شہرِ خموشاں کا منصوبہ

شہرِ خموشاں کا منصوبہ

  

حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں قبرستانوں کی قلت کے پیش نظر تمام شہروں میں شہرِ خموشاں کے عنواں سے نئے اور جدید قبرستان بنانے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ لاہور، سرگودھا اور ملتان میں جگہ بھی مختص کر دی گئی ہے، ان قبرستانوں میں میت کی تجہیز و تکفین کے تمام امور سرانجام پائیں گے اور وہیں ایک سرد خانہ بھی بنایا جائے گا، جس میں میت رکھی جاسکے۔منصوبے کے مطابق شہرِ خموشاں میں تجہیز و تکفین بالکل فری ہو گی، فری ٹیلی فون ہیلپ لائن ہو گی۔ اطلاع ملنے پر ایمبولینس آ کر مرنے والے کو لے جائے گی۔ شہرِ خموشاں میں غسل اور کفن پہنایا جائے گا، لواحقین اور پسماندگان کے لئے شٹل سروس کا انتظام ہو گا اور پھر نمازِجنازہ کے بعد تدفین ہو جائے گی۔ سرد مردہ خانے کا اہتمام اس لئے کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی فوت ہونے والے کے رشتہ دار بیرون ممالک سے آنا ہوں تو ان کا انتظار کیا جا سکے۔حکومتِ پنجاب کی یہ تجویز سکیم یا منصوبہ قابل تعریف ہے کہ آج کل زندہ کو روٹی تو کجا مرنے والے کو دفن ہونے کے لئے جگہ بھی نہیں ملتی اور بعض غریب خاندان تو اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ شہرِ خموشاں سے کم از کم موت کے بعد تدفین اور کفن و غسل کی فکر تو لاحق نہیں ہو گی۔ حکومت نے وسیع اراضی مختص کی ہے۔ ترتیب وار قبریں بنائی جائیں گی، درخت اور پودے لگا کر اسے بہتر بھی بنایا جا ئے گا۔ کئی ممالک میں ایسا انتظام ہے۔ تہران میں بہشت زہرہ کے نام سے قبرستان ہے ۔ یہاں ایسے بلاک بھی ہیں جو امیر لوگوں نے قیمتاً انتظامیہ سے خرید رکھے ہیں اور یہ ان کے اپنے خاندان کے لئے ہیں۔ باقی پورا قبرستان جو بلاکوں میں تقسیم ہے عوام کے لئے ہے۔ اب معلوم نہیں شہرِ خموشاں قطعی عوامی ہوں گے یا ان میں بھی ایسے انتظامات ہوں گے کہ امیر لوگ کوئی حصہ خرید سکیں اور شہرِ خموشاں کے اصول و قواعد کے مطابق اپنے خاندان میں سے وفات پانے والوں کی وہاں تدفین کر سکیں۔ بہرحال یہ ایک بہتر منصوبہ ہے۔

مزید :

اداریہ -