فیصل آباد پولیس فرض شناسی کی ٹھان لے تو کوئی ثانی نہیں‘پٹڑی سے اتر جائے تو پھر۔۔۔۔۔

فیصل آباد پولیس فرض شناسی کی ٹھان لے تو کوئی ثانی نہیں‘پٹڑی سے اتر جائے تو ...
فیصل آباد پولیس فرض شناسی کی ٹھان لے تو کوئی ثانی نہیں‘پٹڑی سے اتر جائے تو پھر۔۔۔۔۔

  



فیصل آباد پولیس جب فرض شناسی کی ٹھان لیتی ہے توپھر بڑے بڑے خطرناک جرائم پیشہ عناصر کے سرقانون کے آگے جھکادیتی ہے ۔اورجوقانون سے سرکشی کرنے پرتل جاتے ہیں ‘مقابلے پر آجاتے ہیں ‘ہتھکڑی لگانے والوں پر گولیاں برسانے لگتے ہیں توپھرقانون کے ان باغیوں کے گرد گھیراتنگ کردیتی ہے ۔وہ کوئی دیمی ہویازلفی۔وہ کوئی راناعمران ہویااشتیاق کتی‘وہ کوئی شادالوہارہویاقاسو چٹھہ۔اغوائے برائے تاوان والے ہوں یا بھتہ خور۔وہ دہشت گردہوں یا سفاک قاتل۔وہ کوئی منہ زورڈاکو ہوںیاجگاٹیکس لینے والے۔فیصل آباد پولیس کی تاریخ گواہ ہے جب وہ کسی بات پر تُل گئی توکوئی بھی اس کے سامنے نہیں ٹھہرسکا۔دہشت گردی اورخوف وہراس پھیلانےو الے وہ خطرناک نام اب قصہ ماضی بن چکے ہیں ۔جس ایس ایس پی ۔جس ڈی پی او ۔جس سی پی او۔ جس آر پی او نے فیصل آباد پولیس کے مزاج اوران سے کام لینے کاطریقہ سمجھ لیاوہ سرخروہوکریہاں سے گیا اورجو نہ سمجھ سکا اس نے کئی سرکش ایس ایچ اوز‘تھانیدار‘کانسٹیبل ہتھکڑیاں لگواکرجیلوں میں بھی بندکرادیئے بڑی تعداد ملازمتوں سے برخاست بھی کردی بہت سی معطلیاں بھی کردیں‘ہرطرح کی سختی کرکے دیکھ لی لیکن نہ جرائم میں کمی ہوئی نہ پولیس کی ڈیلنگ ٹھیک ہوئی‘بلکہ کئی ایک بدمزگیاں بھی ہوئیں‘بند گلی میں دھکیلے ہوئے بعض ایس ایچ او زتو نکلنے کاراستہ نہ پاکر اپنے افسروں سے اُلجھ بھی پڑے اورکارکردگی زیروپوائنٹ کی طرف ہی سفرکرتی رہی۔چوہدری محمدافتخار‘مہرظفرعباس لک‘کیپٹن (ر)محمد امین وینس‘ملک خدا بخش اعوان‘چوہدری محمد عملش ‘رانا محمد اقبال‘امجد جاویدسلیمی‘رائے طاہرجیسے پولیس آفیسرز نے فیصل آباد پولیس کے مزاج کو سمجھ کر اس سے کام لیا۔اسے تھپکی دی ‘ڈانٹ ڈپٹ بھی کی‘سختی کی جگہ سختی بھی کی اپنے ماتحتوں کے ساتھ اپنے بچوں کے جیساسلوک کیاجیسے اپنے بچوںکوسزابرائے سزا نہیں بلکہ سزا برائے اصلاح دی جاتی ہے،یہ طریقہ کاراختیارکیااور ان کی یہاں تعیناتیاں کامیاب بھی رہیں اوروہ تاریخ کا حصہ بھی بنیں اورجب فیصل آباد پولیس اپنی ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے اپنے مزاج کے خلاف چلنے پر آئی‘جب انہیں نامناسب ڈھیل ملی‘جب ان پر چیک اینڈ بیلنس کا انداز سائنسی اورانٹیلی جنس بنیادوں پر نہ رہا ۔جب سختی کے ساتھ ساتھ تھپکی نہ ملی اورتھپکی کے بعد ملنے والے فری ہینڈ پر نظرنہ رکھی گئی ۔جب پولیس حاکم تھانوں میں ان کی ہرقسم کی سرگرمیوں اورعملی اقدامات سے بے خبر رہنے لگے جب پولیس افسروں کوا پنے دفاتر کے سٹاف کی تھانوں میں تعینات پولیس والوں کے ساتھ” ہمدردانہ اور مہربانہ طرزعمل“اور”اچھی ڈیلنگ نہ کرنے والوں کےساتھ “مخاصمانہ اورشکایتانہ بلکہ انتقامانہ رویوں کے امور کاعلم نہ ہوسکا تو پھر پولیس بے مہارہوگئی پھر جوجسکے ہاتھ لگا لے کر چلتابنا پھر بڑے بڑے ڈاکو یاتو پکڑے ہی نہ گئے‘اگر پکڑے گئے تو مختلف حیلے بہانے بناکرچھپ چھپاکر چھوڑدیئے گئے بلکہ بعض ایس ایچ اوز نے تواپنے علاقوں میں ”کنٹریکٹ“ کر لئے۔منشیات فروشی‘قماربازی‘قحبہ خانے جوجرائم پیشہ عناصر کی نرسری سے لے کر ماسٹر ڈگری تک کی تربیت گاہیں ہوتی ہیں ‘بڑے بڑے ڈاکو‘چور ‘بدمعاش‘ رسہ گیر‘جرائم پیشہ عناصر انہی تربیت گاہوں اورپناہ گاہوں سے ہوکر گزرتے ہیںاورپرورش پاتے ہیں‘ان تربیت گاہوں اورپناہ گاہوں سے ”باقاعدہ“ ڈیلی‘ہفتہ وار‘یاماہانہ وصولیاں کی جاتی ہیں اورقانون کو مذاق بناکر رکھ دیاجاتا ہے ۔اختیارات کے ناجائز استعمال کی شرمناک اوربھیانک مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں تھانہ ڈجکوٹ کی ایک چھوٹی سے مثال ہی لے لیجئے جو اس سسٹم کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔وہاں ایک بڑابدنام منشیات فروش تھا‘ایک ایس ایچ او صاحب ٹرانسفر ہوکر ڈجکوٹ گئے جاتے ہی پہلاکام یہ کیا کہ اس منشیات فروش کو بلایا اورکہاکہ ایک لاکھ روپے زرضمانت اورایک لاکھ ایڈوانس منتھلی لے آﺅاوراپنا دھندا شروع کردو‘اس نے فوری عمل کیا اوراپنا دھندہ شروع کردیا وہ”دیانتدار“ایس ایچ او وہاں کئی ماہ تک تعینات رہے ‘تھانہ سے کچھ ہی فاصلے پر موجود اس اڈے پرکون کون آتارہا‘کون کون جاتارہا۔انہوں نے اپنی آنکھیں بندرکھیں‘پھر ان کا تبادلہ ہوگیا‘نئے ایس ایچ او آئے اورانہی شرائط پر اپنی ڈیوٹی نبھاتے رہے ۔پھرذراکمزور اورشریف قسم کے ایس ایچ او آگئے انہوں نے حسب روایت اپنے ”محسن“منشیات فروش کو بلوایا اوراپنی مقررہ شرح کے مطابق منتھلی کاتقاضاکیامگر یہ شرط لگادی کہ جوبھی مال بیچنا ہے وہ سرعام نہیں چھپ چھپاکر بیچناہے ۔وہ منشیات فروش اکڑگیا اس نے کہا کہ اپنے سے پہلے والے ایس ایچ او کو دیکھ لو‘ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم کاتعین ان کی جرا¿ت‘بے باکی اوربے خوفی کی وجہ سے کیاگیا تھا اورانہوں نے یہ شرط نہیں لگائی تھی ہاں کبھی کبھار دوچار”فرینڈلی“مقدمات بناکر ”فرش شناسی کا عمل“مکمل کرلیاجاتاتھا۔آپ ذہن سے ڈرخوف نکال دیں مگر وہ بچ بچاکر ہی کام کرنے پر اصرار کرتارہا۔پھر اس منشیات فروش نے کچھ ایس ایچ او کی رکھ لی اورکچھ اپنی‘اوراپناکام چلاتارہا۔پھرایک ایساوقت آگیا کہ وہ منشیات فروش تائب ہوگیا۔اوردھندا بندکردیا مگر نئے آنے والے ایس ایچ اوز اسے دوبارہ کام شروع کرنے پر زوردیتے رہے یہ تو ایک واقعہ ہے اس جیسے بے تحاشا واقعات ہر تھانے میں روزانہ کامعمول ہیں ۔اس سلسلے میں کئے گئے سروے کے مطابق فیصل آبادشہرکے 16تھانوں میں قماربازی اورقحبہ خانوں کے اڈوںکا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے اوران اڈوں سے بہت سے مستفید ہونےو الے افسروں اورماتحت ملازمین کے ان لوگوں کے ساتھ ذاتی مراسم بھی ہیں مگر وہ بلاخوف چل رہے ہیں ۔یہ توصرف ان ”اڈوں“تک محدود معاملات ہیں ۔روزانہ ایسی ان گنت چوریاں ڈکیتیاں‘راہزنیاں ہورہی ہیں جن کے مقدمات تھانوں میں درج ہی نہیں ہوتے لٹے پٹے لوگ تھانوں میںجاتے ہیں تو یہ کہہ کر انہیں ٹرخادیاجاتا ہے کہ تمہاراوقوعہ ہی مشکوک ہے جب وہ مقدمات درج ہی نہیں ہوں گے توڈاکوﺅں ‘راہزنوں چوروں کاسراغ کیسے ملے گا۔ایسے مقدمات درج نہیں ہوتے اوروہ جرائم پیشہ عناصر دیدہ دلیری کے ساتھ اپنا”کام“جاری رکھے ہوئے ہیں ۔پھر ایسے ہی بے مہار حالات میں اگر کوئی ایس ایچ او15/16لاکھ روپے کی گاڑی خرد برد کرنے کے لئے اس گاڑی میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے والا بارودی سامان لے کر گھومتا رہتا ہے اورتحریک طالبان پنجاب کے ڈپٹی کمانڈر کو تفتیش اورپھر ڈیل کے بعد چھوڑدیتا ہے اورجب راز کھلتا ہے تو پھرہیروبننے کے چکر میں کاروائی شروع کردیتا ہے تواس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ۔جب کوئی ایس ایچ او اوراس کے گن مین چرس ملے دوچار سگریٹ پینے والے کو 9بی کے مقدمہ میں اٹھواکر صرف دولاکھ روپے رشوت کی خاطریا”اپنے کسی دیگر ذاتی معاملہ“ کی خاطر اسے اپنے نجی ٹارچر سیلوں میں لے جاکر تشدد کا نشانہ بناکر غائب کردیتا ہے ۔اورمحکمہ پولیس کے چہرے پر ایک بدنما داغ لگ جاتاہے توان کٹھن حالات اورماحول کو سدھارنے کے لئے کسی بہت ہی موثر مثبت اورشارٹ کٹ پلاننگ کی ضرورت پڑے گی ۔تھانہ کلچر میں بہتری کوئی دوچار ماہ کا مسئلہ نہیں ہے ۔اس کے لئے سب سے پہلے تو اس بہتری کی بنیاد رکھنی پڑے گی جس پر تسلسل اور بہترین منصوبہ بندی کے ساتھ پلاننگ کی گئی تواس کے اثرات جلد ہی مرتب ہونا شروع ہوسکتے ہیں ۔نئے سی پی او فیصل آباد عبدالرزاق چیمہ کو نہ صرف ورثے میں دوایسے کیس ملے ہیں جن کا تعلق خود پولیس ڈیپارٹمنٹ سے ہی ہے وہ دونوں کیس اگرچہ اب آخری مراحل میں ہیں مگر پھر بھی اس کے اثرات ابھی کچھ دیرتک محسوس ہوتے رہیں گے اورممکن ہے ان دونوں کیسز کے اچھے نتائج نئے سی پی او کے لئے آئندہ کی اچھی پلاننگ کے دروازے ہی کھول دیںان دوکیسوں کے علاوہ ان کوورثے میں فیصل آبادکی موجودہ بھٹکی ہوئی پولیس کی غفلت ‘کام چوری‘غیر ذمہ داری‘اختیارات کے ناجائز استعمال کی عادت‘تھانوںمیں بداخلاقی ‘ہر کام کی بکنگ‘سڑکوںپر گشت کرنےوالوںکی نگاہیں ڈیوٹی کی بجائے ہر آنے جانے والے سے کچھ نہ کچھ لینے کی متلاشی‘ڈکیتی،راہزنی،چوری اور سنگین نوعیت کے مقدمات کے اندراج سے گریز کا طرز عمل‘افسروں پر سیاسی پریشرڈلواکر اپنے گناہوں کی پردہ پوشی‘من مرضی کے تبادلے‘جرائم پیشہ عناصر سے مراسم جیسے بے شمارمعاملات بھی ملے ہیں۔ جن کو فیس کرنا پڑے گا جب کہیں جاکر بہتری کے آثار نظر آنا شروع ہوں گے۔فیصل آباد کے شہری تو ہر آنے والے پولیس حاکم سے اچھی امیدیں ہی رکھتے ہیں ہر افسر اپنے تیئں کوشش بھی کرتا ہے” مگر کیاخبرکون کلی فخر چمن ہوتی ہے “۔

مزید : کالم