78 برس پرانے اراضی تنازع سے متعلق سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم

 78 برس پرانے اراضی تنازع سے متعلق سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
 لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے قبل کے 78 برس پرانے اراضی سے متعلق ایک کیس کا فیصلہ سنا دیا اراضی سے متعلق 78 برس پرانے تنازع کی سما عت جسٹس مزمل اختر شبیر اور جسٹس محمد اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی،فاضل بنچ نے اس کیس کا 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا جس کے مطابق 1944ء میں فضل محمود اور اسلم نامی افراد نے لائل پور(موجودہ فیصل آباد) میں 19 کنال اراضی دھنا سنگھ نامی شخص کو فروخت کی، دھنا سنگھ 1947 ء میں آزادی کے بعد بھارت چلا گیا۔ 1951ء میں فضل محمود کے بیٹے خالد محمود نے زمین فروخت کرنے پر اپنے والد اور دھنا سنگھ کیخلاف سول کورٹ میں دعویٰ دائر کردیا، سول عدالت نے دھنا سنگھ کے پیش نہ ہونے پر 1952 میں زمین کا فیصلہ خالد محمود کے حق میں دیدیا،1962ء میں زمین فروخت کرنیوالے دوسرے شخص اسلم کے بیٹے نجیب نے خالد محمود کے نام زمین کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست دیدی، جسے سول عدالت نے منظور کر لیا،بعد ازاں خالد محمود نے فیصلے کیخلاف اپیل کی جو مسترد ہو گئی، نجیب کے ورثاء نے 2018 ء میں سول عدالت کے فیصلے پر عمل کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست دیدی، اب عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ آزادی کے بعد پاکستان سے جانیوالے غیر مسلموں کی اراضی سینٹرل گورنمنٹ پاکستان کی ملکیت تھیں، خالد نے 1951ء میں بدنیتی پر مبنی دعویٰ سول کورٹ میں دائر کیا اور سینٹرل گورنمنٹ پاکستان کو فریق نہیں بنایا۔عدالت نے کہا سول کورٹ کا آرڈر غیر قانونی تھا، اراضی بنیا د ی طور پر وقف املاک بورڈ، حکومت پاکستان کی ہوچکی تھی، دونوں درخواست گزاروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں، عدالت نے سول کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور چیف سیٹلمنٹ کمشنر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) لاہور کو ہدایت کی کہ معاملے کو دیکھیں اور اس کے حوالے سے ضروری کارروائی کریں، 2 رکنی بینچ نے اپیل دائر کرنیوالے مرحوم نجیب اسلم کے وارثان پر بھی 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
فیصلہ کالعدم

مزید :

صفحہ آخر -