”میں پاکستان میں ہی موجود ہوں“

”میں پاکستان میں ہی موجود ہوں“
”میں پاکستان میں ہی موجود ہوں“

  



کل تک میں عوام کو خبریں دیتا تھا آج میں خود خبر بن گیا ہوں کیا تبدیلی آئی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ میں نے کچھ ماہ پہلے غیر اخلاقی رپورٹنگ کے متعلق ایک کالم لکھا تھا اس وقت میں یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ میں خود اس کا سب سے نامی گرامی شکار بن جاﺅں گا اور میڈیا انتہائی سرعت رفتاری سے اس مہم میں شامل بھی ہو جائے گا۔

ملک ریاض کے انٹرویو میں جو کچھ ہوا وہ لوگ جانتے ہیں میرا اندازہ ہے کہ لاکھوں افراد نے اس ویڈیو کو دیکھا ہے اور اس پر رائے زنی بھی کی ہے لاکھوں افراد اب بھی اسے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن میں نے اسے نہیں دیکھا یہ بالکل درست بات ہے کیونکہ میں نے افسردگی کے عالم میں نہ تو ٹی وی کا مشاہدہ کیا ہے اور نہ ہی اخبارات کا مطالعہ کیا ہے۔ میں چند مواقع پر میڈیا سے دور ہی رہا تاہم میرے خاندان کے لوگوں اور دوستوں نے مجھے اس دوران ہونیوالے واقعات سے آگاہ کیا اس صورتحال پر سب سے بہترین تبصرہ امریکہ کی ایک خاتون کا تھا انہوں نے کچھ اس انداز میں رائے زنی کی میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ جن لوگوں نے کرپٹ سیاستدانوں کے حق میں ووٹ دئیے وہ اتنے سخت انداز میں چیخ و پکار کریں گے اور تضحیک آمیز خوف پھیلاتے ہوئے ایک ٹی وی شو کی اس انداز میں نشاندہی کریں گے جبکہ انہوں نے خود بدترین کرپشن میں ووٹ دیئے ہیں ہو سکتا ہے کہ یہ منصفانہ تبصرہ نہ ہو لیکن نفرت انگیز اور تحقیر آمیز تبصروں کے ہجوم میں یہ ریمارکس کسی حد تک میری تشفی کا باعث بنے۔

اس کہانی کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان تمام نام نہاد صحافیوں نے ایک مرتبہ بھی میرا نقطہ نظر جاننے کی کوشش نہ کی جو ہمیں صحافت کی اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، حالانکہ غیر جانبداری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ ضروری تھا۔

میں نے اسی ذریعے سے خود اپنا موقف بیان کیا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ یہ میرے خاندان، میرے بچوں اور سب سے بڑھ کر میرے ناظرین کا یہ مجھ پر قرض تھا میں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا پابند تھا۔کیونکہ وہ اتنے سالوں سے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے میرے خیالات سے مستفید ہوتے تھے۔

وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ ہر صدمہ اور نقصان آپ کو بہتر انسان بناتا ہے مجھے یہ یقین نہیں کہ کیا انسان اتنی بڑی قیمت پر عظیم شخصیت بننے کا متمنی ہوتا ہے، جو چیز مجھے مضطرب کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی طرح غلط تاثر دینے کیلئے سکرین پر چلنے والی ویڈیو اور بعد میں بننے والی ویڈیو میں تبدیلی کر کے اسے یکجا کیا گیا، ظاہر ہے کہ اب اس کی اتنی اہمیت نہیں کیونکہ کچھ لوگ اس واقعہ کے متعلق اپنا ذہن بنا چکے ہیں جبکہ کئی دوسرے لوگ اس لطیف فرق کو اہمیت دینے سے قاصر ہیں علاوہ ازیں آرٹیکلز اور تبصروں کا ایک اژدھام تھا جس میں ایک ایسے چور کی تعریف و توصیف کی جا رہی تھی جس نے یہ فوٹیج چرا کر اسے یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا، میں اس عظیم مقصد کا احترام کرتا ہوں لیکن کسی بھی مقصد کے لئے چوری کا کس طرح جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟ بدقسمتی سے میں اب بھی اس مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہیں جو مجھے چوروں اور ڈاکوﺅں سے اغماض برتنے کی اجازت نہیں دیتا۔

جب میں نے یو ٹیوب پر اپنا موقف بیان کیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کچھ تفتیشی نوعیت کے سوالات پوچھے اب تک کسی نے ان کا جواب نہیں دیا اور نہ ہی میرے چیلنج کو قبول کیا ہے۔ کچھ ٹی وی اینکرز نے خود گھڑی ہوئی بلکہ اس کو اصل گفتگو دکھانے میں کامیابی حاصل کی اس کا خود ان کے اپنے شور میں ظاہر ہونے والے واقعات سے تقابل نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی صحافی جس نے اس شعبہ میں کچھ سال گذارے ہیں وہ اس حقیقت کی تائید کرے گا کہ یہ کوئی غیر معمولی یا غیر اخلاقی بات نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس دن کی خاص الخاص خبر کو سال کا سب سے بڑا سکینڈل بنا کر پیش کیا گیا۔غلط تاثر دینے کیلئے فقروں میں کاٹ چھانٹ کی گئی ایک بے ضرر فون کال کو وفاقی حکومت کی طرف سے ہدایات کی صورت میں پیش کیا گیا جبکہ مخالفت میں ایک تفصیلی ٹیکسٹ میسیج کو بچے کا تبصرہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا گیا کیونکہ یہ ان کی ذہنی مطابقت کے مطابق تھا۔

جو حقائق اس روز آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آئے وہ ایسی کہانی ہے جو یقینا میں بیان کروں گا لیکن اس سے پہلے میں یہ واضح کروں گا کہ کس طرح شاپنگ سنٹرز میں میرے بچوں کو ہراساں کیا گیا، میرے دوستوں کا تمسخر اڑایا گیا اور میرے ناقدین کس طرح شرمندگی میں ڈوب گئے کچھ وقت کیلئے تو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پوری دنیا منہدم ہو جائے گی۔ اگر میرا خدا پر یقین نہ ہوتا اور میرے دوست مجھ سے تعاون نہ کرتے اور اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے طاقت مہیا نہ کرتے تو میں اس حالت سے نکلنے میں کامیاب نہ ہوتا جس میں مجھے جبراً مبتلا کر دیا گیا تھا۔ میں اب بھی یقین کرتا ہوں کہ یہ ایشو غیر منصفانہ انداز میں ابھارا گیا جس کی حقائق کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں تھی۔ اور میرے ساتھیوں سے یہ بھی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا کہ کہاں سے کہانی شروع کی جائے۔ میں اپنی ذمہ داری کا بوجھ دوسروں پر نہیں ڈال رہا کیونکہ اب اس واقعہ کے کسی پہلو کی بھی میرے لئے اہمیت نہیں لیکن اس کہانی نے مجھ پر ایسے گہرے گھاﺅ لگائے ہیں۔ جن کا درد آنے والے سالوں میں بھی مجھے تڑپاتا رہے گا۔

اس سے پہلے کہ میں ملک ریاض کے انٹرویو کے متعلق کچھ حقائق بیان کروں میں ان نام نہاد مﺅقر اخبارات کو یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں جو صفحہ اول پر یہ خبریں چھاپتے ہیں کہ میں ملک سے بھاگ گیا ہوں جو کہ غلط ہے اور سچ یہ ہے کہ میں یہیں موجود ہوں۔( جاری ہے)

مزید : کالم