بلوچستان کے بڑے سیاستدان

بلوچستان کے بڑے سیاستدان

بلوچستان میں جن زعماء نے سیاست میں حصہ لیا اور تاریخی کردار ادا کیا اسے تاریخ فراموش نہیں کرسکے گی۔ ان لوگوں نے سیاست میں اس وقت قدم رکھا تھا جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں تختہ دار تھا، قلعہ لاہور کی تنگ وتاریک کوٹھڑیاں تھی ،گولیاں تھیں عمر قید تھی جلا وطنی تھی اور یہ صوبہ نہ جانے کتنے نشیب وفراز سے گزرکر آج سرفراز ہوا ہے بے شمار فرزانے اس راہ میں قربان ہوگئے نہ جانے کتنے گمنام لوگوں کا لہواس میں شامل ہے یہ صوبہ آگ اور خون سے گزرا ہے اور آج بھی اس کی تپش محسوس ہوتی ہے آج بھی کہیں کہیں ہمیں سرخ خون کے دھبے نظر آتے ہیں پہاڑوں ویرانوں میں خون کی بورچی سی مہک دیتی ہے نہ جانے کتنے نوجوان خاک نشین ہوگئے ہوں گے اس امید اور آس پر کہ ان کے بعد صحراؤں اور پہاڑوں کے دامن میں گل و لالہ ان کی کہانیاں بیان کریں گے اور ان کی روحیں صحراؤں اور پہاڑوں میں بھٹکتی ہوئی ہوں گی اور دیکھتی ہوں گی کہ بلوچستان اب کہاں جاکر ٹھہرگیا ہے ۔ ان کی مائیں بہنیں اب بھی پانی کی تلاش میں چشموں اور تالابوں کا رخ کرتی ہوں گی نہ جانے کتنے سہانے خواب لئے یہ لوگ دنیا سے کوچ کر گئے ہوں گے مسرتیں اور آرزوئیں ناتمام رہ گئی ہوں گی۔

دوستو! آج یہ کالم ذہن میں اس لئے ابھر آیا ہے اور اس کا عنوان چن لیا ہے تو اس کا سبب نواب خیر بخش خان مری کی موت ایک سال گزرنے کوہے کتنی بڑی شخصیت اس دنیا سے اٹھ گئی ہے ان کے ذہن میں نہ جانے کتنے خواب تھے اور وہ بلوچستان کو کہاں دیکھنا چاہتے تھے ان کی سیاسی سوچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن جس راستے کو انہوں نے زندگی کے آخری لمحوں میں اختیار کیا وہ ادھورا رہ گیا تلخ شیریں داستان اپنے سینے میں لئے وہ اس دنیا سے چلے گئے بلوچ قوم نے بڑے بڑے لیڈر پیدا کئے اس پر بلوچ قوم فخر کرسکتی ہیں ان کی جدوجہد سے بلوچ قوم کا دامن ستاروں کی مانند جگمگاتا رہے گا ان میں نواب خیر بخش خان مری‘ نواب بگٹی‘ سردارعطاء اللہ مینگل نے جب پہاڑوں کا رخ کیا تو اپنے ایک کالم میں لکھا کہ نواب بگٹی کے بعد کوئی نواب پہاڑوں کا رخ نہیں کرے گا وہ اکبرخان جس نے ایسا کرلیا اور امر ہوگیا اس کی سیاست سے بعض بلوچوں کو اختلاف تھا کہ ان کی گورنری باعث نزاع رہی اس کا انہیں بھی احساس تھا نواب خیر بخش مری اور سردار عطاء اللہ مینگل کو اس دور سے شدید اختلاف تھا جو وہ نیپ کے خلاف ہوگئے اور دوسری طرف چلے گئے تھے مگر ان کی آخری عمر کی سانسوں نے ان تمام خدشات اور اختلافات کو ختم کردیا انہوں نے اپنے خون سے ایک نئی تاریخ لکھ دی اور اب تک ان کا خون صحرابہ صحرا پکارتارہے گا اورقاتلوں سے حساب طلب کرتا رہے گا ان کی بے چین روح بلند و بالا پہاڑوں میں بھٹکتی رہے گی اور بدقسمت صوبے کو بے چین کئے رکھے گی ان تین سرداروں نے اپنی سیاست سے حیرت انگیز داستان سیاست رقم کردی ہے جب نواب خیر بخش مری بولتے یا نواب بگٹی بولتے تو لگتا تھاکہ پورا بلوچستان گونج رہا ہے ان کا ہر بیان سیاست کو ایک نیا رخ دیتا تھا ان تین میں سے دو چلے گئے ہیں اور اب ایک سردار عطاء اللہ مینگل رہ گئے ہیں ۔

ان تینوں سے کچھ کچھ تعلق رہا ہے نواب بگٹی سے تو بہت زیادہ رہا ہے ان سے بلوچ سیاست کے نشیب وفراز کے بارے میں بہت زیادہ آگہی ہوئی اور قوم پرست سیاست کو سمجھنے کا بہت زیادہ موقع ملا نواب چونکہ انکے بہت قریب تھے تو وہ ان دونوں کے بارے میں بہت بتاتے تھے اختلافات کی پوری داستان نواب سے سنی ایک رات نواب بگٹی کے گھر گیا تو انہوں نے گھر کے اندر بلالیا یہ ان کا کمرہ تھا جہاں ایک ٹیبل پر تصویر میں نواب بگٹی کوئٹہ ایئرپورٹ پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا استقبال کررہے ہیں اور ہاتھ ملارہے ہیں یہ ایک یادگار تصویر تھی اور ان کی ٹیبل پر موجود تھی یہ کمرہ پہلی بار دیکھ رہا تھا ان کے ساتھ سیف الرحمن خان مزاری موجود تھے ہاتھ ملاکر بیٹھ گیا تو اندازہ ہوا کہ نواب بگٹی کچھ غصہ میں تھے یہ 1974ء کی بات ہے ان دنوں نیپ نے نواب بگٹی کے خلاف اخباری بیانات کا سلسلہ تیز کیا ہوا تھا اور چھوٹے چھوٹے کارکنوں کے ذریعے بیانات کے گولے داغے جارہے تھے مجھ سے کہاکہ میں نیپ کے خلاف بیان دینا چاہتا ہوں تم میری مدد کرو اور بہت سے راز فاش کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد کچھ راز انہوں نے زبان پر لانا شروع کردیئے اور میں حیرانی سے سن رہا تھا سیف الرحمن مزاری (مرحوم) نے بلوچی میں کہاکہ نواب صاحب یہ جماعت اسلامی کا آدمی ہے خدا کے لئے آپ نہ بتائیں چہرہ سرخ تھا اور آنکھوں میں نفرت کے آثار بہت زیادہ تھے اور بہت مضطرب تھے اور وہ بول رہے تھے۔

سیف الرحمن مزاری فوراً اٹھے اور نواب کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور کہاکہ بس اب نہ بولیں نواب صاحب خاموش ہوگئے اور کچھ بول کر پرسکون ہوگئے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہوگیا تھا لیکن غصہ کچھ برقرار تھا اور مجھ سے کہا تم مدد کروگے ان سے ہاں کہہ دی تاکہ ماحول کی گرمی کچھ کم ہوجائے یہ موسم سرما تھا اور نواب شہید کی فیملی ڈیرہ بگٹی چلی گئی تھی بعض دفعہ ایسے موسم میں نواب صاحب کے ساتھ ان کمروں میں نشستیں چلتی تھیں کافی کا دور بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا نواب شہید سے یہ تعلق 1973ء دسمبر سے شروع ہوا اور ان کی موت تک جاری رہا۔ سردار مینگل سے طویل ترین نشست 2013ء میں ہوئی تھی جو ان کے آبائی علاقہ وڈھ میں ہوئی اور انہوں نے بھی کھل کرگفتگو کی مگر انکے سینے میں بھی نہ جانے کتنے راز ہیں جو رہ جائیں گے میری خواہش تھی کہ نواب مری سے ملاقات ہو جنوری میں کراچی گیا اور کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہوسکی کاش یہ تینوں اپنی خود نوشت لکھتے تو تاریخ کا اہم باب ہوتا نواب بگٹی نے تو شروع کردی تھی اور ہر روز مجھے سناتے جو وہ لکھتے یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا وہ ایک پرانے ٹائپ رائٹر پر انگریزی میں لکھتے پھر وہ سناتے اور کافی کا دور بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا نواب صاحب سے کہتا کہ آپ جنگ عظیم کے ٹائپ رائٹر کو استعمال کرتے ہیں تووہ خوب ہنستے تھے انہوں نے بھٹو کو خط لکھا یہ ان کے استعفی کے متعلق تھا اور ایک لیکچر تھا جو انہوں نے اسٹاف کالج میں فوجی افسروں کو دیا انہوں نے مجھے دیا تھا اب یہ دونوں گم ہوگئے ہیں بالاچ کی نظم کا ایک بند انگریزی میں لکھا تھا جو مضمون کے آخر میں درج تھا

جب سمندر خاموش ہے تو

دریا کیوں شور مچاتے ہیں

خیربخش سے جتنی ملاقاتیں ہوئیں وہ بہت دلچسپ اور تاریخی تھیں جب وہ جیل سے چھوٹ کر کوئٹہ آئے ہم تین دوست ان سے ملنے گئے میرے ہمراہ رشید بیگ ضیاء الدین ضیائی اور شاہد ماجد مرحوم تھے تو نواب اپنے فلسفیانہ اندازمیں گفتگو کررہے تھے بعض دفعہ ان کی گفتگو بہت الجھی ہوئی ہوتی تھی اور وہ شاید اس طرح گفتگو کو پسند کرتے تھے یا ان کی عادات کا حصہ بن گئی تھی بات سے بات کرتے ہوئے کسی اور طرف چلے جاتے تھے فلسفیانہ انداز میں کہانیاں بھی سناتے تھے اور وہ خود بھی اس سے لطف لیتے تھے اور جب وہ کچھ دیر بولتے تھے تو پھر کہتے کہ میں اپنی بات سمجھا سکا ہوں یا نہیں پھر کہتے کہ پتہ نہیں، آپ سمجھیں ہیں یا نہیں۔۔۔اس کے بعد پھر بولتے نواب خیربخش مری نے ایک انتہائی اہم انکشاف کیا اور کہاکہ جب جیل میں تھے اور بلوچستان میں لوگ پہاڑوں پر جدوجہد کررہے تھے تو بتایا کہ میرے پاس ایک ملک کا اہم نمائندہ آیا اور مجھ سے کہاکہ اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو اسلحہ فراہم کرسکتے ہیں نواب نے کہاکہ میں نے انکار کردیا کہ تمہارے اسلحہ سے ہم اگر لڑیں گے تو ایسی آزادی ہمارے کس کام کی تو پھر ہم آپ کے غلام ہوجائیں گے میں نے انکار کردیا پھر بھٹو ہم پر جھوٹے الزامات لگاتا رہے ڈرامے کرتا رہا عراقی اسلحہ کا ڈرامہ رچایا نواب نے ایک اور موقع پر بڑا دلچسپ واقعہ سنایا اور وہ خود بھی بہت ہنسے یہ 1972ء کا واقعہ ہے جب بھٹو کے ساتھ چین گئے تو نواب نے کہاکہ ہمارے استقبال کے لئے کامریڈ لائنیں بناکر کھڑے تھے اور نعر لگارہے تھے Long live mao میں ایک نعرے لگانے والے کامریڈ کے قریب گیا اور اس سے پوچھا کہ جب تم خدا کو نہیں مانتے ہوتو یہ دعا کس سے کررہے ہو نواب نے کہاکہ وہ حیران ہوگیا اور چپ ہوگیا اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا یہ بڑے لوگ تھے ان کے سیاست نے ہمیشہ بلوچستان کو مدوجز میں رکھا تاریخ ان کو یاد رکھے گی۔

مزید : کالم