کس کے اعصاب مضبوط کون سرخرو، جلد معلوم ہوگا!

کس کے اعصاب مضبوط کون سرخرو، جلد معلوم ہوگا!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

کراچی نگاہوں کا مرکز ہے وہاں ایک نہیں کئی مسائل چل رہے ہیں اور ان میں اضافی طور پر اعصابی جنگ بھی ہے۔ اس میں کون زیادہ مضبوط ثابت ہوگا یہ وقت ہی بتا سکے گا ۔ اس وقت رینجرز اور ایف آئی اے بیک وقت متحرک ہیں اور سندھ حکومت کے مختلف محکموں سے کرپشن مافیا کو اُٹھائے چلے جا رہے ہیں۔ اس میں دو جماعتوں کا نام آتا ہے تو متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف بھارتی امداد اور ٹارگٹ کلنگ جیسے الزامات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قدرتی آفت گرمی اور حبس ہے جس میں انسانوں کی لاپرواہی بھی شامل ہے اور اب تک پندرہ سو کے قریب افراد لقمہ اجل بن گئے اور ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، اس حوالے سے الزام تراشی کا بھی سلسلہ جاری ہے جبکہ مریضوں کی عیادت کا مقابلہ شروع ہو گیا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے سیاست اور سیاست دان تو بالواسطہ اور بلا واسطہ بدنامی کی زد میں ہیں گرفتار حضرات کے بیانات شائع ہو جاتے اور انکشاف میں بڑی شخصیت کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث ملزم بھی اسی نوعیت کے بیان دیتے رہے ہیں۔

اس میں اب راز داری کیسی پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں ہی معتوب ہیں۔ سندھ حکومت اور کراچی سے ایسی ہی اطلاعات آتی ہیں اب تو دیرینہ خواہشات کے حامل دانشور حضرات جو جانبدار ہو کر خود کو غیر جانبدار کہلانے کی سعی کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے خاتمے اور ایم کیو ایم کے دھڑن تختے کی بات کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مستقبل کا نقشہ سیاست مختلف ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے پی کے، بلوچستان اور پنجاب میں تو نمائندگی کھو چکی اب سندھ میں بھی اس کی ساکھ بری طرح تباہ ہو گئی ہے جبکہ متحدہ بھی جلد ایسے حضرات سے پاک ہو جائے گی جو انتہا پسند ہیں اور ملک کے خلاف بھی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ متحدہ تقسیم ہو گی اور اس میں سے غلط لوگ باہر ہو جائیں گے اور احتساب کو پہنچیں گے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کو کرپشن کا حساب دینا ہوگا۔

اس تمام تر صورت حال میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ اعصابی جنگ لڑ رہی ہیں اور ہر دو اپنے طور پر مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نہ صرف دوبئی جا کر واپس آئے بلکہ متحرک بھی ہیں اور مجموعی طور پر سندھ حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق سابق صدر اور شریک چیئرمین اپنا طبی معائنہ کرانے کے لئے گئے دوبئی سے ان کو امریکہ جانا ہے، اب شاید وہ جلد واپس آ جائیں کہ ان کو بھگوڑا کہا جا رہا ہے۔ کراچی میں وزیر اعظم محمد نوازشریف کی اپنی سرگرمیاں ہیں، ان کو گزشتہ روز پہنچنا تھا نہ جا سکے اب اطلاع ہے کہ آج جائیں گے۔ ان کو پیپلزپارٹی کے شکوے بھی برداشت کرنا پڑیں گے۔ بہر حال اس اعصابی جنگ میں کون سرخرو ہوتا ہے یہ بعد میں پتہ چلے گا۔ اب تو ایم کیو ایم کے سب کچھ الطاف حسین نے قسم کھا کر ’’را‘‘ سے تعلق نہ ہونے کا اعلان کیا، تاہم ساتھ ہی گلی گلی جنگ والی بات کہہ کر واپس لی اور وضاحت کر دی۔

متحدہ اور کرپشن کے خلاف محاذ کے ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی نبرد آزما ہیں اور ہر روز مقابلوں کی اطلاعات ملتی ہیں یوں بھی شدت پسندوں نے ہار تو نہیں مانی البتہ ان کی کارروائیاں کم اور طریقہ تبدیل ہوا ہے۔ گزشتہ روز تھانہ فیروز والا لاہور کی پٹھان کالونی میں اطلاع ملتے پر چھاپہ مارا گیا تو دہشت گرد مقابلے پر اُتر آئے دو مارے گئے ایک نے خود کش جیکٹ پھاڑ کر خود کو اُڑا لیا دو زخمی حالت میں پکڑے گئے اور اسلحہ بھی برآمد ہوا یوں بڑے حادثے سے بچ گئے چند اہل کار بھی زخمی ہوئے ان میں سے دو کی حالت نازک ہے۔

ان حالات میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم آئی اور اسے مشتبہ افراد تک رسائی دی گئی اور تفتیش ہو رہی ہے۔ بیانات واضح ہیں اورگاڑی آگے چل پڑی ہے 2010ء میں ہونے والے قتل کی واردات کا ڈراپ سین جلد ہوگا۔ اب اس واردات کا چالان مرتب ہوگا تو کیا اس میں اعلیٰ قیادت تک شامل ہو گی یا نہیں یہ بھی وقت بتائے گا؟ انتظار ہی بہتر ہے اور نتائج اخذ کرنے سے بھی گریز ہی کرنا چاہئے۔

مزید : تجزیہ