چین میں مسلمانوں کی حالت زار،او آئی سی نے چین کے خلاف سخت موقف اپنا لیا

چین میں مسلمانوں کی حالت زار،او آئی سی نے چین کے خلاف سخت موقف اپنا لیا
چین میں مسلمانوں کی حالت زار،او آئی سی نے چین کے خلاف سخت موقف اپنا لیا

  

جدہ (محمد اکرم اسد) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے چین کے علاقے سنکیانگ میں مسلم اقلیت کے حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے او آئی سی نے اعلامیہ جاری کرکے واضح کیا ہے کہ ذرائع ابلاغ عالمی تنظیموں کی رپورٹوں سے یہ شواہد ملے ہیں کہ چینی حکام سنکیانگ کے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے روزے رکھنے سے روک رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ماہ مبارک کے مذہبی شعائر ادا کرنے سے روکا جارہا ہے۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ایاد مدنی نے حکومت چین سے کہا ہے کہ وہ سنکیانگ کے مسلمانوں پر ہونےو الے ظلم و ستم کا نوٹس لے، دینی حقوق ادا کرنےو الوں کی سلامتی اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کی دستاویزات کا احترام کیا جائے، مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی جلد تحقیقات کرائی جائے، او ٓئی سی نے توجہ دلائی کہ سنکیانگ کے مسلمانوں کو بالواسط یا بلاواسطہ خلاف ورزیوں سے بے خوف ہوکر اپنے مذہبی شعائر اداکرنے کا حق ہے۔ اس پرانہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ یاد رہے کہ سنکیانگ عوامی جمہوریہ چین کا ایک خودمختار علاقہ ہے اس کی سرحدیں مغرب میں قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر سے ملتی ہیں۔ 28 جون کو مسلمانوں کے ایک قبیلے اور چینی مزدوروں میں جھڑپوں کے درمیان 156 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، دریں اثناءرابطہ عالم اسلامی نے حکومت چین سے کیا ہے کہ ملک کے دیگر علاقوں میں مسلمانوں کی طرح سنکیانگ میں آباد مسلمانوں کو بھی رمضان میں روزے رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ رابطہ عالم اسلامی نے اپنے اعلامیہ میں توجہ دلائی کہ سعودی عرب سمیت مسلم دنیا کے اکثر ملکوں کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے ہیں لہٰذا حکومت چین کو چاہیے کہ وہ مسلم امہ سے اپنے تعلقات کے تناظر میں بھی سنکیانگ کے مسلمانوں کو امن وامان فراہم کیا جائے۔

مزید : انسانی حقوق