معاملات ایسے نہیں چل سکتے

معاملات ایسے نہیں چل سکتے
معاملات ایسے نہیں چل سکتے

  



مالی سال2013-14ءکا بجٹ قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا، عوامی احتجاج کو پس پشت ڈالتے ہوئے حکومت نے جنرل سیلز ٹیکس میں اضافے پر نظرثانی کرنا گوارا نہ کیا، اِس لئے یہ17فیصد کی شرح سے ہی نافذ العمل ہو گا۔ اگرچہ بجٹ کی سینٹ سے منظوری باقی ہے، لیکن اِس میں لگائے گئے ٹیکسوں کے اثرات مہنگائی کے طوفان کی صورت میں عوام الناس کے سامنے آ چکے۔ موبائل فون کمپنیاں گزشتہ کئی روز سے ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے اپنے صارفین کو خبردار کئے جا رہی ہیں کہ وہ یکم جولائی2013ءسے موبائل فون کارڈز پر لگائے گئے ٹیکس (وڈ ہولڈنگ ٹیکس) کی بدولت نئی کٹوتی کے لئے تیار رہیں۔ شنید ہے کہ100روپے کے کارڈ پر اب عوام الناس کو محض58روپے کا بیلنس میسر ہو سکے گا۔ دور ِ جدید میں موبائل فون کوئی پُرتعیش شے نہیں رہی کہ جس پر تھوک کے حساب سے ٹیکس نافذ کر دیا جائے۔ یہ عامیوں کے استعمال کی شے ہے، جسے وہ اپنے روز مرہ کے معاملات میں آسانیوں کے حصول کے لئے استعمال کرتے تھے لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ عوام الناس کے لئے اب اس کا استعمال بھی ممنوع ہو جائے گا۔ دوسری جانب اشرافیہ کی اکثریت (تقریباً95فیصد) کارڈ کے ذریعے موبائل فون استعمال نہیں کرتی، بلکہ اس کے پوسٹ پیڈ پیکیج ہوتے ہیں، جن کا بل زمینی ٹیلیفون کی مانند ماہانہ بنیادوں پر ادا ہوتا ہے اور ان پیکیجز کی بدولت موبائل فون کمپنیاں ان پوسٹ پیڈ صارفین کو مہینے میں کال اور ایس ایم ایس کرنے کے لئے ہزاروں منٹ اور ٹیکسٹ میسجز دیتی ہیں۔ موبائل فون پر عائد موجودہ ٹیکس سے طبقہ اشرافیہ تو متاثر نہیں ہو گا ،کیونکہ اس کے پوسٹ پیڈ پیکیجز کو اس ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو گا، لیکن عوام کی نمائندہ حکومت نے 20،50اور 100 روپے کا بیلنس ڈلوانے والے غرباءکو اس سہولت سے محروم کر دیا ہے کہ وہ زیادہ دیر اپنے عزیزوں اور دوستوں سے بات کر سکیں۔

ٹیکس اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، دُنیا کے جس ملک میں بھی ٹیکس وصولی کا بہتر نظام نافذ العمل ہے اس کی معیشت نہ صرف مضبوط ہے بلکہ یہ ریاست کو فلاحی ریاست بنانے میں بھی معاون ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ15.755ٹریلین ڈالر کے ساتھ دُنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جہاں فی کس اوسط آمدن49197ڈالر سالانہ ہے، باوجود اس کے کہ 321141497 نفوس پر مشتمل امریکہ آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے دور دراز علاقوں میں عوام الناس کے لئے وہ سہولیات باہم پہنچائی گئی ہیں، جن کا تیسری دُنیا کے بڑے شہروں میں بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا سرخیل ہونے کے باوجود امریکہ نے خود کو اس نظام کے اثرات بد سے محفوظ رکھا، جس کی بنیادی وجہ طبقہ اشرافیہ پر بھاری ٹیکس عائد کر کے انہیں عوام الناس کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ارب پتیوں میں سے کئی معروف نام فرانس، جرمنی اور یورپ کے دیگر ملکوں میں رہائش پذیر ہیں، کیونکہ وہاں انہیں نسبتاً کم ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔

مسلم لیگ(ن) سے متعلق عمومی تاثر یہی رہا ہے کہ یہ صنعتکاروں اور تاجروں کے مفادات کا بطور خاص خیال رکھنے کی کوشش کرتی ہے، کیونکہ اس کے ووٹ بینک کی اکثریت انہی طبقات پر مشتمل ہے، ملک کے مانچسٹر فیصل آباد میں حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کا کلین سویپ صنعتکاروں اور تاجروں کی بھرپور کاوشوں کی بدولت ہی ممکن ہو پایا، لیکن ملک کے دوسرے طبقات بالخصوص سرکاری ملازمین ہر دور میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں سے نالاں دکھائی دیئے، اس کے برعکس پاکستان پیپلزپارٹی نے ہر دور میں چھوٹے اور پسے ہوئے طبقات کے مفادات کا خیال رکھنے کی کوشش کی۔

2008ءسے2013ءکے دوران قائم رہنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت نے ہر بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا حتیٰ کہ ایک بجٹ میں(غالباً 2011ءمیں) تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ بھی ہوا، جبکہ مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی اور10فیصد اضافہ بھی اس نے ملازمین کے احتجاج کے بعد کیا۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر ہر دور میں یہ الزام بھی عائد ہوتا رہا کہ یہ گزشتہ ادوار میں شروع کئے گئے منصوبے یکلخت ختم کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر چودھری پرویز الٰہی کے دور میں ہزاروں گریجویٹ نوجوانوں کو ٹریفک پولیس میں بطور وارڈن ملازمت دی گئی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنے گزشتہ دور(2008-13ئ) میں بھی اس فورس کے لئے فنڈز دینے سے انکار کر دیا تھا۔ (اگرچہ بادل ناخواستہ جاری کرنے پڑے) اور اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ ٹریفک پولیس کی نجکاری کی جائے گی۔ نجکاری کی وجہ اگر بدعنوانی ہے تو پھر پنجاب پولیس کی بھی نجکاری کر دی جائے جو کہ ٹریفک پولیس کے مقابلے میں کئی ہزار گنا زیادہ بدعنوان ہے اِسی طرح وزیر آباد میں قائم کارڈیالوجی سنٹر کے لئے بھی فنڈز اِس لئے نہیں جاری کئے جا رہے کہ اس کا افتتاح بھی پرویز الٰہی کے دورمیں ہوا تھا اور موجودہ حکمرانوں کو یہ کسی صورت گوارہ نہیں کہ اُن کے سیاسی مخالفین کی جانب سے شروع کئے گئے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ پائیں چاہے اس کے لئے عوام کا کتنا ہی نقصان ہو جائے۔

موجودہ حکمرنوں کو اخراجات بچانے کے لئے سرکاری ملازمتوں پر پابندی کا بھی شوق رہا ہے، جو کسی طرح بھی مستحسن قدم نہیں۔ شہباز شریف نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت (2008-13ئ) کے دوران پروونشل مینجمنٹ سروسز (PMS) کا امتحان محض دو بار منعقد کروایا، حالانکہ یہ امتحان ماضی میں ہر سال ہوتا تھا۔ پنجاب اور وفاق کے بہت سے محکموں میں ہزاروں آسامیاں خالی پڑی ہیں، جن پر افسران کا تقرر نہ ہونے سے عوام الناس کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وہ ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان جو میرٹ کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں اور مقابلے کا امتحان دے کر اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہونے کے خواہش مند ہیں ، بھی سخت مایوسی کا شکار ہیں۔ حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ایسے بھونڈے اقدامات کے ذریعے اتنی بچت نہیں کی جا سکتی کہ آن واحد میں1651ارب روپے کا بجٹ خسارہ ختم ہو جائے، بلکہ ایسے اقدامات حکومت کو عوام الناس کی نظروں میں غیر مقبول بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں اِس لئے معیشت کی بحالی کے لئے سارا کا سارا بوجھ عام آدمی پر ڈالنے کی بجائے ٹیکسوں کا دائرہ کار اشرافیہ کی جانب بڑھایا جائے وگرنہ جو حکومت اپنے ابتدائی دنوں میں ہی ہی غیر مقبولیت کی طرف بڑھنے لگے اس کے بہتر مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔  ٭

مزید : کالم