ماحولیاتی تبدیلیاں: ماہر ماحولیات کی نظر میں

ماحولیاتی تبدیلیاں: ماہر ماحولیات کی نظر میں
ماحولیاتی تبدیلیاں: ماہر ماحولیات کی نظر میں

  

موسم کی تبدیلیوں کے حوالے سے بین الحکومتی پینل پر کام کرنے والے سائنس دانوں کو اس بات کا یقین ہے: قدیم ایندھنوں کے استعمال سے ہم اپنے ماحول اور مستقبل کو تباہ و برباد کر رہے ہیں، ہمارے پاس ایک آخری موقع ہے، ہمیں بتایا گیا ہمیں جلد ہی جدید صنعتی معاشرے کے بارے میں ازسر نو غور کرنا ہو گا۔ اگرچہ یہ ایک دشوار عمل ہو گا، لیکن ایسا کرنا ایک اچھے مقصد کے لئے ہو گا۔ بہت سال تک مَیں بین الحکومتی پینل پرکام کرنے والوں اور ان کی کاربن ڈائی آکسائیڈ تھیوری کا بڑا پُرجوش حامی رہا۔ میرا حالیہ تجربہ جس میں مَیں نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پینل کے ساتھ کام کیا، نے مجھے مجبور کیا کہ مَیں ازسر نو اپنی پوزیشن کو واضح کروں۔ فروری 2010ءمیں مجھے بین الحکومتی پینل کی قابل تجدید توانائی کے بارے میں رپورٹ کا تجزیہ کرنے کے لئے بلایا گیا۔ مجھے یہ محسوس ہوا کہ رپورٹ کو تیار کرنے میں ہر چیز کو مدنظر رکھا گیا۔ ماسوائے سائنسی طریقہ کار کے۔ رپورٹ غلطیوں سے بھری ہوئی تھی اور سبز امن کے ممبران نے اس کو مکمل کر کے اس کی غلطیوں کو دُور کیا۔ ان چیزوں نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔ مَیں نے سوچا کہ اگر اس طرح کی چیزیں اس رپورٹ کے حوالے سے وقوع پذیر ہو سکتی ہیں، تو بین الحکومتی پینل کی دوسری رپورٹوں کا کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

حقائق کو بار بار پرکھنے کے لئے اچھی خاصی مشق درکار ہوتی ہے۔ آخر کار ارضی سائنس دانوںنے صنعتی ترقی سے قبل موجودہ ماحول کا جائزہ لے لیا ہے اور ایسا انہوں نے10000سال کے ماحول کا جائزہ لے کر کیا ہے اس کی بدولت قدرتی ماحول کے دعوے دار تنہا ہو جاتے ہیں۔ بین الحکومتی پینل کے مطابق قدرتی حالات آج کل کے ماحول کے حوالے سے شاید ہی کوئی کردار ادا کرتے ہوں۔ اس لئے ہم اس بات کی توقع کر سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تاریخ بہت سیدھی سادی اور بے کیف ہو گی۔ یہ اس چیز سے بہت دُور ہے، جتنی حقیقتاً وہ نظر آتی ہے، برف کی چٹانوں سے سخت چیزیں،پتھر، درختوں کے دائرے، سمندر اور جھیلیں سائنسی انداز میں درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ سے کچھ زائد اضافہ کر سکتے ہیں۔10000سال کے دائرے میں گرم اور ٹھنڈے حصے متبادل کے طور پرکام کرتے رہے ہیں، اس میں3000سال قبل کا منوان گرم حصہ اور 2000سال قبل کا رومن گرم حصہ بھی شامل۔10000سال قبل کے درمیانی گرم حصے میں گرین لینڈ کا جنم ہوا اور برطانیہ میں شراب کے لئے انگور پیدا ہوئے، برفانی دور جو15ویں صدی سے19ویں صدی کے درمیان تھوڑے عرصے کے لئے تھا۔ یہ تمام چیزیں اس سے قبل ہوئیں، جبکہ انسان نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بنایا۔

 ماحول کی ازسر نو تعمیر کی بنیاد پر جو کہ بحراوقیانوس کی گہرائی سے تلچھٹ کی چٹانوں تک ہے۔ پروفیسر گیراڈ بونڈ نے دریافت کیا ہے کہ ہزار سالہ ماحولیاتی چکر شمسی چکر کے متوازی تیزی سے چل رہا ہے جس میں ایڈی چکر بھی شامل ہے،جس کے بارے میں غالب امکان یہی ہے کہ یہ1000سال طویل ہے، تو پس یقینا یہ سوج رہی ہے جو کہ درجہ حرارت کو تشکیل دیتاہے اور گزشتہ دس ہزار سال کے دوران یہ ایک چکر کی مانند چلتا رہا ہے، لیکن پھر کوئلہ، تیل اور گیس آ گئے اور ایسا 1850ءسے اب تک ہو رہا ہے، انسان نے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑی تعداد کو فضاءمیں بھیج دیا اور آج فضاءمیں Co2 کا تناسب0.039 ہے، جبکہ ماضی میں یہ0.028فیصد تھا اور ایسا ہمارے تجرباتی طور پر ثابت شدہ قدرتی صنعتی نظام سے قبل تھا تاہم ہم اس بات کی پیش گوئی کرتے ہیں کہ شمسی کارروائیاں 1850ءکے بعد بڑھ گئی ہیں اور ایسا کم و بیش درجہ حرارت کے بڑھنے کے متوازی ہی ہے۔ درحقیقت درجہ حرارت کے بڑھنے کاوقت اور اس کی تعداد (جو کہ ایک سینٹی گریڈ تک بڑھا ہے) اس کے قدرتی عمل کے قریب ہی ہے۔ شمسی مقناطیسی میدان گزشتہ100سال کے دوران دو گنا سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔

یاد رکھئے یہاں پر ماحول کو ماپنے کے تین پیمانے ہیں،جو ایک ساتھ آگے جاتے ہیں۔ شمسی عمل، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور درجہ حرارت جدید ماحول کو سٹری کلوین اور قدرتی مراحل دونوں طریقوں سے چلایا جا رہا ہے۔ اس لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ بغیر کسی شک و شبے کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ کتنا؟

ابھی تک بین الحکومتی پینل کے کمپیوٹرز کے مطابق شمسی قوت نظر انداز کئے جانے کے قابل ہے، جس کو ایک ایسے میکانزم کی ضرورت ہے، جو مشاہداتی درجہ حرارت کی تبدیلیوں کی وضاحت کر سکے۔ ڈنمارک کے ایک ماہر طبیعات ہیزک سیونز مارک نے ایک بہت اچھا نمونہ تیار کیا ہے، لیکن ابھی اس پر تحقیق جاری ہے، چاہے اس میکانزم کو اس وقت سمجھا گیا ہے یا نہیں، لیکن بین الحکومتی پینل تاریخ بتانے کے قابل نہیں۔ اگر یہ ماڈل ماضی میں اس قدر ڈرامائی انداز میں ناکام ہوتے رہے، ہمیں تو وہ مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کرنے کے قابل کس طرح ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں ہے کہ اب تک کی محدود معلومات کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایک مضبوط ایمپلائی فائر کی ضرورت ہو گی۔ اگر مستقبل کے ماحول کو جیسا کہ بین الحکومتی پینل کی تجویز ہے، تشکیل دینا ہو گا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ تنہا 1.1 سینٹی گریڈ کے معمولی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ بین الحکومتی پینل نے اپنے نمونوں میں یہ فرض کر لیا ہے کہ ایمپلی فیکشن کا عمل بہت مضبوط ہے۔

گزشتہ دس سال کے دوران شمسی مقناطیسی میدان پچھلے150سال کم کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ آنے والے عشروں کی کم شدت کے حوالے سے پیش گوئی کر رہا ہے، جو کہ عالمی درجہ حرارت کو روکنے کو مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور ایسا مزید کچھ عرصے کے لئے بھی ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ2030ءیا 2040ءتک یہ بتدریج معمول پر آ جائے، ماضی کے قدرتی ماحولیاتی انداز کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات کی امید کرنی چاہئے کہ2100ءتک درجہ حرارت میں ایک ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ نہ ہو گا۔ سائنسی طریقہ کار کے مطابق یہ ان اندازوں سے کم ہے جو کہ بین الحکومتی پینل سے لگائے ہیں۔ ماحولیاتی تباہی کو واپس لیا جا سکتا ہے اور خطرناک حد تک زیادہ حرارت پذیر سیارے نسبتاً ٹھنڈا ہو سکتا ہے اور ایسا ہونا ایک تاریخی سائنسی غلطی کی صورت میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ متبادل اب ماحولیاتی حرارت میں اضافے کی تباہی اور معاشی بڑھوتری کے درمیان واقع ہے، لیکن ہمیں معاشی تباہی اور ماحولیاتی سمجھ کے مابین فرق کو ملحوظ حاضر رکھنا ہو گا۔

(بشکریہ: ”ڈیلی ٹیلی گراف“....ترجمہ:وقاص سعد)

مزید :

کالم -