جوڈیشل کمیشن کے سامنے 35 پنکچروں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کیونکہ یہ ایک سیاسی بات تھی : عمران خان

جوڈیشل کمیشن کے سامنے 35 پنکچروں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کیونکہ یہ ایک سیاسی ...
جوڈیشل کمیشن کے سامنے 35 پنکچروں کا ذکر اس لیے نہیں کیا کیونکہ یہ ایک سیاسی بات تھی : عمران خان

  

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ الیکشن 2013 ءمیں 35 پنکچر لگانے کی بات ایک سیاسی بات تھی لیکن انہوں نے کمیشن میں منظم دھاندلی ثابت کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان سے سوال کیا گیا کہ دھرنے کے دوران انہوں نے بار بار 35 پنکچروں کا ذکر کیا لیکن جوڈیشل کمیشن کے سامنے انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا ۔ اس سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 35 پنکچروں کی بات کچھ یوں تھی کہ مرتضیٰ پویا نے امریکی سفیر کے حوالے سے اس بات کا تذکرہ کیا اور انہوں نے ٹویٹ کر دی ۔ یہ ایک سیاسی بات تھی اس لیے انہون نے کمیشن میں اس کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس تحقیقاتی کمیشن میں اصل ایشو کچھ اور تھا اور انہوں نے کمیشن کو دھاندلی سے متعلق سچ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے ۔ جبکہ کمیشن نے اس بات کو بھی ثابت کیا ہے کہ الیکشن 2013 ءمیں دھاندلی ہوئی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ 2013 ءمیں الیکشن نہیں سلیکشن ہوا تھا اور پنجاب کے بعض حلقوں میں اضافی بیلٹ پیپر بھی بھجوائے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کو کچھ پتا نہیں تھا لیکن اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے آر اوز کو بلا کر الیکشن کامیاب کروانے پر مبارک باد دی تھی جس وجہ سے میں نے موقف اپنایا کہ یہ الیکشن آر اوز کا تھا ۔ انٹرویو کے دوران مسلم لیگ ق کے رہنماءچوہدری پرویز الٰہی کا دور شہباز شریف کے مقابلے بہت عمدہ دور تھا جس میں صوبے نے حقیقی معنوں میں ترقی کی تھی ۔ لیکن اصل گیم ن لیگ کی جانب سے پنجاب میں کی گئی کیونکہ سب جانتے ہیں کہ جو اس صوبے سے جیت گیا وہ وفاق میں بھی حکومت بنائے گا ۔

انہوں نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزراءکو پتا ہی نہیں کہ کمیشن کیا ہے اور یہ کس طرح کام کرتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نادرا سے ووٹوں کی تصدیق کے لیے انہوں نے 26 لاکھ روپے خرچ کیے اور پھر جا کر انہیں معلوم ہوا کہ ان کے حلقے میں 90 ہزار ووٹوں کی شناخت ہی نہیں ہو سکتی ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی نظام کو درست نہ کیا گیا تو ملک میں فوجی انقلاب کا خطرہ ہے اور انہیں اللہ پر پورا بھروسہ ہے کہ 2015 ءالیکشن کا سال ہے ۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -