کے الیکٹرک، ناجائز اور اقرباپروری سے نجکاری ہوئی

کے الیکٹرک، ناجائز اور اقرباپروری سے نجکاری ہوئی

  

کراچی میں گرم موسم کی شدت میں کمی تو آنا شروع ہو گئی ہے تاہم ہیٹ اسٹروک طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کے بڑھتے عذاب پانی کی عدم دستیابی خراب حکمرانی کے نتائج کے باعث تاحال شہریوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے اب تک کی اطلاعات کے مطابق1200سے زائد شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں اور جو اس کے ذمہ دار ہیں۔ وہ اپنی ذمہ اری ’’بلیم گیم‘‘ کے ذریعے دوسروں کے سر ڈالنے میں مصروف ہیں، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مرنے والوں کو پرسہ دینے کے لئے آنے والے سیاسی زعما بھی اِسی بلیم گیم کے مکروہ کھیل میں مصروف ہو گئے۔ اس کھیل میں مزید شدت کا خطرہ ہے جو جناب وزیراعظم کی کراچی آمد کے موقع پر آئے گی۔ جب سندھ حکومت خرابی اور ناکامی کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال کر وفاق کو مزید دباؤ میں لائے گی ، تا کہ سندھ کی سب سے طاقتور شخصیت اور ان کے خاندان کے فرنٹ مین سرکاری ملازمین اور غیر سرکاری افراد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا گھیرا ختم کرائے، سندھ حکومت اور ایم کیو ایم جو کے الیکٹرک کی ناکامی کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال رہی ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ ان دونوں کی سندھ اور مرکز میں مخلوط حکومت نے ہی تونجکاری کے معاہدے کے برعکس قواعد میں ترمیم کر کے ناجائز طور پر اربوں روپے کا ان کو فائدہ پہنچایا تھا۔ جب ایسا کیا جا رہا تھا تو کراچی سائٹ ایسوسی ایشن کے اس وقت کے چیئرمین کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ وفاقی حکومت کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ذمہ اربوں روپے کے قرضے ناجائز طور پر بِلا کسی جواز معاف کر کے بیل آؤٹ کر رہی ہے اور صنعتی صارفین کے ذمہ زبردستی 54ارب کے واجبات ڈال کر ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ مشرف دور میں ایم یو ایم کی رضامندی کے بعد ہی کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری عالمی ساہو کاروں کے ریکوری منیجر امپورٹڈ وزیراعظم شوکت عزیز کے فارمولے کے مطابق اونے پونے داموں ہوئی تھی (واضح رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا یہ بیان جب وہ طاقتور فوجی حکمران تھے ریکارڈ پر ہے کہ ’’مجھے شوکت عزیز نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے، پاکستان ریلوے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن ایک ڈالر میں بھی فروخت ہو تو (کرنے کا مشورہ دیا تھا) کر دیں۔ ایم کیو ایم جو پہلے کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری کی شدید مخالف تھی، نجکاری کی حامی ہوئی تو ایسی ہوئی کہ ایم کیو ایم کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے کسی قانونی جواز کے بغیر کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو روڈ کٹنگ چارجز کی ادائیگی سے بھی مستثنیٰ کر دیا۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن اس مد میں باقاعدگی سے شہری اداروں کو لاکھوں روپے کی ادائیگی کیا کرتی تھیں۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن سے نجکاری معاہدے پر عمل درآمد کرایا جاتا، تو وہ کب کی نادہندہ قرار پا کر ’’غاصب قابض‘‘ کے طور پر قانون کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے کھڑی ہوتی، مگر قومی بدقسمتی یہ ہے کہ نجکاری وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور میں ہوئی یا ورکرز پاٹنر شپ کے نام پر پیپلزپارٹی کے دور میں ہوئی ہو یا ایک ڈالر فارمولے کے تحت مشرف اور شوکت عزیز دور میں ہوئی ہو۔قطعی طور پر ٹرانس پیرنٹ ہوئی ہے اور نا ہی کسی طور پر بھی صاف شفاف ہوئی ہر جگہ ’’ساہو کاروں‘‘ کو نوازا گیا اور قومی مفادات کو پس پشت ڈالا گیا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف دور میں پاکستان اسٹیل ملز کی 260 ایکڑ زمین ایک غیر ملکی کمپنی ’’الطوارقی‘‘ کو دی گئی تھی کیا اس نے معاہدے کے مطابق شرائط پوری کر کے مکمل پلانٹ لگایا؟ واضح رہے کہ مشرف حکومت نے ’’الطوارقی‘‘ کو بعد میں وہ سہولتیں اور رعاتیں بھی دے دی تھیں جو معاہدے میں شامل بھی نہیں تھیں، جس کی وجہ سے بعض ماہرین نے سوال اٹھائے تھے کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ جتنا سرمایہ لے کر آئیں گے دوسرے ہاتھ سے اس سے زیادہ سرمایہ واپس باہر لے جائیں گے۔ حکومت نے 260 ایکڑ زمین لیز پر دی تھی، کہا گیا تھا کہ بعد میں معاہدے کے برعکس کرایہ پر حاصل کی جانے والی زمین کو قرضے حاصل کرنے کے لئے مارگیج کرنے کی رعایت کسی قانونی جواز کے بغیر دی گئی تھی، جس پر ماہرین نے سخت تنقید کی تھی، ان سب پہلوؤں کے باوجود معاہدے کے مطابق پلانٹ تو مکمل کیا ہوتا۔ اب تو بند ہی پڑا ہے۔ البتہ زمین بدستور کرایہ پر ’’الطوارقی‘‘ کے پاس ہے۔ نواز شریف اور مشرف دور میں بینکوں کی نجکاری پر کیا کچھ نہیں ہوا ، اس کا تو ذکر ہی کیا۔ قومی اداروں کی تباہی و بربادی کا سبب ان اداروں میں ’’میرٹ‘‘ کا قتل کر کے ذاتی وفاداروں کی سیاسی بناد پر بھرتیاں ہیں۔سندھ اس معاملے میں سب سے زیادہ بدقسمت صوبہ ہے جہاں میرٹ پر اب سرکاری ملازمت کا تصور تک بھی ختم ہو گیا ہے۔ 80ء اور 90ء کے عشرے سے پہلے میرٹ پر بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین تو موجود ہیں، مگر اچھی پوسٹنگ تب ہی ملے گی جب کسی طاقتور کی سیاسی سرپرستی ہو گی۔

جناب وزیراعظم کو اپنے دورۂ کراچی میں جس بڑے چیلنج سے نمٹنا ہے وہ ہے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ۔ واضح رہے کہ ہر چار ماہ بعد سندھ حکومت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کرتی ہے۔ سندھ حکومتی ذرائع کے مطابق اس بار سندھ حکومت کا موڈ دوسرا ہے وہ سنجیدگی کے ساتھ ماہرین کے ساتھ اختیارات میں کمی پر مشاورت کر رہی ہے موجود حالات میں وہ کمی کر پاتی ہے یا نہیں؟ یہ الگ معاملہ ہے، مگر دباؤ کے لئے استعمال ضرور کر رہی ہے۔ اہم اور بنیادی بات جس کا ادراک ضروری ہے وہ یہ ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت میں اچھی حکمرانی کا کوئی تصور ایسی مضبوط اپوزیشن کے بغیر نہیں، جو ایشوز پر پورے ہوم ورک کے ساتھ ذمہ دارانہ بات کرنے کا ہنر اور سلیقہ بھی جانتی ہو۔ بدقسمتی سے پورا مُلک اور خصوصاً سندھ اس سے بالکل ہی محروم ہے۔ جناب عمران خان کی شکل میں اپوزیشن کی توانا آواز تو موجود ہے۔ کاش ان کی توانا آواز ذمہ دارانہ بھی ہوتی۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے عوام کے ایک بڑے حلقہ کی تائید آج بھی ان کو حاصل ہے، مگر اس کا کیا کِیا جائے کہ وہ خود ہی ایسی روش پر چل پڑے ہیں جس میں ان کے بارے میں موجودہ حکمرانوں کے مقابلے میں بہتر متبادل کا امیج بننے کی بجائے مزید خراب ہو رہا ہے، رہی سہی کسر پارٹی کے اندر جاری مفاداتی جنگ پوری کر رہی ہے، جس کے آگے بندھ نہ باندھے گئے تو پارٹی کا داخلی خلفشار سیاسی عمل کے لئے نقصان دہ ہو گا جس کی فکر کرنی چاہئے۔ جناب عمران خان نے اپنے مخالفوں کے بارے میں جو انداز تخاطب اور جو لب و لہجہ اختیار کیا۔ اب پارٹی میں دھڑے بندیاں وہی زبان اپنے اپنے مخالف دھڑے کے بارے میں استعمال کرتے نظرآتی ہیں۔ مُلک کے سنجیدہ طبقے کو سب سے زیادہ حیرت تو جناب سراج الحق صاحب پر ہے، جنہوں نے کراچی میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے بارے میں نہایت غیر شائستہ غیر مہذب اور نامناسب الفاظ میں ذکر کرتے ہوئے انہیں فریج میں رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ معلوم نہیں سید مودودیؒ کی قائم کردہ جماعت کے امیر کو سید مودودیؒ کی مجلس میں شرکت کا شرف حاصل ہوا ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ملا ہے، تو خدارا ان کی مجلسی نشستوں کی رو داد کا بغور مطالعہ کرنے کی زحمت گوارا فرما لیں۔ راقم کو جماعت اسلامی کی تنظیم میں کسی حیثیت میں رفیق یا کارکن ہونے کا شرف تو حاصل نہیں ہے، مگر سید مودودیؒ کی نجی مجلسوں میں شرکت کے کئی مواقع حاصل ضرور رہے۔ انہوں نے اور ان کی جماعت کے ذمہ داروں نے اپنے بدترین سیاسی مخالفوں کے بارے میں بھی کبھی ثقاہت سے گرا ہوا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا تھا۔ سید مودودیؒ کی جماعت کے امیر کو اس کا ادراک ہونا چاہئے کہ وہ اپنی غیر شائستہ زبان سے اپنا اور اس جماعت کا امیج خراب کر رہے ہیں، جس کی شائستگی اور تہذیب کے دائرہ میں رہ کر بات کرنے کے وہ بھی قائل تھے، جو ان کے خون کے پیاسے رہے ہیں۔

اب ایک اچھی خبر کا ذکر جس کا فائدہ عید کے موقع پر مُلک بھر کے شہریوں کی طرح کراچی کے وسائل سے محروم ان شہریوں کو بھی ہو گا جو عیدالفطر اپنے عزیزوں کے ساتھ منانے کے لئے اندرون مُلک سفر کریں گے۔ ریلوے ایک زمانہ تک پاکستان کے شہریوں کو سب سے بہتر اور سب سے سستی سفر کی سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ رہا ہے۔1973ء تک یہ مُلک کا ایک منافع بخش ادارہ رہا ہے۔ 1988ء تک بھی اس کا خسارہ قابلِ برداشت تھا تاہم اس کی تباہی کی ابتدا تو 1974ء میں اس وقت کے سیکرٹری خزانہ (بعد ازاں صدرِ مملکت) غلام اسحاق خان کی عاقبت نا اندیش اس پالیسی سے ہوئی تھی، جس کے تحت کراچی پورٹ سے سرکاری کارگو ٹرکوں کے ذریعے اندرون مُلک لے کر جانے کی اجازت دے کر(روڈ مافیا) کو نوازنے کی پالیسی اپنائی گئی تھی تاہم اصل تباہی جنرل ضیاء الحق کی کابینہ کے وزیر ریلوے جناب جنرل سعید قادر اور جنرل پرویز مشرف کی کابینہ کے وزیر ریلوے جناب جنرل جاوید اشرف قاضی کی ریلوے کے لئے تباہ کن پالیسیوں کے اختیار کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں میرٹ کے بغیر سیاسی بھرتیوں نے معاملات کو بہت خراب کیا تھا۔ اب ریلوے کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جناب رؤف طاہر نے وزیر ریلوے جناب سعد رفیق کی پریس کانفرنس کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ عیدالفطر پر ریلوے کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لئے سب سے بڑا سروس آپریشن 11جولائی سے 16جولائی تک شروع کر رہا ہے جس میں کراچی سے ہر روز ایک اسپیشل ٹرین کراچی سے لاہور اور مُلک کے دیگر حصوں کے لئے چلائی جائے گی دیگر ٹرینیں بھی چلیں گی کل تعداد 23 ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -