بجلی اور گیس مہنگی نہ کریں!

بجلی اور گیس مہنگی نہ کریں!

  

ایک خبر کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ پر بجلی کے صارفین پر نیا بجلی بم گرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے قرض کے ساتھ سبسڈی ختم کرنے کی شرط عائد کی جاتی ہے۔ یکم جولائی سے قدرتی گیس پر بھی روایت کے مطابق سبسڈی کم کی جائے گی،جس سے گیس مہنگی ہو گی۔ یہ سلسلہ دیر سے جاری ہے اور سال میں دو مرتبہ یکم جنوری اور یکم جولائی کو گیس سے سبسڈی کم کی جاتی ہے، حتیٰ کہ یہ بالکل ختم ہو جائے، اس سے گیس سال میں دو مرتبہ مہنگی ہوتی ہے اور یہ خاموشی سے کی جاتی ہے۔ اطلاع جولائی اور جنوری کے بلوں کی ادئیگی سے ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف کا دباؤ بجلی کے حوالے سے بھی ہے اورحکومت نے ماضی میں ایسا کیا تو اب پھرکیا جا رہا ہے اس مرتبہ تجویز ہے کہ200یونٹ تک دی جانے والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔ یوں بجلی مہنگی ہو جائے گی جو پہلے ہی مہنگی ہے اب تو حکومت کی ہدایت پر ہر بل میں تفصیل درج کی جاتی ہے تو سبسڈی سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے دیکھیں غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے اگر بجلی کے 200یونٹوں پر سبسڈی ختم کی گئی تو اس سے متاثر تو سبھی صارفین ہوں گے، لیکن کم بجلی استعمال کرنے والے زیادہ پریشان ہوں گے۔ فیصلہ کرنے کے لئے مشاورت کی جا رہی ہے۔اس وقت لوگ گرمی اور لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں ان کو مزید زیر بار کیا گیا تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے، صارفین پہلے لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں، اس پر بجلی کے نرخ بڑھائے گئے، تو ان پر مالی بوجھ اور بڑھے گا۔

مزید :

اداریہ -