لاہور پریس کلب، مظاہروں کا مرکز پولیس نے خود بنوایا، ٹریفک جام معمول

لاہور پریس کلب، مظاہروں کا مرکز پولیس نے خود بنوایا، ٹریفک جام معمول

لاہور پریس کلب ایسے مقام پر ہے جس کے چاروں طرف سڑکیں ہیں، اگر کلب کے دروازے کے سامنے کوئی مظاہرہ ہو تو عموماً ان سڑکوں پر ٹریفک بلاک ہو جاتی ہے۔ یوں بھی ہم ایسے حضرات ہیں کہ ایک دوسرے کا احترام نہیں کرتے جب ایسا وقت آتا ہے تو ہر کوئی خود گزرنے کی کوشش میں آمنے سامنے گاڑیوں کو پھنسا لیتا ہے۔ پریس کلب کا محل وقوع اپنی جگہ، لیکن ملک بھر میں پریس کلبوں کے باہر مظاہروں کی اپنی وجوہ ہیں۔ اس کی ایک مثال لاہور سے دیتے ہیں کہ یہاں تمام مظاہرے پنجاب اسمبلی کے باہر ہوتے تھے ایک ایسا دور تھا جب یہاں مرکزی گیٹ کے باہر بڑے بڑے برگد کے درخت تھے اور سائل ان کے نیچے دھوپ سے نجات پاتے تھے۔پھر یہ مظاہرے فیصل چوک میں ہونے لگے۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان پر نظر ڈالیں تو باغ بیرون موچی دروازہ سے تحریک سول نافرمانی کے جلوس ریگل چوک آتے، یہاں روک لئے جاتے اور گرفتاریاں پیش کرنے والے فیصل چوک تک جاتے جسے چوک چیئرنگ کراس کہا جاتا تھا جبکہ ریگل چوک میں پولیس سے جھڑپ ہوتی اور لاٹھی چارج، آنسو گیس کی نوبت آتی۔ یہ سلسلہ گزشتہ کئی برس تک جاری تھا پھر پولیس نے خود مظاہرین کو پریس کلب کے باہر مظاہرے کی تجویز دینا شروع کی ترغیب یہ تھی کہ کلب میں سب لوگ ہوتے ہیں کوریج بہتر ہوگی۔ چنانچہ پھر مطالبات والوں نے ادھر کا رخ شروع کر دیا اور اب تو ہر کوئی یہاں آتا ہے۔ مظاہرہ چھوٹا ہو یا بڑا ٹریفک تو چوراہے کی وجہ سے بلاک ہو جاتی ہے۔ لیکن پولیس کو پھر بھی فائدہ نہیں ہوا کہ فیصل چوک میں اب بھی مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

اسی دوران پنجاب اسمبلی میں لوڈشیڈنگ پر بڑا ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن نے مشترکہ طورپر احتجاج اور کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اسی دوران بجٹ بھی منظور کر لیا گیا، حالانکہ حکمت عملی کے تحت بائیکاٹ کم وقت کے لئے کیاجاتا اور پھر واپس آکر کٹوتی کی تحریکوں پر عوامی نقطہ ء نظر سے تقریریں ہوتیں۔ بہرحال یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا اسی کے تحت یہ بھی طے کر لیا گیا کہ جمعہ کے روز قومی اسمبلی اور سینٹ کی حزب اختلاف نے مشترکہ طور پر مظاہرہ کرنا ہے تو لاہور میں بھی کر لیا جائے۔ یہاں تجویز تحریک انصاف نے پیش کی اور پیپلزپارٹی پنجاب نے اسے اپنا لیا، اور اسے کل جماعتی بنا لیا، اسمبلی کے اندر اور باہر والی جماعتوں نے شرکت کی۔ مرکزی پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر میاں منظور وٹو ٹرک پر آئے۔ چودھری اعتزاز احسن نے بھی شرکت کی۔ میاں محمود الرشید تو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں، یہ بہت بھرپور مظاہرہ ہوگیا۔ اکابرین نے خطاب بھی کیا چودھری اعتزازاحسن کا فقرہ چبھتا ہوا تھا کہ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف اپنے وعدے اور اعلان کے مطابق اپنا نام بدل لیں بہرحال مظاہرین کی وجہ سے چاروں طرف ٹریفک بلاک ہوئی اور کئی گھنٹے تک رہی۔(کوریج ماٹھی تھی)

لاہور میں ملازمین سرکار کا احتجاج جاری ہے، پاکستان ہائیڈرو الیکٹریکل یونین کے مرکزی سیکرٹری جنرل خورشید احمد آج کل لیسکو کی نجکاری کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے جلسہ بھی کیا جس میں ورکرز پارٹی اور دوسری جماعتوں نے بھی شرکت کی اس میں اعلان کیا گیا کہ واپڈا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ جلسہ لاہور پریس کلب میں ہوا۔ محترم عابد حسن منٹو نے بھی شرکت اور خطاب کیا۔

اس پریس کلب میں دو روز قبل پریس کانفرنس ہوئی جس میں اوکاڑہ پیپلزپارٹی کے صدر اور سابق وزیر محمد اشرف سوہنا نے پیپلزپارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، ان کے اور پیپلزپارٹی مرکزی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو کے درمیان عرصہ سے کشمکش ہو رہی تھی سوہنا اور ان کے ساتھی اب تحریک انصاف میں جائیں گے کہ پیپلزپارٹی سے جانے والوں کا ٹھکانہ ہی یہ جماعت ہے۔ اشرف سوہنا نے کافی الزام لگائے۔ انہوں نے ماضی میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی شکایت کی ان کو تحمل اختیار کرنے اور ان کے تحفظات دور کرنے کا یقین بھی دلایا گیا لیکن کچھ بھی نہ ہو تو انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ ان کی پیروی میں صمصام بخاری (سابق وزیر امور مملکت) کے مستعفی ہونے کی اطلاع بھی گردش کر رہی ہے۔ میاں منظور احمد وٹو نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

آخری بات یہ کہ حضرت علامہ طاہر القادری بالآخر ساڑھے چھ ماہ کے بعد واپس آ گئے اور آتے ہی پریس کانفرنس میں اپنے صحت مند ہونے کا بھی ثبوت پیش کر دیا جب پرانے جوش کے مطابق ہی انہوں نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو مطعون کیا اور اب یہ الزام لگایا کہ سانحہ جون کی سازش اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی اور اس میں خود وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف موجود تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ 16جون کے شہدا کے خون کا بدلہ لئے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس مرتبہ انہوں نے براہ راست آرمی چیف سے اپیل کر دی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وزیراعلیٰ ، رانا ثناء اللہ اور جو دوسرے حضرات ملوث ہیں ان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے فیصلے کو رد اور مسترد کر دیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری دھرنا ختم کرنے کے بعد ہی علاج کے لئے چلے گئے اس عرصہ میں وہ کینیڈا ، امریکہ اور برطانیہ کے چکر بھی لگاتے رہے اور اب پھر تشریف لائے ہیں، ابھی انہوں نے اپنے ایک ہی تحفظ اور جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان تو کیا لیکن تفصیل بیان نہیں کی کہ کب کیا ہوگا۔اس سے پہلے وہ لندن میں یہ اعلان کرکے آئے ہیں کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف ملک گیر تحریک چلائے گی۔ رمضان المبارک میں منہاج القرآن کے زیر اہتمام ’’شہر اعتکاف‘‘بنتا تھا جو دہشت گردی اور ڈاکٹر طاہر القادری کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے یہ کئی سال سے نہیں ہوا، ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس بار ایسا ہوگا بھی یا نہیں؟

ڈاکٹر طاہر القادری لاہور پہنچے تو ان کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا لیکن پہلے جیسا جوش اور رش تو نہیں تھا پھر بھی اسے شاندار کہا جا سکتا ہے، ایئرپورٹ پر مخالفانہ نعرے بھی لگائے گئے پھر وہ جلوس کی شکل میں چار گھنٹوں میں منہاج القرآن پہنچے، آئندہ لائحہ عمل کا اعلان اب کسی وقت ہوگا فی الحال وہ تنظیمی امور نمٹائیں گے۔

***

مزید : ایڈیشن 1