اسرائیل کا مصر کے بعد اردن کی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کا فیصلہ

اسرائیل کا مصر کے بعد اردن کی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کا فیصلہ

مقبوضہ بیت المقدس(آن لائن)اسرائیلی حکومت نے مصر کی سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کے بعد اسے توسیع دیتے ہوئے اردن کی سرحد پر بھی خاردار حفاظتی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کابینہ نے مصری سرحد سے متصل علاقے میں سیکیورٹی باڑ کے منصوبے کی تکمیل کے بعد اسے اردن کی سرحد پر بھی لگانے کی منظوری دی ہے۔خیال رہے کہ اردنی حکومت اور تل ابیب پہلے ہی اپنی 240 کلومیٹر مشترکہ سرحد اور مغربی کنارے کے اندر آنے والے وادی اردن کے 90 کلو میٹر کے علاقے میں حفاظتی باڑ کے منصوبے سے اتفاق کرچکے ہیں۔اسرائیلی حکومت نے سنہ 2013ء میں جزیرہ نما سینا کے علاقے سیمتصل بارڈر پر پانچ میٹر اونچی خاردار باڑ لگانے کے بعد خدشہ ظاہرکیا تھا کہ مسلح عناصر اردن کے راستے اسرائیل میں داخل ہوسکتے ہیں۔مصر کی سرحد پر خاردار حفاظتی باڑ کوئی 30 کلومیٹر کے علاقے پر لگائی ہے جو بحر احمر کے ساتھ ساتھ سیاحتی علاقے ایلات کے جنوب سے غزہ کی پٹی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں ایلات سے اردن تک اس باڑ کو مزید وسعت دینے کی منظوری دی۔یہ حفاظتی باڑ اسرائیل کے تمناع کے مقام پر زیر تعمیر ہوائے اڈے کی حفاظت کے لیے بھی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ہوائی اڈہ غزہ تل ابیب میں بن گوریون ہوائی اڈے پر خطرے کی صورت میں متبادل فضائی ٹریفک کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اردن کی سرحد پر خاردار تار کی باڑ ان کی قومی سلامتی کا حصہ ہے۔ یہ حفاظتی باڑ اردن اور اسرائیل کے تمام سرحد پر بنائی جائے گی۔ اس باڑ کا اردن کی قومی سلامتی اور سیکیورٹی مفادات کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

مزید : عالمی منظر