اوبامہ 2009ء سے ایران کو خفیہ طور پر رعائتیں دینے میں مصروف

اوبامہ 2009ء سے ایران کو خفیہ طور پر رعائتیں دینے میں مصروف

 واشنگٹن( اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ سمیت دیگر پانچ ممالک کے ساتھ ایران کے ایٹمی پروگرام پر چند ماہ قبل قدیم ورک سمجھوتہ طے پانے کے بعد اس کی تفصیلات طے کر کے ایک حتمی معاہدے پر دستخط کرنے کی ڈیڈ لائن 30 جون کو آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ تاہم جس طرح کی بھی یہ دستاویز تیار ہو گی وہ ایران کو حاصل ہونے والی یک طرفہ رعائیتوں کے باعث یقیناً ایک’’ خطر ناک معاہدہ‘‘ کہلائے گی۔ واشنگٹن میں قائم ٹھنک ٹینک ’’ سنٹر فار سیکیورٹی پالیسی‘‘ کے تحقیق اور تجزیے کے شعبے کے سربراہ کلیئر لوپیزClaire Lopez نے آج ایران کے ایٹمی معاہدے پر ہونے والی پیش رفت پر نیا تازہ تجزیہ جاری کیا ہے جس میں یہ تبصرہ شامل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ نے2009ء میں جب ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام ہرمذاکرات شروع کئے تھے اس وقت سے وہ ایران کو خفیہ طور پر مسلسل رعائتیں دینے میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اومان رابطے کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔تجزیہ نگار نے ’’ وال سٹریٹ جرنل‘‘ کے کالم نگار جے سولومن کے ایک تازہ آرٹیکل کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں بتیا گیا ہے کہ امریکہ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے رہائتیں دیتا رہا ہے۔ اب تک جو رہائتیں دی گئی ہیں ان میں امریکہ اور برطانیہ میں قید چار اہم امریکی باشندوں کی رہا کی شامل ہے۔ ان میں دوسرا یافتہ اسلحے کی سمگلر، ایک ریٹائرڈ سنیئر سفارت کار اور ایک ایران کو غیر قانونی برآمد میں ملوث سائنس دان ہے۔ امریکہ نے ایرانی طلباء کے لئے امریکی ویزوں کی تعداد بھی بڑھائی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی سفارش پر پاکستان کے ایک عسکری گروہ’’ جند اللہ‘‘ کو بلیک لسٹ کیا۔ اس گروہ پر ایران کے مشرقی علاقے میں امام بارگاہوں پر دہشت گرد حملے کرنے کا الزام ہے جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ تجزیہ نگار نے مختلف ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ آئندہ جو معاہدہ طے ہونے جا رہا ہے اس میں ایران کو یورنیم کا وہ اہتمام پرانا سٹاک اپنے پاس بر قرار رکھنے کی اجازت حاصل ہو گی۔ جو وہ پہلے سے تیار کر چکا ہے۔ تاہم اسے یہ ضرور کہا جائے گا کہ وہ تحلیل کر کے انتی سطح پر آئے جس پر اس سے ایٹمی اسلحہ تیار کرنے کے لئے زیادہ وقت درکار ہو۔ ایران کا یہ مطالبہ بھی تعلیم ہو جائے گا کہ کچھ ایٹمی شخصیات کو معائنے سے مسثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے لاس اینجلس میں قائم شہنشاہت کے حامی ایرانی گروہ ہر پابندیاں لگانے کا بھی مطالبہ کیا تھا جسے امریکہ نے منظور نہیں کیا۔ تاہم سابق ایرانی صدر محمد خاتمی کی درخواست پر مجاہدین خلق اور ایران کے خلاف مزاحمت کی قومی کونسل کو 1997ء اور 2003ء میں با ترتیب دہشت گرد قرار دے دیا گیا تھا۔ تجزیہ نگار نے’’ وال سٹریٹ جرنل‘‘ کے 14 جون کے ایک ادارے کا بھی حوالہ دیا جس میں پہلی بار معلوم ہوا تھا کہ ایران کے ساتھ’’ فریم ورک سمجھوتے‘‘ کے اعلان کے اگلے روز امریکی وزارت خزانہ نے عبدالقدیر خان نیٹ ورک میں شامل دینی میں مقیم سری لنکا کے تاجر بحاری سید ابو طاہر پر 2004ء سے لگی پابندیوں کو اٹھا لیا تھا۔ اس نیٹ ورک نے مبینہ طور پر ایران، لیبیبا اور شمالی کوریا کو ایٹمی پروگرام کے پرزے فراہم کئے تھے۔

مزید : علاقائی