تنازع کشمیر کا حل، حقِ خود ارادیت

تنازع کشمیر کا حل، حقِ خود ارادیت
تنازع کشمیر کا حل، حقِ خود ارادیت

  

تنازع مقبوضہ جموں و کشمیر عرصہ گزشتہ68سال سے پاکستان اور بھارتی حکمرانوں کے درمیان تاحال، کسی منصفانہ فیصلہ کے بغیر حل طلب چلا آ رہا ہے۔ اس طرح جنوبی ایشیا کے ایک ارب50 کروڑ سے زائد عوام کی زندگی، معاشی طور پر غربت، جہالت، پسماندگی اور خراب صحت سے دوچار ہے۔ اس معاملے کو حل کرانے کی خاطر بھارت کے سابق وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گئے تھے۔ اس مقتدر ادارے میں کئی بار مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اپنا حقِ خودارادیت استعمال کر کے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار دیا گیا تھا، لیکن قبل ازیں وہاں سے بھارت کی سات لاکھ سے زائد مسلح افواج کو وہاں سے بھارت واپس بھیجنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے تاکہ لوگ اپنی آزاد مرضی اور خواہش کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

یہ امر قابل ذکر حد تک افسوس ناک ہے کہ بھارتی حکمران مختلف حیلوں اور بہانوں سے، اہلِ کشمیر کی ایک کروڑ 40لاکھ تعداد کو سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت کے استعمال کا موقع دینے سے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ اس صورت حال میں، اہلِ کشمیر بھارتی حکمرانوں پر دباؤ ڈالنے کے لئے آئے روز احتجاجی مظاہرے، جلسے، جلوس اور ہڑتالوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ اُن کو روکنے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس اور فوجی دستے احتجاج کرنے والے کشمیری مسلمانوں پر ظلم و جبر کے مختلف حربے اور طریقے اختیار کرنے سے ہر گز اجتناب نہیں کرتے، بلکہ وہ سیاہ اور غیر مہذب ادوار کے مظالم، بلا روک ٹوک، آزادی کا مطالبہ کرنے والے لوگموں پر شب و روز ڈھائے ہیں۔

اہلِ کشمیر لاکھوں افراد کی قربانیاں، اس کے حصول جدوجہد میں پیش کر چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں امن و سکون کے ماحول میں محرومی کی بنا پر، تعمیر و ترقی کے حالات اور منصوبہ جات، لوگوں کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق، تجویز اور مکمل نہیں کئے جا سکتے، کیونکہ ہر سال، بھارت اور پاکستان کی حکومتیں، اپنے بجٹوں کا کثیر و ضخیم حصہ، دفاعی شعبوں جدید ہتھیاروں کے انبار لگانے کے لئے مختص کر رہی ہیں۔ پاکستان کو تو مجبوراً، اپنے دفاع و تحفظ کی خاطر ایسا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ بھارتی حکمران نسبتاً کافی بڑی رقوم ترجیحی طور پر اپنی افواج کی طاقت کو بڑھانے پر خرچ کرنے کے اعلانات کرتے ہیں۔ ان حالات میں اس خطۂ ارض کے عوام، ترقی اور خوشحالی کے مطلوبہ اہداف کی رسائی کے محض خواب ہی دیکھتے رہتے ہیں، لیکن ان کو حقیقت کا روپ دینے میں موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر موی کی ضد اور ہٹ دھرمی بھی سابقہ حکمرانوں کی طرح ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے چند روز قبل ایک کانفرنس میں بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے تنازع کشمیر پر اقوام متحدہ کی ثالثی کی خدمات پیش کی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مسئلہ، سلامتی کونسل کے مقتدر ادارے کے ایجنڈے پر آج تک حل طلب ہونے کی حیثیت سے موجود ہے۔ غیر جانبدار تجزیہ کاروں کی آراء کے مطابق بھارتی حکمرانوں کو اس ٹھوس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اگر بھارتی سیاست کاروں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اس معاملے پر اپنی ہٹ دھرمی حسب سابق جاری رکھی، تو بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی وقت بھی بہت تباہ کن ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس سے اچانک لاکھوں اور کروڑوں لوگ، اپنی قیمتی جانوں اور املاک سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑی طاقتیں، بھارت کو حقِ خود ارادیت کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے راغب کریں۔

مزید :

کالم -