داعش کی دستک!

داعش کی دستک!
داعش کی دستک!

  

بین الاقوامی خبررساں ایجنسیوں میں رائٹرز ایک بڑا نام ہے۔ اس نے آج ایک خبر یہ بریک کی ہے کہ افغانستان کے صوبہ ننگر ہار میں اسلامی ریاست (IS) کے جنگ بازوں نے حملہ کرکے وہاں کے طالبان کو ایک محدود علاقے سے بے دخل کر دیا ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان شکست کھا کر بھاگ گئے ہیں اور ان کی جگہ اسلامی ریاست (داعش) کے ’’جانثاروں‘‘ نے لے لی ہے۔ خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ سفید ٹرکوں اور پک اَپ ٹائپ گاڑیوں میں آئے تھے، طالبان ان کی مزاحمت نہ کر سکے اور بھاگ گئے۔ اب وہاں ان جانثاروں کا قبضہ ہے۔ افغانستان میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ان لوگوں نے یہاں قدم جمائے ہیں۔ مقامی آبادیوں نے ان نوواردوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ہے کہ ان جانثاروں کے پاس کیش کی کمی نہیں۔ یہ اپنا کھاتے پیتے ہیں اور طالبان کے برعکس مقامی آبادی سے نان و نفقہ حاصل نہیں کرتے۔ وہ اپنی بھری بھرائی جیبوں سے علاقے کے بے روزگار نوجوانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی بھی کررہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

یہ خبر پاکستان کے لئے گرم ہوا کا ایک ناخوشگوار جھونکا ہے اور لُو کا یہ نیا تھپیڑا بھی مغرب ہی سے آیا ہے۔ اگر کل کلاں یہ جھونکا/ تھپیڑا ایک طوفانِ گرد باد بنتا ہے تو اس کے لئے پاکستان کو تیار رہنا چاہیے۔ اس بگولے کے بڑھنے اور پھولنے کی وجوہات وہی ہیں جن سے پاکستان کی جانِ ناتواں کو پہلے ہی بہت سے خدشات لاحق ہیں۔۔۔ رائٹر کی اس خبر کو پڑھ کر میرے ذہن پر جو اثر ہوا، اس میں قارئین کو شریک کرنا چاہوں گا۔۔۔رائٹر ایک ایسی خبر رساں ایجنسی ہے جو ساری دنیا میں اعتبار و اعتماد پرمبنی خبروں کا سرچشمہ قرار دی جاتی ہے۔ جس طرح بی بی سی ایک قابل اعتماد خبررساں ادارہ سمجھا جاتا ہے، اسی طرح رائٹر اور AFP (ایجنسی فرانس پریس) بھی ہمارے اعتماد کی سرپرستی سے سرشار ہیں۔ بی بی سی آج کل جو گُل کھلا رہا ہے اس کی خوشبو اور رنگ و روپ بے شک اصلی ہوگا لیکن یہ گل سالہا سال تک سطحِ زمین پر نہیں آیااور اس کا بیج ایک طویل مدت تک زیر زمین رہا۔۔۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ سوال ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے۔ بی بی سی کی وہ حالیہ خبر جو آج کل پاکستانی میڈیا میں سرفہرست جا رہی ہے اس کی صحت سے انکار شائد نہ کیا جا سکے لیکن اس کو بریک کرنے کی ٹائمنگ قابلِ غور ہونی چاہیے۔۔۔میری نظر میں بی بی سی کا یہ ’’سچ‘‘ راستی ء فتنہ انگیز کے زمرے میں آتا ہے۔ اور یہی بات رائٹر کی متذکرہ بالا خبر پر بھی صادق آتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے یہ خبررساں ادارے پہلے اپنی ساکھ قائم کرتے ہیں اور پھر اس ساکھ کو کیش کروانے کے لئے وہ وہ گُل کھلاتے ہیں کہ ساری فضا ’’معطر‘‘ ہو جاتی ہے۔

اب سوچئے ناں کہ رائٹر نے جو یہ اسلامی ریاست کے جانثاروں کی طرف سے افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے ایک حصے پر قبضہ کرکے افغان حکومت کو چیلنج کیا ہے تو اس کے پسِ پردہ محرکات کیا ہو سکتے ہیں۔براہ کرم درج ذیل نکات پر غور کیجئے:

1۔ افغانستان کا صوبہ ننگر ہار پاک افغان سرحد پر واقع ہے۔ طورخم سے مغرب کی طرف باہر نکلیں تو جو سڑک جلال آباد اور کابل کو جا رہی ہے، وہ ننگر ہار ہی کی ایک بڑی شاہراہ ہے۔آج کل پاکستان اس سٹرک کو وسیع کرنے اور اس کی نوک پلک’’مرمت‘‘ کرنے پر لگا ہوا ہے۔ جلال آباد، صوبہ ننگر ہار کا دارالحکومت ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آئی ایس کے ان جانثاروں نے اپنا اولیں دھاوا اسی علاقے پر کیوں بولا؟ افغانستان کا رقبہ لاکھوں مربع کلو میٹروں پر محیط ہے، اور اس کے درجنوں اضلاع ہیں، لیکن داعش کا ایک ایسا علاقہ منتخب کرنا جو پاک افغان سرحد پر واقع ہو چہ معنی دارد؟ کیا داعش کے یہ جانثار پہلی فرصت میں ننگر ہار سے اچھل کر (Spill Over) پاکستان میں نہیں آ جائیں گے؟

2۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی ریاست (IS) کے یہ وفادار کیڈرعربی لباس پہنتے ہیں اور عربی زبان بولتے ہیں۔ ان کے سفید پک اپ ٹرکوں پر سیاہ رنگ کے وہی پرچم لہرا رہے ہوتے ہیں جو اب داعش کی پہچان بن چکے ہیں۔ عراق، شام، کردستان اور لبنان میں مغربی اور مشرقی میڈیا ان جھنڈوں کی خوب خوب نمائش کرتا رہا ہے۔ عربی بولنے والے یہ جانثار ننگر ہار کی مسجدوں میں جا کرنمازوں کی امامت کرواتے ہیں اور پھر وعظ شروع کر دیتے ہیں جس میں اسلامی ریاست کے قیام کی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عراق و شام میں بھی ان کی یہ ریاست قائم ہو چکی ہے اور بہت جلد سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک تک پھیل جائے گی، خلیفہ ابوبکر البغدادی کا مشن مکمل کرے گی اور اسلام کی اولیں خلافت (خلافت راشدہ) کی جانشین ہوگی۔ ان مواعظ کا ترجمہ فارسی اور پشتو میں کرکے دورانِ وعظ ساتھ ساتھ سنایا جاتا ہے اور مقامی آبادیاں بڑے خشوع و خضوع سے یہ خطاب سنتی ہیں۔ یہ عرب جانثار علاقے کے نوجوانوں کو طالبان سے بیزار کرتے ہیں اور ملا عمر کی جگہ ابوبکر البغدادی کو امامتِ افغانستان کا مستقبل کا خلیفہ ڈکلیئر کرکے ایک سہانے مستقبل کی نوید دیتے ہیں۔

3۔ داعش کی طرف سے صدر اشرف غنی کی موجودہ حکومت کو غیر اسلامی کہا جاتا ہے اور ان کو غاصب اور ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان عربی بولنے والے جانثاروں سے متاثر ہو کر بہت سے افغان نوجوان ان کے ساتھ مل چکے ہیں۔ پوست کی فصلوں کو نذرِ آتش کیا جا رہا ہے اور اعلان کیا جا رہا ہے کہ پوست، افیون اور ہیروئن کو بیچ کر یہ غیر اسلامی اور غیر شرعی حکومت ،زرِمبادلہ حاصل کررہی ہے جو سراسر حرام ہے۔

قارئین محترم! اب ہم ان سوالوں کی طرف آتے ہیں کہ یہ لوگ جو اپنے آپ کو خلیفہ ابوبکر البغدادی کا پیروکار ظاہر کرتے ہیں، عربی بولتے ہیں، داعش کا پرچم اٹھائے پھرتے ہیں اور سفید پک اپ گاڑیوں/ ٹرکوں میں اچانک نمودار ہو جاتے ہیں، یہ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کیا عراق اور شام سے آئے ہیں؟ کیا وہاں سے (براستہ CIA) یہاں لائے گئے ہیں؟ کیا زمین سے اُگ آئے ہیں یا کیا آسمان سے نازل ہو گئے ہیں؟ان کا آخری ایجنڈا کیا ہے؟ کون ہے جو ان کی ڈوریں ہلا رہا ہے اور ان کو نقد رقوم سے ’’مالا مال‘‘ کررہا ہے؟ کون ہے جو ان کی انصرامی (Logistical) ضروریات پوری کرتا ہے؟

ان سب سوالوں کا جواب بڑا مختصر ہے اور جب آپ معروضی صورتِ حال پر نظر ڈالیں گے تو یہ جواب شفاف اور واشگاف ہو کر سامنے آ جائے گا!

جواب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آپریشن ضربِ عضب شروع ہونے پر فرار ہو کرپہلے میر علی سے میرن شاہ کی طرف نکل گئے۔ پھر مزید مغرب میں دتہ خیل جا پہنچے اور کچھ جنوب مغرب کی طرف شوال کی پہاڑیوں اور غاروں میں جا چھپے۔ پاک آرمی اور ائر فورس نے پورا ایک سال لگاکر اور اپنے سینکڑوں جوانوں اور افسروں کی قربانی دے کر ان کو پسپائی پر مجبور کر دیا۔ یہ لوگ آہستہ آہستہ پسپا ہوتے ہوئے پاک افغانستان سرحد عبور کرکے افغانستان کے ان صوبوں / علاقوں میں چلے گئے جو سرحد پر واقع ہیں۔ ان میں پکتیکا، پاکتیا، خوست اور ننگر ہار وہ چار صوبے ہیں جو گزشتہ 14،15 برس سے جنگ و جدل کی آما جگاہ بنے ہوئے ہیں۔

ان لوگوں میں اکثریت ان پاکستانی طالبان کی ہے جو اپنے عرب حمائتیوں اور مالی مربیوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ وہ ان عربوں کے ’’تازہ‘‘رشتے دار بھی تھے۔ ان کے پاس پک اپ کا ایک بڑا بیڑا تھا، جدید ترین اسلحہ تھا اور جلال آباد اور قندھار کے بھارتی قونصل خانوں سے ان کو نقد رقوم ملتی تھیں۔ اسلحہ اور بارود بھی وہیں سے آتا تھا اور تیل / پٹرول/ ڈیزل کا بندوبست بھی بھارتی قونصل خانے کیاکرتے تھے۔ اگر بعض قارئین کے بار خاطر نہ ہو تو یہ بھی عرض کروں کہ ان دہشت گردوں کو کئی عرب ممالک کی طرف سے دامے، درمے اور اسلحے امداد مل رہی تھی(ان ممالک کا نام لیناچنداں ضروری نہیں ہوگا کہ بہار کی ہوا خود اپنا تعارف کروا دیتی ہے۔)

آپ کو یاد ہوگا جب آپریشن ضرب عضب کو چھ آٹھ ماہ ہو گئے تھے تو ایسی خبریں آنی شروع ہو گئی تھیں کہ آئی ایس آئی ایس (ISIS) پاکستان میں بھی آ گئی ہے۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں اس تحریک کے حق میں وال چاکنگ کا بھی چرچا ہوا تھا۔ ہمارے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس خبر کو غلط اور جھوٹ قرار دیا تھا۔ آئی ایس کے حق میں لکھے گئے بعض پمفلٹ بھی پکڑے گئے تھے۔ لیکن پاکستان کے انٹیلی جنس اداروں نے بروقت کارروائی کرکے اس تحریک کے سوتے خشک کر دیئے تھے۔

آپریشن ضربِ عضب آخری مراحل میں ہے اور پاک آرمی کے مطابق اسی ماہ جولائی میں اس کو ختم کر دیا جائے گا۔ دتہ خیل سے آگے افغان سرحد تک کا علاقہ دہشت گردوں سے پاک کیا جا چکا ہے۔ا ب شوال پر آخری حملہ کیا جانے والا ہے۔پاک آرمی کے وہ دستے جو شوال کے قرب و جوار میں ساعتِ حملہ (H-Hour) کا انتظار کر رہے ہیں وہ سروں پر کفن باندھ کر تیار بیٹھے ہیں۔

اس صورتِ حال کے پیش نظر وہ تمام غیر ملکی دہشت گرد (خاص طور پر عرب ممالک سے آئے ہوئے) سرحد پار کرکے خوست کی راہ ننگر ہار اور پکتیکا جا چکے ہیں اور جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ وہ ہارڈ کور وزیرستانی دہشت گرد بھی ہیں جو از راہ مجبوری یا رشتہ داری ان عربوں کے ساتھ ہی سرحد پار کر گئے ہیں۔

یہ دہشت گردوں کی کوئی نئی کھیپ نہیں، یہ وہی پرانی لاٹ ہے جو گزشتہ 35برسوں سے (1979ء سے لے کر اب تک) فاٹا کے محفوظ کوہستانی ٹھکانوں میں بیٹھی ’’اپنا کام‘‘ کر رہی تھی۔ خوست اور ننگر ہار میں درزیوں کی اور کالے کپڑوں پر کلمہ طیبہ کاڑھنے والوں کی کمی نہیں۔ سفید ٹرک وہی ہیں جو شمالی وزیرستان میں ان کے پاس تھے۔ ان کی جیبیں بھی CIA،RAW اور عربوں کے پٹرو ڈالروں سے بھری ہوئی ہیں اور جہاں تک افغان طالبان سے ان کی دشمنی کا تعلق ہے تو ہم سب جانتے ہیں کہ ایک میان میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔ چنانچہ ملا عمر کے طالبان اور ابوبکر البغدادی کے طالبان کا آپس میں دست و گریبان ہونا کوئی اچنبھا نہیں۔

اب آخر میں سوال یہ ہے کہ آئی ایس کے ان جانثاروں کا اگلا اقدام کیا ہوگا اور ان کا علاج کیا ہے۔۔۔ میرے خیال میں لامحالہ اگلا اقدام اپنی قوت کو مستحکم کرکے اس ایجنڈے کا تسلسل ان کا مقصد ہوگا جس پر وہ گزشتہ سال ہا سال سے عمل پیرا ہیں۔ پاک افغان سرحد پر سے پاکستانی علاقوں کی طرف نکل آنے کی بجائے یہ جانثار کابل و قندھار اور ہرات کا رخ کریں گے اور وہاں کے سابق طالبان کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ روپے پیسے اور اسلحہ بارود کی ضروریات وہی لوگ /ملک/ادارے پوری کریں گے جواب تک فاٹا کے دورانِ قیام کرتے رہے ہیں۔

ان کا علاج یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو یک جان ہو کر خلیفہ ابوبکر البغدادی کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔CIA اور RAW کے عناصر کو افغانستان سے دیس نکالا دینا ہوگا اور ان کی جگہ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں سے پیمانِ وفا باندھنا ہوگا۔ اس نئی آفت سے جتنا خطرہ افغانستان کو ہے، اتنا پاکستان کو نہیں۔ میرے خیال میں مستقبل قریب میں بعض عرب جانثار شائد خیبرایجنسی وغیرہ کا رخ کریں۔ لیکن ان سے نمٹنے کے لئے پاک فضائیہ اور پاک آرمی بالکل تیار ہیں اور اعلان کر رہی ہیں کہ:

یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں!

مزید :

کالم -