اقوام متحدہ پیش کرنے کیلئے بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں ، جنرل راحیل

اقوام متحدہ پیش کرنے کیلئے بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں ، جنرل راحیل

اسلام آباد(آن لائن)ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے بھارتی مداخلت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے سے اتفاق کرتے ہوئے اس کے ٹھوس ثبوت اقوام متحدہ کے سامنے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملک میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کا فائنل راؤنڈ شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق منگل کے روز پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی ہے جس میں ملک کی سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب پر تبادلہ خیالات کیا گیا،آرمی چیف نے وزیر اعظم کو کراچی میں امن وامان اور دہشتگر دو ں کے خلا ف جاری آپریشن ضرب عضب کی تازہ صورت حال کے بارے میں بتایا جبکہ دونوں رہنماؤں نے ملک میں امن وامان اور سکیورٹی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ملاقات میں ایم کیو ایم کی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے فنڈنگ سے متعلق بی بی سی کی رپورٹ بھی زیر غور آئی اور اس حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پرغور کیا گیا۔ملاقات میں آرمی چیف نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ملک کی سکیورٹی ایجنسیز کے پاس پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جس سے پوری دنیا میں بھارت کاچہرہ بے نقاب ہو جائیگا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اسلام آباد میں خارجہ حکام سے ملاقاتیں کیں جن میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کی پاکستان میں مداخلت کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ملیحہ لودھی کی دفتر خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈا کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ بھارت کی پاکستانی معاملات میں مداخلت کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کشمیر اور دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی موقف کو اقوام متحدہ میں پیش کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی وزیراعظم محمد نواز شریف سے بھی ملاقات کریں گی۔ ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ ملیحہ لودھی کی دفتر خارجہ حکام سے ملاقاتیں معمول کی ہیں۔

لندن (خصو صی رپورٹ) لندن میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماء طارق میر کا بیان پولیس ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پولیس کے ترجمان ایلن کروکرفورڈنے کہا ہے کہ ایم کیو ایم رہنماء طارق میر سے منسوب مبینہ اعترافی بیان لندن پولیس کے ریکارڈ کی دستاویز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم رہنماء طارق میر کا مبینہ بیان سوشل میڈیا پر جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ ایم کیو ایم کو فنڈنگ کرتی ہے۔ طارق میر سے منسوب یہ بیان سوشل میڈیا پر نامعلوم ذرائع سے جاری کیا گیا تھا جس کے بعد یہ بیان پاکستان کے ہر اخبار میں شائع ہوا اور ہر ٹی وی چینل پر بار بار نشر کیا گیا۔لندن میٹروپولٹن پولیس کے ترجمان ایلن کروکرفورڈ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ پولیس نے پاکستان کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے اس مبینہ اعترافی بیان کا بغور جائزہ لیا ہے۔ جس کے بعد ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ پولیس کی دستاویز نہیں ہے۔منی لانڈرنگ کیس میں ملوث سرفراز مرچنٹ نے تصدیق کی ہے کہ میڈیا کو ملنے والا طارق میر کا بیان متحدہ کے دو سابق راہنماؤں کے بیانات کا حصہ ہے دونوں راہنماؤں نے اپنے بیانات میرے ساتھ شیئر کیے تھے۔ سرفراز مرچنٹ نے کہا کہ جب یہ بیانات ان رہنماؤں نے مجھے دکھائے اس وقت وہ ایم کیو ایم میں موجود تھے تاہم بعد میں ایم کیو ایم سے نکال دیا گیا سرفراز مرچنٹ نے کہا کہ میڈیا پر جو طارق میر بیان چلا ہے وہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے بیانات کا صرف ایک صفحہ ہے۔

مزید : صفحہ اول