قانونی طریقے سے الزامات کا سامنا کریں

قانونی طریقے سے الزامات کا سامنا کریں

  

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے سوموار کو لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آبادمیں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مائنس الطاف کی سازشیں ہورہی ہیں ، اگر ایسا ہوا توہر گلی کوچے میں جنگ ہوگی اور ایم کیو ایم بھی ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم کو مُلک دشمن جماعت قرار دے کر دراصل انہیں منظر سے ہٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ کچھ لوگ خود ساختہ بیان جاری کرکے لوگوں کو ایم کیو ایم سے متنفر کررہے ہیں ،بغیر ثبوت الزام لگانے والے خود اندرونی اور بیرونی ایجنٹ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے بھی اس خطے میں تعصب تھا اور اس کے بعد بھی مہاجروں پر تعلیم کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ایم کیو ایم کے قائد نے حلفیہ کہا کہ ان کا ’’را‘‘ سے کوئی تعلق نہیں،’’را‘‘ ملک دشمن ایجنسی ہے ،جس سے لڑنے کے لئے ایم کیو ایم کے تمام کارکنان فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈی جی رینجرز کو کوئی دھمکی نہیں دی ، زبردستی بھتا لینا، کھالیں اور فطرہ جمع کرنا ان کی تعلیمات ہرگز نہیں ہیں۔الطاف حسین نے طارق میر کے بیان کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان کو لے کر ایم کیو ایم کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے اور متحدہ کو بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے بھرپور انداز میں کہا کہ جب انہیں قتل کرانے کی کوشش ناکام ہو گئی تو ان پر جناح پور کا الزام لگا دیا گیا۔انہوں نے برملا کہا کہ ’جرائم میں ملوث شخص کو ہم پارٹی سے نکال دیں آپ گرفتار کرلیں،سر کٹ سکتا ہے جھک نہیں سکتا، مار دیا جاؤں تو گردن کے بدلے گردن لینا، انہوں نے تو ایم کیو ایم کے کارکنوں کو دھرنا دینے کی تیاری کی تاکید بھی کر دی،اگرعمران خان 3 ماہ دھرنا دے سکتے ہیں تووہ 6ماہ دے سکتے ہیں۔

الطاف حسین ایک بار پھر اپنے روائتی انداز میں گرجے اور برسے ہیں، جذبات میں آ کر انہوں نے خون خرابے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔جب بھی متحدہ پر کوئی الزام لگتا ہے یا اس کے خلاف نیا بیان سامنے آتا ہے ،اس کے قائد ایسے ہی پر جوش انداز میں خطاب کرتے ہیں اور بعض اوقات ایسی باتیں بھی کر جاتے ہیں جن پر بعد میں انہیں معافی کا خواستگار ہونا پڑتا ہے۔اس دفعہ ان کے آگ بگولہ ہونے کی وجہ ان کے اپنے دوست اور لندن میں ایم کیو ایم کے معاملات کے نگران طارق میر کا بیان بنا، جو ایک دو روز قبل ہی منظر عام پر آیاتھا اور کہا جارہا تھا کہ یہ بیان طارق میر نے 30 مئی 2012ء کو پولیس کو دیا تھا جس میں بھارت کی جانب سے ایم کیو ایم کی مالی امداد کی بات کی گئی تھی۔ اس کے مطابق بھارت سے آنے والا پیسہ الطاف حسین کو ملتا تھا، بھارت سے آنے والے فنڈز کا علم صرف 4 افراد کو تھا، جن میں طارق میر، الطاف حسین، عمران فاروق اور محمد انور شامل تھے۔ طارق میر کے بیان کے مطابق بھارتیوں سے ملاقات ویانا، روم، زیورچ، پراگ اور سالٹس برگ میں ہوئی، جبکہ بھارتی حکام سے پہلی ملاقات اٹلی کے شہر روم میں ہوئی اور بظاہر ان سے ملنے والے بھارتی حکام کا تعلق ،را’ سے تھااور ان کی پہنچ وزیر اعظم تک تھی۔الطاف حسین نے اس بیان کی حقیقت پر انگلی اٹھاتے ہوئے اسے خود ساختہ قرار دیا اورمحمد انور نے کہا کہ اگر اس بیان میں سچائی ہے تو ریاست مقدمہ دائر کرے۔

برطانیہ نے البتہ طارق میر کے بیان کی تصدیق کر دی اور ساتھ ہی پاکستانی حکومت نے بی بی سی کی جانب سے نشر کی جانے والی رپورٹ کے تناظر میں برطانیہ سے ثبوت کا جو تقاضا کیا تھا، اس کا جواب بھی تیار ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ بی بی سی کی رپورٹ میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم بھارتی حکومت سے مالی امداد لیتی رہی۔گوکہ بھارت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیاتھا، لیکن اخباری ذرائع کے مطابق وہ برطانیہ پر دباو بھی ڈال رہا ہے کہ کسی قسم کے ثبوت پاکستان کو نہ دیے جائیں۔دو ماہ پہلے پاکستان میں سینئر پولیس افسر راؤ انور نے بھی ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ اس کے کارکنوں کو تربیت دیتی تھی ۔الزامات کی نوعیت بے شک بہت سنگین ہے لیکن کسی کو بھی یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ ابھی یہ صرف الزامات ہی ہیں اور تفتیش کے مراحل میں ہیں۔اس وقت جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ برطانیہ میں ہو رہا ہے،وہیں مقدمے درج ہیں اوروہیں تحقیقات کا سلسلہ بھی جاری ہے،اب الطاف حسین برطانوی شہری ہیں تو ان پر اطلاق بھی وہیں کے قانون کا ہوتا ہے۔توایسے میں وہاں بیٹھ کر پاکستان میں کشت و خون کی دھمکی دینے کا تو کوئی جواز نہیں بنتا۔پاکستان سے تو کوئی فیصلہ نہیں ہوا، یہاں تو ابھی کوئی کارروائی بھی نہیں ہوئی اور بالفرض اگر ان کے خلاف کوئی اقدام ہوتا بھی ہے تو وہ اس کا سامنا کریں، اس میں طبل جنگ بجانے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟ اس سے تو ان کی اپنی مشکلات میں ہی اضافہ ہو گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب ’اعتراف‘ ایم کیو ایم کے اپنے ہی کارکن کر رہے ہیں، اس بارے میں ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے اندر ہی بعض عناصر ایسے ہیں جو یہ سب منظر عام پر لانا چاہتے ہیں۔تو ایسے میں اگر الطاف حسین کو گمان ہے کہ یہ سب ان کو عہدے سے ہٹانے کے لئے کیا جارہا ہے یا مائنس الطاف فارمولابنایا جا رہا ہے تو یہ ان کی جماعت کا اندرونی معاملہ ہے۔الطاف حسین ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، جو جمہوریت پسند ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہے ۔ جمہوری جماعتوں کی قیادت میں توردو بدل ہوتا رہتا ہے،اس میں خون خرابے کی تو کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی،اور اگر وہ پارٹی قیادت میں تبدیلی پر دھمکیاں دینے لگیں گے تو اس سے تو اس الزام کی توثیق ہو جائے گی کہ ایم کیو ایم ایک غیر جمہوری جماعت ہے۔الطاف حسین ایک بڑے لیڈر ہیں،انہیں ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہئے اور بولتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہئے، دنگا فساد، دھرنا اور پر تشدد احتجاج کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔موجودہ حالات میں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے اور ایم کیو ایم پر لازم ہے کہ وہ قانونی طریقے سے ہی ان سب مسائل کا سامنا کرے۔

مزید :

اداریہ -