خودمختاری قطعاً نہیں ہوتی۔ 
چنانچہ جب جب عمران خان اسمبلیوں کو تحلیل کریں گے تب تب اُنہیں اعلیٰ عدلیہ کے سامنے اپنے اِس فعل کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ پارلیمنٹ کرکٹ گراؤنڈ نہیں کہ  جہاں اُن کی مرضی چل سکتی ہے۔ پارلیمنٹ عوام کی ملکیت ہوتی ہے جہاں عوام کی مرضی چلتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -