صحرائے صحارا میں کبھی دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہوا کرتی تھی،تحقیق

صحرائے صحارا میں کبھی دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہوا کرتی تھی،تحقیق
صحرائے صحارا میں کبھی دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہوا کرتی تھی،تحقیق

  

نجامینا (نیوز ڈیسک) صحرائے صحارا کا شمار دنیا کے عظیم ترین صحراؤں میں ہوتا ہے جہاں لاکھوں مربع کلو میٹر کے علاقے میں صرف ریت اڑتی دکھائی دیتی ہے لیکن کیا آپ یقین کریں گے کہ کبھی اسی بے آب و گیاہ علاقے میں میں دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہوا کرتی تھی۔ برطانوی سائنسدانوں نے ایک تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ صحارا کے علاقے میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل آج سے محض 1000سال قبل موجود تھی اور یہ تقریباً 3,60,000مربع کلو میٹر کے وسیع و عریض رقبے پر محیط تھی۔ یہ جھیل صرف چند سو سال کے عرصہ میں تبخیر کے عمل سے بخارات میں تبدیل ہوئی اور پھر ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی ۔ جھیل عظیم چاڈ کہلانے والا پانی کا یہ بڑا زخیرہ تین افریقی ملکوں چاڈ، نائجیریا اور کیمرون پر محیط تھا اور آج بھی اس کی باقیات 355مربع کلو میٹر کی ایک جھیل کی صورت میں باقی ہیں۔ آج یہی علاقہ وسیع و عریض ریت کے میدانوں پر مشتمل ہے اور یہاں سے اڑنے والی ریت ہوا کے ریلوں کے ساتھ ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے جنوبی امریکا میں امیزون جنگلات تک پہنچتی ہے اور ان جنگلات کی زرخیزی کا باعث بنتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لاکھوں مربع کلومیٹر پر پھیلے امیزون کے گھنے جنگلات کی زرخیزی کیلئے قدرت نے عجیب و غریب انتظام کررکھا ہے۔ صحارہ صحرا سے اڑنے والی ریت بحر اوقیا نوس کے اوپر سے گزر کر ان جنگلات میں آتی ہے اور اپنے ساتھ نباتات کیلئے ضروری غذائی اجزاء بھی لاتی ہے جو ہزاروں سال سے اس لامتناہی جنگل کو زندگی دے رہی ہے۔یہ اہم تحقیق یونیورسٹی کالج لندن کے سائنسدانوں نے کی اور اسے سائنسی جریدے ’’پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی