اُس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا، وہ باہر نکل کر خود کچھ کرنا چاہتا تھا

اُس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا، وہ باہر نکل کر خود کچھ کرنا چاہتا تھا
اُس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا، وہ باہر نکل کر خود کچھ کرنا چاہتا تھا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : اپٹون سنکلئیر
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
 قسط:122
 یورگس بعد میں پہنچا تو ڈوئین ” کمائی“ کا جائزہ لے رہا تھا۔ سونے کی گھڑی،ایک زنجیر اور لاکٹ کے علاوہ چاندی کی ایک پنسل، ایک ماچس، مٹھی بھر سکّے اور کارڈ باکس نکلا۔ ڈوئین نے جلدی سے اسے کھولا۔ اس میں کچھ خطوط، بنک کے چیک،تھیٹر کے دو ٹکٹ اور بلآخر، سب سے پیچھے نوٹوں کی ایک گَڈی تھی۔ انھوں نے نوٹ گنے تو 20 ڈالر کا ایک، 5 دس دس کے، 4 پانچ پانچ کے اور3 ایک ایک کے نوٹ تھے۔
مزید تلاشی کے بعد انھوں نے نوٹوں کے علاوہ کارڈ باکس کی سب چیزیں، بشمول لاکٹ میں لگی ایک ننھی لڑکی کی تصویر کے، نذرِ آتش کر دیں۔ ڈوئین گھڑی اور دوسری اشیاءلے کر گیا اور تھوڑی دیر بعد 16 ڈالر لے کر آگیا۔ ” بوڑھا بدمعاش کَہہ رہا تھا کہ باکس اتنا اعلیٰ قسم کا نہیں ہے۔ “ ڈوئین نے بتایا” لیکن پھر بھی اس نے پیسے دیدئیے۔ “ 
انھوں نے رقم تقسیم کی تو یورگس کے حصے میں 55 ڈالر اور کچھ سِکّے آئے۔ اس نے احتجاج کیا کہ یہ بہت زیادہ پیسے ہیں لیکن ڈوئین انھیں برابر برابر تقسیم کرنے پر بضد رہا۔ ڈوئین کا خیال تھا کہ اچھا ہاتھ پڑا ہے، عموماً ایسا نہیں ہوتا۔
صبح جاگے تو یورگس کو اخبار خریدنے بھیجا گیا۔ جرائم کی زندگی کا ایک لطف بعد میںجرم کے متعلق پڑھنا ہوتا ہے۔ ” میرا ایک یار تھا وہ ہمیشہ ایسا کرتا تھا۔“ ڈوئین نے ہنستے ہوئے اسے بتایا ” لیکن پھر اس نے اخبار پڑھنا چھوڑ دیا کیوں کہ خبر سے پتا چلا کہ اس کے شکار کی واسکٹ کی اندرونی جیب میں تین ہزار ڈالر تھے جن کا اسے علم نہیں ہوسکا تھا! “ 
اخبار میں آدھا کالم لوٹ مار کی خبروں کا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ اس علاقے میں کوئی گینگ وارداتیں کر رہا تھا۔ یہ ایک ہفتے میں تیسرا واقعہ تھا اور پولیس بالکل بے بس تھی۔ لُٹنے والا آدمی ایک بیمہ ایجنٹ تھا اور اس کے پاس110 ڈالر تھے جو اس کے ذاتی نہیں تھے۔اس کی قمیص پر اس کا نام درج تھا ورنہ اس کی پہچان بھی مشکل سے ہوتی۔ حمہ آور نے اس کے سر پر شدید چوٹ لگائی تھی جس سے اس کے دماغ کو نقصان پہنچا تھا۔ جب وہ لوگوں کو ملا تب تک وہ سردی سے جم چکا تھا جس کی وجہ سے اس کے دائیں ہاتھ کی 3 انگلیاں بھی کاٹنا پڑی تھیں۔ اخبار کے صحافی نے تفصیل سے لکھا تھا کہ کس طرح اس کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی اور ان کا کیا ردِ عمل ہوا۔
چوں کہ یہ یورگس کا پہلا موقع تھا اس لیے وہ ان تفصیلات سے پریشان ہو گیا لیکن ڈوئین بے رحمی سے ہنستا رہا۔ اس کھیل میں تو یہی کچھ ہوتا ہے، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ یورگس جلد ہی اس کا عادی ہوجائے گا جس طرح یارڈز میںوہ بیلوں کو ذبح کیا کرتا تھا ۔ ” اب یہ تو ہمارا اور دوسرے آدمی کا مقابلہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں ہی جیتوں دوسرا نہیں۔“
” لیکن، “ یورگس نے سوچتے ہوئے کہا، ”اس نے ہمیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا تھا ۔“
” اس کا تم یقین رکھو کہ وہ ہمیں نہ سہی کسی دوسرے کوضرور نقصان پہنچارہا ہوگا۔“ڈوئین نے جواب دیا۔ 
ڈوئین نے اسے سمجھایا کہ اس پیشے میں اگر کوئی آدمی مشہور ہوجائے یا پہچانا جانے لگے تو اسے پولیس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے دن رات کام کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یورگس کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ چھپ کر رہے اور کبھی عام جگہوں پر نظر نہ آئے۔ دو ایک ہفتوں میں یورگس کی صحت بہتر ہو گئی۔ اب اس کا بازو بھی کچھ کچھ کام کرنے لگا تھا۔ اس سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا، وہ باہر نکل کر خود کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس دوران ڈوئین نے کوئی ہاتھ مارا تھا اور افسروں سے بھی لین دین کر لیاتھا۔ ایک بار وہ اپنی فرانسیسی دوست میری کو بھی وہاں لایا تھا تاکہ یورگس کے ساتھ مل کر مزہ کر سکے لیکن وہ یورگس کو پوشیدہ رہنے پر مائل نہیں کر سکا اور بلآخر اسے ہتھیار ڈالنا پڑے اور یورگس کو باہر لے جاکر مختلف سیلونز اور ” سپورٹنگ ہاؤسز“ پر متعارف کروانا پڑاجہاں اس پیشے کے بڑے بڑے جغادری اٹھتے بیٹھتے تھے۔( جاری ہے ) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -