بڑے شہروں کے تمدن کا صوبائی روپ

بڑے شہروں کے تمدن کا صوبائی روپ
بڑے شہروں کے تمدن کا صوبائی روپ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر
ترجمہ:زبیر رضوی
قسط:30
بلاشبہ وقت آنے پر کچھ اور ایسی ساختیں یا قسمیں مل سکیں گی جو سندھ تہذیب کی صوبائی یا بعد والے انواع کی نشاندہی کرتی ہوں۔ دریں اثنا ”سندھ“ لفظ کے استعمال میں احتیاط برتنے کی پھر تاکید کر دینا ٹھیک ہوگا۔
 اس شرط کے ساتھ اب سوراشٹر (کاٹھیاوارڈ) میں اور اس سے بھی آگے جنوب کی طرف سندھ کی تہذیب کی ایک بعد والی اور ارتقا ءپذیر شاخ کی شناخت کرنا ممکن ہورہا ہے۔ شاید اس میں مقامی تبدیلیاں ہوئیں اور اس کا عہد آگے 1600 قبل مسیح کی طرف بڑھا۔ میں نے اس شاخ کے لیے خصوصی نام ”سوراشٹری‘ سندھی“ تجویز کیا ہے۔
تاحال ان سوراشٹری مقامات میں سب سے زیادہ معروف لوتھل ہے۔ اس کی سیدھی گلیاں‘ نالیاں‘ غلہ گودام اور چبوترہ اور آبادکاری کے6 دَور پائے گئے ہیں۔ ایس آر راﺅ نے اس مقام کی بہت اچھی طرح سے کھدائی کروائی ہے۔ سنگ صابون کی متعدد مہریں اور کچھ مٹی کے برتن اسے خالص ”سندھ“ کا مقام عطا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کے مٹی کے برتنوں کی سجاوٹ‘ پرندوں‘ بکری جیسے چوپایوں اور پیڑوں کے نمونوں کی پٹیوں تک محدود ہوگئی ہے۔ اس سجاوٹ کا تعلق سندھ کی نسبت وسط ہند (مالوہ اور نربدا کے علاقے) کے تانبے اور پیتل پر کندہ کچھ نمونوں سے زیادہ ہے۔ یہاں کچھ نئی ساخت کی چیزیں بھی ملتی ہیں جو سندھ میں نہیں پائی جاتیں‘ ان کی مثال سٹڈبٹن جیسے دستے والا برتن ہے جس کا ایک خصوصی نمونہ بن جانے کا امکان ہے۔ ان سب سے بھی زیادہ اہم وہ کالے‘ لال مٹی کے برتن (Black and Red-ware) ہیں جو سندھ اور نیم سندھ ساختوں کے ساتھ لگاتار پائے جاتے ہیں‘ اگرچہ ان سے گھٹیا درجے کے ہیں۔ الٹا کرکے پکائے جانے کی وجہ سے رنگ میں یکسانیت نہیں ہے۔ مٹی کے برتن پکانے کا یہ طریقہ ہند میں اور اس کے باہر دُور دُور کے علاقوں میں اور بہت لمبے عرصے تک استعمال ہوتا رہا ہے۔ کہیں کہیں ان برتنوں پر سفید لکیروں اور بندیوں سے سجاوٹ کی گئی ہے جو نفیس نہیں ہے۔ اس بارے میں بہت کم شبہ رہ گیا ہے کہ ان برتنوں سے ہی ان کالے لال مٹی کے برتنوں کی ساخت کا آغاز ہوا جو قبل مسیح پہلے ہزار سالہ قرن کے دوسرے نصف حصے میں وسطی اور جنوبی ہند کے بڑے پتھروں کی یادگاروں والے تمدن میں لگاتار موجود ہے۔
یہ آثار صرف لوٹھل میں مہیا ملے ہیں۔ مزید شمال کی طرف راج کوٹ کے قریب روجڈی میں ایک اور نیم تہذیبِ سندھ کا مقام ہے۔ اس کی تصدیق ایک چیز پر متضاد رنگوں کے استعمال سے کندہ سندھ ہی سے ہوتی ہے۔ یہاں سبھی نیم سندھ ساخت کے برتنوں کے ساتھ ساتھ کالے لال مٹی کے برتن ملے ہیں۔ لوٹھل سے30 میل دور رنگ پور میں جی ریک ”بعد والے“ سندھ تمدن کے نمونوں کے ساتھ ساتھ یہ کالے لال برتن پائے گئے ہیں۔ یہ بعد والے سندھ تمدن کی برتنوں کی ساخت خود ”چمکیلے لال برتنوں“ کی (صنعت کی) صورت میں ترقی پذیر ہوئی جو سندھ کی وادی سے ایک دم مختلف تھی۔ کسی نہ کسی شکل میں سوراشٹری‘ سندھی میں تہذیب بڑے شہروں کے تمدن کا ایک صوبائی روپ تھا۔ اس میں مقامی کاوش کا عنصر موجود تھا جس کی مقدار کا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اس کا جھکاﺅ وسطی اور جنوبی ہند کی طرف تھا۔
ظاہر ہے کہ اس بارے میں محض قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے کہ یہ اور ہڑپہ تمدن کے دوسرے مقامات اس قدر جنوب کی طرف کھمبات کی خلیج تک کیسے وجود میں آئے۔ اس بات کی مجموعی شہادت موجود ہے کہ ان کا قیام اسی وقت ہوا جب تہذیب سندھ اپنے نام والے مرکزی علاقے میں مضبوطی سے قائم ہوچکی تھی۔( جاری ہے )
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -