سالِ نو پر رفاقتوں کی تلاش

     سالِ نو پر رفاقتوں کی تلاش
     سالِ نو پر رفاقتوں کی تلاش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سیاسی بے یقینی کے ساتھ شدید دھند، گیس کی قِلّت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں نئے سال کے آغاز پر اتنا سوچ کر تقویت ملی کہ منفرد غزل گو اور صاحب ِ طرز انسان احمد فراز کی ولادت کو 12 دن کے بعد بانوے سال ہو جائیں گے  تو کیا صوتی آلودگی میں اضافہ کرنے والے بیانات کی بجائے غور طلب نکتہ کوئی اور ہونا چاہیے۔ جی ہاں، جیسے یہی سوال کہ فراز مرحوم کو بیسویں صدی کی آخری دہائیوں کا ایک رجحان ساز شاعر قرار دیا جا سکتا ہے یا محض روایت سے معمولی انحراف کرتے ہوئے روحِ عصر کو تغزل میں ڈھال لینے والا فنکار؟ اورینٹل کالج لاہور کے پروفیسروں کے لیے اِس بحث میں ادبی تخلیق کاری کا معیار وضع کرنے اور فنکار کو اِسی روشنی میں پرکھنے کی گنجائشیں موجود ہیں، پھر بھی ایک بات پر سبھی متفق ہوں گے کہ ہمارے دَور کے جن شعرا ء پر اُن کی انفرادیت کی مہر نمایاں دکھائی دیتی رہی اُس فہرست میں احمد فراز کا نام بہت اوپر ہے۔
 ڈاکٹر توصیف تبسم کی خود نوشت ”بند گلی میں شام“ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں دیگر شخصیات کے علاوہ، شعر کی ترنگ میں ڈوبے ہوئے ایڈورڈز کالج کے ایک طالب علم سے شناسائی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ نوجوان کا پیدائشی نام احمد شاہ اور آبائی وطن کو ہاٹ تھا۔ اُنیس سو تیس کی دہائی میں اِس بچے پر اولین اثر تو اپنے والد آغا برق کے تخلیقی میلانات کا پڑا ہو گا جو پشتو اور فارسی کے اچھے شاعر تھے۔ سید ضمیر جعفری نے ایک مرتبہ شاعرانہ ترنگ میں کہہ دیا تھا: ”الغرض کو ہاٹ میں کوہاٹ ہی کوہاٹ ہے‘‘۔ وگرنہ اِسی مردم خیز خطے سے آبائی تعلق انگریزی میں تہہ در تہہ بات کرنے والے مصنف اور علمی سطح پر مقبول و معروف مقرر جسٹس ایم آر کیانی کا بھی ہے۔ وہی کیانی مرحوم جو ایک زمانے میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے اجتماعی ضمیر کی آواز بن گئے تھے۔


 تعلیم و تربیت اور پیشہ ورانہ زندگی کے باہمی تضاد کے باوجود رستم کیانی نے پہلے مارشل لاء کے دوران جو کام اپنی تخلیقی نثر کے زور پر کِیا، جنرل ضیاء الحق کے دَور میں اِسی کے لیے فراز نے میر تقی میر کے بقول: ”کِیا تھا شعر کو پردہ سخن کا“۔ اُردو تقاریر کے مجموعے ”افکارِ پریشاں“ کے ابتدائی صفحات میں ایم آر کیانی نے اپنے راتوں رات ادیب بنا دیئے جانے پر روزنامہ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا تھا جنہوں نے ایک ابتدائی تقریر کی نوک پلک درست کر کے اُسے تفصیل سے اخبار میں شائع کیا۔ اے آر کیانی کے نیم مزاحیہ الفاظ میں یہی تدوین اُن کی مقبولیت کا پیش خیمہ بن گئی۔ اِسی طرح احمد فراز کے بارے میں بھی یہ فقر ے باز ی ہوتی رہی کہ سکول و کالج کے لڑکے لڑکیوں کے اِس شاعر کو مہدی حسن کی گائی ہوئی دو غزلوں نے شہرتِ دوام بخشی۔ سچ تو یہ ہے کہ گلو کاری کے زور پر عوامی مقبولیت سے بہت پہلے ادبی حلقوں میں سبھی جانتے تھے کہ منفرد لہجے کا ایک ہونہار غزل گو میدان میں آ چکا ہے۔ 


 پاکستان میں اور ملک سے باہر جن لوگوں نے احمد فراز کو قدرے قریب سے دیکھا وہ جانتے ہیں کہ موصوف کی شخصی انفرادیت محض شعر ی خیال یا اسلوب تک محدود نہیں تھی، اُن میں حس ِ مزاح، حاضر جوابی اور جملے بازی کی صلاحیت بھی بے پناہ تھی، ساتھ ہی ایسی انانیت جوکبھی کبھی مطلق العنانیت کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ ضیاء الحق کے  مارشل لاء  کے دَوران ”ہابیل اورقابیل“ والی نعت پر وزیرِ اطلاعات کے ساتھ جھڑپ کے بعد احمد فراز لندن کے ٹرنک بازار راولپنڈی یعنی ساؤتھ ہال نامی ”پنجابستان“ میں ”جلا وطنی“ کاٹ رہے تھے۔ اُس دَور میں گپ لڑانے کے لیے موصوف کا رُخ دن کے اوقات میں افتخار عارف کے اُردو مرکز اور شام کو بش ہاؤس میں ہمارے بی بی سی کلب یا پاکستانیوں کے کسی نہ کسی ادبی یا سیاسی اجتماع کی طرف ہوتا  چنانچہ سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ایک شائستہ اطوار مصنف نے کہا: ”سمجھ میں نہیں آتا کہ میری کہانیوں کا مجموعہ سمجھیں یا انشائے لطیف کا نمونہ، اِسے تاریخ کے خانے میں رکھیں یا تنقید کے خانے میں“۔ اِس پر جلا وطن شاعر کی آواز گونجی: ’’اِسے تہہ خانے میں رکھیں۔“
 بابا بلھے شاہ کا کہنا ہے: ”منہ آئی بات نہ رہندی اے“۔ بظاہر خوش گفتار، خوش پوش اور خوش باش احمد فراز اِس معاملے میں دیدہ دلیری نہیں، ”دہن دلیری“ کی صلاحیت رکھتے تھے۔ مرحوم دانشور الطاف گوہر، جن کی علمیت کا احترام چند تحفظات کے باوجود تھرڈ ورلڈ کوارٹرلی اور ساؤتھ میگزین کی ادارت سنبھالنے سے پہلے بھی تھا، لندن یونیورسٹی ہی میں ایک شام تقریر کر رہے تھے: ”مَیں زندگی میں تین شخصیات سے متاثر ہوا ہوں۔ وہ ہیں دِینی علم میں سید ابوالاعلیٰ مودودی، قانون میں شیخ منظور قادر اور ادب میں فیض احمد فیض“۔ آواز آئی: ”آپ نے تینوں کے ساتھ فراڈ کیا ہے“۔ بی بی سی میں میرے سینئر ساتھی سید اطہر علی نے ہمیشہ کہا کہ یہ گولہ احمد فراز کی توپ نے داغا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اطہر صاحب کو سچ بولنے کی عادت تھی یا صرف وہ بات کہنے کی جسے وہ سچ سمجھ کر ڈٹ جائیں۔ بہر حال مَیں موقعے کا گواہ نہیں۔
 موقعے کا گواہ تو مَیں اب سے تیس بتیس سال پہلے کینیڈا کی میکگل یونیورسٹی میں بنا جہاں غالب کی یاد میں ایک بڑے سیمینار، محفل موسیقی اور مشاعرے کی تقریبات ہو رہی تھیں۔ بس مجھ سے بے احتیاطی ہو گئی اور احمد فراز کو پتا چل گیا کہ عبید صدیقی اور شاہد ملک کو جس متمول پاکستانی کنبے کے ساتھ رکھا گیا ہے اُن کے یہاں بعض ”داخلہ پالیسی اختلافات“ کے باعث دو روز سے باقاعدہ کھانا نہیں کھایا گیا۔ اوقات نامہ اور قیام گاہ کا محل وقوع ایسا تھا کہ ہماری غذائی ضرورت کو براہِ راست پورا کرنے کی نوبت تیسرے دن آئی جب کانفرنس ہال سے تمام شرکاء کو لنچ پر لے جایا گیا۔ یہ موبائل فون عام ہونے سے پہلے کا زمانہ تھا، اِس لیے ریستوران میں داخل ہوتے ہی خیال آیا کہ ٹیلی فون پر برطانیہ میں بال بچوں کو اپنی خیریت کی اطلاع دے دوں۔ یہ دیکھ کر احمد فراز نے میرے میزبان سمیت سب کے سامنے زور سے کہا: ”لندن فون کر رہے ہو، بیوی کو؟“  ”جی ہاں۔“ بولے ”کھانا منگوانے کے لیے؟“ 


 شرکاء محفل نے یہ مکالمہ سُن کر جو مزا لیا اُس سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ احمد فراز کا کلام اور بد کلامی یکساں طور پر پُر لطف ہیں۔ زیادہ خفت ضیاء الحق دَور میں گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی) کے فضل حسین تھیٹر میں ایک مذہبی تنظیم کے طالب علموں کو اُٹھانا پڑی تھی جنہوں نے اُردو کے اُستادعلی ظہیر منہاس کی غیررسمی دعوت پر ہمارے شاعر کی اچانک آمد پر ”مُنکر ِ رسول مردہ باد“ کے نعرے بلند کیے۔ فراز نے مائیک پر آتے ہی یہ کہہ کر سب کو چُپ کرا دیا کہ ”سب سے پہلے نعت ِ رسول مقبول صلی اللہ و آلہ وسلم پیش کرتا ہوں“۔ پھر وہی نعت سُنائی جس میں ہابیل اور قابیل کا ذکر تھا۔ در حقیقت اِس تخلیقی آدمی نے امکانی حد تک خود کو خانوں میں بانٹنے سے گریز کیا اور جس خلوص سے شعر کہے اُسی خلوص سے لوگوں پر فقرے بھی کسے۔ یہ سمجھنے کے لیے بس اتنی شرط ہے کہ آپ ہمارے تخلیق کار کے شعری مزاج کو اُس کے سبھی موسموں کے حوالے سے جانتے ہوں۔ فراز نے دل و دماغ کی بے انت کیفیتوں کا یہ اشارہ کچھ سوچ کر ہی دیا تھا کہ:
کبھی فراز، نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رفاقتیں کرنی! 

مزید :

رائے -کالم -