ماڈل ٹاﺅن سانحے کی پولیس سے تفشیش کرنے کے اختیارات پر پنجاب حکومت نے چپ سادھ لی

ماڈل ٹاﺅن سانحے کی پولیس سے تفشیش کرنے کے اختیارات پر پنجاب حکومت نے چپ سادھ ...

                            لاہور(نامہ نگار خصوصی ) سانحہ ماڈل ٹاﺅن جوڈیشل ٹربیونل کو پولیس سے تفتیش کرانے کے اختیارات دینے کی درخواست پر پنجاب حکومت کی خاموشی نے جوڈیشل ٹربیونل کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا، ٹربیونل کا کردار صرف انکوائری تک محدود، کسی پر ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکے گی، رجسٹرار جوڈیشل ٹربیونل کی طرف سے پنجاب حکومت کو چار دن قبل بھجوائے گئے مراسلے میں درخواست کی گئی ہے کہ ٹربیونل کو پنجاب انکوائریز اینڈ ٹربیونل آرڈیننس انیس سو انہتر کی دفعہ گیارہ کے اختیارات دیئے جائیں جس کے تحت ٹربیونل کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے طور پر پولیس سے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تفتیش کرا سکے، ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے ٹربیونل کی اس درخواست پر خاموشی اختیار کر لی ہے اور زبانی طور پر ٹربیونل کو سیکشن گیارہ کے اختیارات دینے سے انکار کر دیا ہے، ٹربیونل کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت کے انکار کے بعد تحقیقات کے معاملے میں ٹربیونل مزید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے، پاکستان عوامی تحریک پہلے ہی ٹربیونل پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے اور اسکا کوئی بھی نمائندہ کارروائی میں شریک نہیں ہو رہا، ٹربیونل اپنی چھ دن کی کارروائی میں ابھی تک دوسرے فریق پاکستان عوامی تحریک، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مقتولین کے ورثا یا زخمیوں میں سے کسی ایک بھی بیان قلمبند نہیں کر سکا جس کے بعد کہا یہ جارہا ہے کہ ٹربیونل کی تحقیقات صرف سرکاری افسران اور پولیس کے بیان پر مبنی ہوں گی۔

چپ سادھ لی

 

مزید : صفحہ آخر