اعلیٰ فوجی قیادت ایم کیو ایم کے معاملے میں حکومتی رد عمل سے غیر مطمئن،اہم فیصلہ متوقع

اعلیٰ فوجی قیادت ایم کیو ایم کے معاملے میں حکومتی رد عمل سے غیر مطمئن،اہم ...
اعلیٰ فوجی قیادت ایم کیو ایم کے معاملے میں حکومتی رد عمل سے غیر مطمئن،اہم فیصلہ متوقع

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی طرف سے بھارت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے گٹھ جوڑ کی خبر سامنے آنے کے بعد پاکستان کے اعلیٰ ترین دفاعی حکام کی خصوصی میٹنگ متوقع ہے جس میں بھارت کی پاکستان کے اندر مداخلت کے معاملے پر غورو خوض کیا جائے گا اور اہم فیصلے متوقع ہیں۔

اخبار ”ایکسپریس ٹریبیون“ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کورکمانڈرز کی معمول کی ماہانہ میٹنگ بی بی سی کی رپورٹ کے پس منظر میں خصوصی اہمیت اختیار کرگئی ہے اور اس میں اندرونی سیکیورٹی معاملات کے علاوہ بھارت کی طرف سے ایم کیو ایم کو فنڈز اور ٹریننگ دینے کی رپورٹ پر خصوصی طور پر بات چیت کی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دفاعی حکام وفاقی حکومت کے ردعمل سے مطمئن نہیں ہیں۔حکومت کی طرف سے بی بی سی کی رپورٹ کے متعلق حقائق جاننے کیلئے برطانوی حکومت کو خط لکھا گیا تھا لیکن مذکورہ ذرائع کے مطابق دفاعی حکام نے اسے کافی قرار نہیں دیا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اگر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے بعد 24 گھنٹوں میں Axact کے خلاف ایکشن ہوسکتا تھا تو بی بی سی کی رپورٹ کے بعد ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن کی راہ میں کیا رکاوٹ حائل تھی۔

مذکورہ ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملٹری کمانڈر بھارتی مداخلت کے پیش نظر کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے پر مزید زور دیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں