عوام کو کیسا خطرہ ہے؟ سندھ پولیس کی بھاری نفری سیاستدانوں کی حفاظت پر معمور

عوام کو کیسا خطرہ ہے؟ سندھ پولیس کی بھاری نفری سیاستدانوں کی حفاظت پر معمور
عوام کو کیسا خطرہ ہے؟ سندھ پولیس کی بھاری نفری سیاستدانوں کی حفاظت پر معمور

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) شہر قائد میں جرائم کی تعداد کم نہ ہونے کی ذمہ داری پولیس کی کم نفری اور وسائل کی کمی پر ڈال دی جاتی ہے لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ سندھ پولیس کی 30 ہزار نفری میں سے ساڑھے تین ہزار پولیس اہلکار وی آئی پیز کی حفاظت پر معمور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی کی سیکیورٹی پر 11 پولیس گارڈز اور ایک موبائل تعینات ہے جبکہ ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کی سیکیورٹی کیلئے 14 پولیس اہلکار اور 2 موبائلز وقف کی گئی ہیں۔ منظور وسان کی سیکیورٹی کیلئے 14 پولیس گارڈز، وزیر قانون سکندر میندھرو کی سیکیورٹی پر 12 پولیس اہلکار جبکہ وزیر کچی آبادی جاوید ناگوری کو 14 پولیس گارڈز اور 2 موبائلز تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

ذرائع کی جانب سے مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ اسمبلی کی ممبر شرمیلا فاروقی کی حفاظت کیلئے 16 پولیس گارڈز، وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر نادیہ گبول کی سیکیورٹی پر 14 پولیس گارڈز اور 2 موبائلز، متحدہ کے سابق رکن سندھ اسمبلی صغیر احمد کی سیکیورٹی پر 12 پولیس گارڈز ، فیصل سبزواری کیلئے 11، رﺅف صدیقی کیلئے13 اور عادل صدیقی کے تحفظ کیلئے بھی 13 پولیس گارڈز تعینات کئے گئے ہیں۔

سندھ پولیس کی جانب سے وی وی آئی پی ڈیوٹیز کی تفصیلات سامنے آنے پر عوام بالخصوص کراچی کے باسیوں میں شدید غم و غصے میں لہر پائی جا رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شہر میں دن دیہاڑے قتل و غارت ہوتی ہے اور چھوٹے موٹے جرائم تو عام ہیں لیکن ان کے سدباب کیلئے کچھ نہیں کیا جا رہا جبکہ وی وی آئی پیز نے اپنی حفاظت کیلئے پولیس کی بھاری نفری مختص کر رکھی ہے۔

مزید : کراچی /اہم خبریں