رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کی بھر مار انتطامیہ بے بس

رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کی بھر مار انتطامیہ بے بس

 لاہور(اقبال بھٹی)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی رہائشی سکیموں میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پلازے دھڑا دھڑ تعمیر ہونے لگے۔پلازہ مالکان نے ایل ڈی اے بائی لاز کو ہو امیں اڑ ا دیا۔تفصیلات کیمطابق مین کینال روڈ پر واقع ایل ڈی اے کی رہائشی سکیمیں جن میں موہلنوال سکیم،جوبلی ٹاؤن اور پرائیویٹ سکیمیں جن میں پی اینڈ ڈی اور اقبال ایونیو ہاؤسنگ سکیم میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پلازے تعمیر کئے جا رہے ہیں جن کو روکنے والا کوئی نہیں ۔ذرائع کیمطابق موہلنوال سکیم جو کہ ڈیفنس روڈ مین کینال روڈ پر آتی ہے نہر پر جتنے بھی پلاٹ آتے ہیں تمام پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کی جا رہی ہیں حالانکہ اس جگہ پر کمرشلائزیشن پر سختی سے منع کیا گیا ہے لیکن نہ تو ایل ڈی اے کے افسران نے اس پالیسی کا خیال رکھا ہے اور نہ ہی پراپرٹی مالکان نے قانون پر عملدرآمد کیا ہے اس کے علاوہ جوبلی ٹاؤن سکیم کی 4مین سڑکیں ہیں جو کہ 150فٹ چوڑی ہیں سب پر کمرشل پلازے تعمیر کیے جا رہے ہیں ۔اس کے علاوہ نہر پر پرائیویٹ سکیمیں پی اینڈ ڈی اور اقبال ایونیو سکیم آتی ہیں ان کے بھی رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پلازے تعمیر کیے جا رہے ہیں حالانکہ اس کیلئے ایل ڈی اے کی واضح پالیسی ہے کہ اگر رہائشی پلاٹ ہے اور کمر شل تعمیر کرنی ہے تو پہلے پلاٹ کو کمرشل کراؤ مگر یہاں ایسا نہیں کیا گیا ۔ رہائشی پلاٹ کا رہائشی نقشہ منظور کروا کر اس پر کمرشل تعمیرکر دی جاتی ہے اس حوالے سے جب ایل ڈی اے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ڈپٹی ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ کا کہنا تھا کہ محکمہ رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات پر سخت ایکشن لیتا ہے مگر اب رولز میں تبدیلی آگئی ہے اگر کوئی رہائشی پلاٹ پر کمرشل تعمیر کرتا ہے اور وہ روڈ کمرشل منظور نہیں ہے تو محکمہ اس پلاٹ کو سالانہ بنیاد پر کمرشل فیس کا چالان مالک کو دے دیتا ہے ،اگر مالک کمرشل فیس جمع نہیں کراتا تو بلڈنگ کو سیل کر دیا ہے اورجب تک کمرشل فیس ایل ڈی اے کے خزانے میں جمع نہیں کراتا تب تک پراپرٹی کو ڈی سیل نہیں کیا جاتا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1