کرپشن ملک کا المیہ بنتا جارہا ہے، جسٹس جواد ، سپریم کورٹ نے 50 بڑے اسکینڈلز کی تفصیلی طلب کرلی

کرپشن ملک کا المیہ بنتا جارہا ہے، جسٹس جواد ، سپریم کورٹ نے 50 بڑے اسکینڈلز کی ...
کرپشن ملک کا المیہ بنتا جارہا ہے، جسٹس جواد ، سپریم کورٹ نے 50 بڑے اسکینڈلز کی تفصیلی طلب کرلی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب سے پچاس میگا اسکینڈلز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مالیاتی بدعنوانی، قبضہ مافیا، اختیارات سے تجاوز کی کیٹیگریز میں میگا اسکینڈلز کی تفصیلات چیئرمین نیب کے دستخطوں سے جمع کرائی جائیں۔ عدالت نے پہلے درجے میں مالیاتی اسکینڈلز، دوسرے درجے میں اراضی کی خریدو فروخت سے متعلق کرپشن کے اسکینڈلز اور تیسرے درجے میں نیب ملازمین کے اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ نیب کی جانب سے ملزموں کو چھوڑنے کی شرح سب سے زیادہ ہے ، کیا نیب کو کراچی میں چائنہ کٹنگ کی کوئی شکایت نہیں ملی، نیب میں 75 فیصد شکایات پلی بارگین کے نتیجے میں ختم ہو جاتی ہیں۔ نیب میں بد انتظامیوں اور بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل سلیمان اسلم بٹ ، نیب کے پراسیکیوٹر جنرل وقاص قدیر ڈار کے علاوہ لاءاینڈ جسٹس کمیشن کے سیکریٹری عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے نیب کی کارکردگی کے حوالے سے عدالت کو رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق نیب کو گزشتہ پانچ سال کے دوران کل 19997 شکایات ملی تھیں، جن میں سے 467 شکایات انکوائری میں تبدیل ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ آنے والی 1890 شکایات کونمٹا دیاگیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیب کوجو شکایات ملتی ہیں ان کاجائزہ لینے کے بعد اگرکوئی شکایت درست ثابت ہوتی ہے تو شکایت کنندہ کوبلاکر کیس کے حوالے سے باقاعدہ کارروائی کی جاتی ہے۔ جسٹس جواد ایس خو اجہ نے کہا کہ کیا حکومت نے کبھی اس امر کا جائزہ لیاہے کہ ملک میں یہ کیا ہورہا ہے ، ہرطرف کرپشن کے چرچے ہیں، آخرکرپشن کے اس سلسلے کوکس طرح روکاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہاں لوگ کرپشن کرکے اس کا تھوڑا حصہ واپس کرتے ہیں اور پھر نیب کی چھتری لے کر آزادی سے گھومتے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسارکیا کہ نیب کے کوئی ایس او پیز ہیں یا نیب آرڈیننس کے تحت ایس اوپیز بنائے جا سکتے ہیں، پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ نیب کے سروس رولز بنائے گئے ہیں،اس کے ساتھ عدالت کی ہدایت پرنیب کے حو الے سے ڈیٹا جمع کیا جارہاہے کچھ جمع کرلیاہے تاہم ایک دودن میں ساراڈیٹاجمع کرلیاجائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب کابنیادی مقصد بڑی کرپشن کاخاتمہ کرنا ہے ، جس کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ قوم نیب حکام کی جانب سے ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کا پرچار سن سن کر تھک چکی ہے ، جبکہ نیب کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ لوگ بدعنوانی کی شکایات رینجرز، پولیس اور میڈیا کے پاس لے کر جاتے ہیں اور نیب کے پاس جانا پسند نہیں کرتے۔ نیب میں پلی بارگین اور رضاکارانہ رقم لے کر ملزمان کوچھوڑدینے کی شرح75 فیصد ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمارے پاس ایک پٹواری کے حوالے سے خط آیا ہے ، جو مرگیا ہے لیکن نیب کہہ رہاہے کہ اس کے ورثاءکو پکڑاجائے گا، لیکن بڑے کیسوں میں ملوث لوگوں کیخلاف ایکشن نہیں لیا جا رہا۔ انہوں نے پرا سیکیوٹر جنرل سے کہا کہ کرپشن پاکستان کاالمیہ بنتا جا رہا ہے ، عدالت کو مالیاتی کرپشن ، لینڈ مافیا اوراختیارات کے ناجائزاستعمال کے حوالے سے پچاس بڑے اسکینڈلز کی تفصیلات بتائی جائیں، کیونکہ جتنا وقت ایک پٹواری کیخلاف ایکشن پرلگتا ہے اتنا ہی وقت اور وسائل اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے فرد کیخلاف تحقیقات اورکارروائی پر لگتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ نیب کے وسائل محدود ہیں، اگران کوچھوٹے کیسوں کے پیچھے لگائیں گے تو بڑے کیسوں کاکیا بنے گا۔ بتایا جائے کہ پلی بارگین کے بعد اب بھی نیب کو اپنا حصہ ملتا ہے ، جس پر پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ اب نیب کوکوئی حصہ نہیں ملتا۔ بعد ازاں عدالت نے مزید سماعت سات جولائی تک ملتوی کردی۔ دریں اثنا عدالت کو مسلم کمرشل بینک کی نجکاری سے متعلق اسکینڈل کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار نے بتایا کہ بینک کی نجکاری سے متعلق نیب حکام عدالت کے ساتھ دھوکہ دہی سے کام لے رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ایسے بااثر افراد جنہوں نے اپنے مقدمات نیب میں منتقل کروائے ہیں،ان کی فہرست سر بمہر لفافے میں پیش کر سکتا ہوں، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کیا نیب بڑے فراڈیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے ، بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کی استدعا منظور کرتے ہوئے ناموں کی فہرست پیش کرنے کی ہدایت کی اور اس کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

مزید :

اسلام آباد -