مون سون اور نشیبی علاقے

مون سون اور نشیبی علاقے
مون سون اور نشیبی علاقے

  

پنجاب حکومت آہستہ آہستہ عوامی مسائل سنجیدگی سے حل کرنے میں کامیاب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ لاہور شہر کے اہم ترین مسائل میں سے ایک مسئلہ مون سون بارشوں کے موسم میں نشیبی علاقوں میں بارش کے پانی کا جمع ہونا ہے۔ محمد شہباز شریف کی بروقت کارروائیوں کی وجہ سے اب وہ ماضی والی صورت حال تو نظر نہیں آتی کہ لکشمی چوک اور بیڈن روڈ تک بارشوں کا چارفٹ پانی تین تین دن کھڑا رہے۔ اب تو شدید ترین بارش کے باوجود زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹوں میں بارش کا پانی نکال دیا جاتا ہے۔ سیوریج اور نکاسی آب کی صورت حال اب مزید بہتر ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ سب سے اچھا کام پنجاب حکومت نے یہ کیا ہے کہ لاہور میں بارش کے پانی کو جمع ہونے سے روکنے کے لئے پورے لاہور میں ایک مرکزی کمیٹی قائم کردی گئی ہے جس کی سربراہی حمزہ شہباز شریف کے حصے میں آئی ہے۔ لاہور کو تقسیم کرکے ذیلی کمیٹیاں بنادی گئی ہیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ممبران صوبائی اسمبلی کو بھی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

اگرچہ مون سون میں بارشوں کے پانی کا جمع ہونا کوئی نیامسئلہ نہیں ہے لیکن اب امید پیدا ہوگئی ہے کہ حمزہ شہبازشریف اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لاہور کے تمام نشیبی علاقوں میں نہ صرف پانی کی نکاسی کا معقول انتظام کریں گے بلکہ مستقل بنیادوں پر اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے نشیبی علاقوں کو نئے منصوبے کے تحت اوپراٹھایا جائے گا جس کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں بارشوں کے دوران پانی کا جمع ہونا ممکن نہیں رہے گا۔اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں ۔ لکشمی چوک میں چاروں طرف سے پانی اس لئے جمع ہوجاتا ہے کہ مال روڈ سے بیڈن روڈ کی طرف آنے والا پانی سیدھا لکشمی جاکر رکتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ بیڈن روڈ پر بھی موجود رہتا ہے۔

گوالمنڈی سے نسبت روڈ کا پانی بھی تمام کا تمام لکشمی چوک کی جانب بہہ کر آجاتا ہے کیونکہ گوالمنڈی کا چوک لکشمی چوک سے بلندی پر ہے۔ اسی طرح دیال سنگھ کالج کے اطراف اور میکلوڈ روڈ کا پانی بھی جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے لکشمی چوک لاہور کا سب سے نشیبی علاقہ بن چکا ہے۔ اب سیوریج اور نکاسی آب کے نئے منصوبے مکمل ہونے کے بعد قومی امید ہے کہ بارشوں کا پانی ساتھ ساتھ نکلتا جائے گا۔ لیکن اس مقصد کے لئے حمزہ شہباز شریف کو اپنی کمیٹی کو بہت فعال کرنا پڑے گا۔

مختلف علاقوں میں بارشوں کا پانی کیوں جمع ہوتا ہے، اس پر ایک تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرانی بہت ضروری ہے۔ لیکن اس رپورٹ سے پہلے ایک عام مشاہدے کی بات کا ذکر ضروری ہے۔ چند سال پہلے نکاسی آب کا انتظام بہتر بنانے کے لئے لاہور کے پرانے علاقوں میں نالیوں کو بہت بڑا بنایا گیا تھا۔ سڑکوں پر ان نالیوں کو بدصورتی سے بچانے کے لئے پتھر کی سلوں سے ڈھانپا گیا تھا لیکن جہاں زہر بھی چوری ہو جائے وہاں پتھر کی سلوں کا وجود کتنے دن قائم رہنا تھا، چنانچہ جگہ جگہ سے سلیں چوری ہونے کی وجہ سے دکانداروں کے چھوٹے ملازم اور خاکروب آنکھ بچا کر دیدہ دلیری سے تمام پلاسٹک اور گردوغبار سے بھری اشیا آزادی سے ان نالیوں میں پھینک دیتے ہیں جن کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر رہی سہی کسر دکاندار وں نے ان نالیوں پر پختہ تعمیرات سے پوری کردی ہے جس کی وجہ سے صفائی کا عملہ باوجود کوشش کے نالیوں کی رکاوٹوں کو پاک نہیں کرسکتا۔ اس کی ایک بہترین مثال بیڈن روڈ پر بمبے والے کے نیچے بند نالی ہے جس کی صفائی عملاً ممکن تو ہے اگر کوئی واسا کی ذمہ داری لگائے اور دلچسپ بات ہے کہ صرف اس ایک ’’ڈکے‘‘ کی وجہ سے تھوڑی سی بارش میں بھی پانی گھنٹوں جمع رہتا ہے اس لئے شہباز شریف اپنی کمیٹی کو حکم دیں کہ تمام علاقوں میں نالیوں کی صفائی یقینی بنائی جائے اور جہاں نالیوں کی صفائی پختہ تعمیرات کی وجہ سے ممکن نہ ہو انہیں توڑ دیا جائے تاکہ مون سون کا پانی اکٹھا نہ ہوسکے۔

مزید :

کالم -