چینی کمپنیوں کی شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر میں دلچسپی

چینی کمپنیوں کی شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر میں دلچسپی

لاہور(کامرس رپورٹر)چینی کمپنیوں نے پاکستان میں شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھروں کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی پیشکش کر دی ۔یہ بات چینی بزنس کمیونٹی کے 6 رکنی وفد نے چانگ یوکائی ڈائریکٹر فوڈ ڈیپاٹمنٹ ہنڈن سٹی چین کی قیادت میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل آفس میں ریجنل چےئرمین خواجہ ضرار کلیم سے ایک ملاقات میں کہی جس میں دونوں ممالک کے اشتراک سے پاکستان میں جاری انرجی بحران کے خاتمہ اور باہمی تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔اس موقع پر خواجہ ضرار کلیم نے وفد کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے چین کے تعاون سے بہاولپور میں سب سے بڑا 950میگاواٹ کا قائداعظم سولر پاور پارک منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے اور 100میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی گئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں جرمنی37 فیصد ، چائنا 25% ،سپین 12.7% ، جاپان7% اور انڈیا2% بجلی سولر سے پیدا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے پاکستان کے بیشتر علاقوں میں سورج کی روشنی 14 12-گھنٹے موجود ہے جس کو انسٹال کرنے کی سطح بھی سولر ٹیکنالوجی کیلئے بہت موزوں ہے جس کو بڑی آسانی کے ساتھ بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرکے ہم دور دراز کے علاقوں میں بجلی مہیا کر سکتے- ہیں جس سے غربت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔بجلی کی پیداوار کیلئے سولر ٹیکنالوجی کا استعمال دنیا میں بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ تقریباً ایک سو ممالک میں رائج ہے اگرچہ یورپین ممالک کو اس میں فوقیت حاصل ہے مگر یہ ٹیکنالوجی شمالی افریقہ ،مشرق وسطا،شمالی امریکہ اورساوتھ ایشیاء میں بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔

بجلی گھر

مزید : صفحہ آخر