جونیئرڈاکٹر کو جنرل ہسپتال ، پی جی ایم آئی کا سربراہ پرنسپل لگانے کی تیاریاں

جونیئرڈاکٹر کو جنرل ہسپتال ، پی جی ایم آئی کا سربراہ پرنسپل لگانے کی تیاریاں

لاہور(جاوید اقبال)محکمہ صحت نے میر ٹ کا قتل عام شروع کر دیا ہے جس کے تحت لاہور سمیت صوبہ بھر میں 150 پرو فیسرز سے جونیئر ترین ڈاکٹر اور سیکریٹری معدنیات کے بھائی ڈاکٹر خالد محمود کو لاہور جنرل ہسپتال ، پی جی ایم آئی اور امیر الدین میڈیکل کالج کا سربراہ پرنسپل لگانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اس ڈاکٹر کا محکمہ صحت میں پروفیسرز کی سینیارٹی لسٹ میں 151واں نمبر ہے لاہور جنرل ہسپتال میں ان سے 18پروفیسر اور 3نیورو سرجن سینیئر ہیں لیکن پنجاب حکومت کے چہیتے سیکریٹر معدنیات ارشد محمود کا بھائی ہونے کی وجہ سے انہیں بیورو کریسی نے پرنسپل کے لیے اوکے کروا لیا ہے جس کا آئندہ 24گھنٹوں میں نوٹیفکیشن متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنسپل کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے قبل ہی لاہور جنرل ہسپتال کے پروفیسر نے چیف ایگزیکٹو بن کر اختیارات استعمال کرنے شروع کر دیئے ۔سپریٹنڈنٹ سمیت دیگر متعلقہ اہلکاروں کو ٹیلی فون کر کے اپنی رہائش گاہ طلب کر لیا 'ادھر"پنجاب میڈیکل ٹیچرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اگر پروفیسر خالد محمو د کو لاہور جنرل ہسپتال تعینات کیا گیا تو احتجاج کیا جائے گا ۔پروفیسر خالد محمود پنجاب بھر ممیں سنیارٹی لسٹ میں 150ویں نمبر پر ہیں جبکہ لاہور جنرل ہسپتال مں ان سے 18پروفیسر سینئر ہیں ۔نیورو سرجری کے پروفیسر ز کی لسٹ سے ان سے دو نیورو سرجن پروفیسر شہزاد شمس اور پروفیسر رضوان مسعود بٹ ان سے سینئر ہیں ایسوسی ایشن نے فوری طور پر مراسلہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لاہور جنرل ہسپتال کا پرنسپل جونیئر پروفیسر خالد محمود نیورو سرجن کی بجائے کسی سینئر پروفیسر کو تعینات کیا جائے ۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ پروفیسر خالد محمود کو اس بناء پر پرنسپل نہ لگایا جائے کہ ان کے بھائی ایوان وزیر اعلیٰ میں سیکریٹری رہ چکے ہیں اور ان وہ پنجاب حکومت کے سیکریٹری معدنیات ہیں اور انہوں نے ایوان وزیر اعلیٰ کے دو سیکرٹریوں مشیر صحت اور سیکریٹری صحت کی ملی بھگت سے ان کو جونیئر ہونے کے باوجود پینل میں شامل کیا اور اس کے لیے پنجاب بھر میں دو سینئر ترین نیورو سرجن نشتر میڈیکل کالج ملتان کے پروفیسر اظہر اور الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے پروفیسر طارق احمد کو پینل سے آوٹ کرا دیا اور تین پروفیسرز کا پینل بنوا دیا جن میں نیورو سرجری کے پنجاب میں سینئر ترین پروفیسر رضوان مسعود بٹ ،پروفیسر شہزاد شمس اور جونیئر ترین نیو رو سرجن پروفیسر خالد محمود کے نام شامل کرائے گئے مگر سینئرز کو انٹر ویو میں نظر انداز کر دیا گیا اور سیکریٹری معدنیات ارشد محمود کے حقیقی بھائیاور 4 سیکریٹریوں کے سفارش سے آگے آئے پروفیسر خالد محمود کو پرنسپل لاہور جنرل ہسپتال اور پی جی ایم آئی کے لیے اوکے کر دیا گیا ۔بتایا گیا ہے کہ پروفیسر نے اپنے بھائی سے پرنسپل کے لیے اوکے ہونے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال میں بطور چیف ایگزیکٹو احکامات جاری کرنا شروع کر دیئے ہیں اور ماتحت عملے کو اپنی رہائش گاہ طلب کر لیا اور اپنا کمرہ تیار کرنے اور چارج شیٹ فل کرنے ،نیا فرنیچر لانے کے احکامات جاری کر دیئے ۔ادھر پنجاب میڈیکل ایسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ کو مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں سینیارٹی لسٹ میں 150ویں نمبر پر آنے والے پروفیسر خالد محمود کو لاہور جنرل ہسپتال کا پرنسپل لگانا میرٹ کا قتل عام ہے اس پروفیسر سے لاہور جنر ل ہسپتال میں 18پروفیسر سینئر ہیں جن کی حق تلفی کی گئی ہے کیو نکہ پروفیسر خالد اعلیٰ بیورو کریٹ کا بھائی ہے ۔وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خالد محمود کو پرنسپل لاہو جنرل ہسپتال لگانے کا فیصلہ واپس لیں ورنہ احتجاج ہو گا ۔اس حوالے سے مشیر صحت خواجہ سلیمان رفیق کا کہنا تھا کہ انہوں نے لسٹ وزیر اعلیٰ کو بھجوا دی تھی ۔کسی کو سیٹ پر

مزید : میٹروپولیٹن 1