ہمیں کسی دشمن نے نہیں اپنوں نے مروایا، ڈی ایس پی ریاض شاہ

ہمیں کسی دشمن نے نہیں اپنوں نے مروایا، ڈی ایس پی ریاض شاہ

لاہور(رپورٹ :محمد یونس باٹھ) سپریم کورٹ کے حکم پر تنزلی پانے والے پولیس افسران کی رینکرز تنظیم کے سربراہ ڈی ایس پی ریاض شاہ نے کہا ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے مصاحب وفادار ہیں ۔وزارت عظمی کا تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ہمارے خلاف بے جا کارروائی کر دی گئی ۔ہمیں کسی دشمن نے نہیں اپنوں نے مروایا ہے ۔پولیس میں واضح گروپنگ ہے اور ہم اس ہی گروپنگ کا شکار ہوئے ہیں ۔ہم آئی جی پولیس پنجاب کو درخواست دے رہے ہیں کہ ہم ساڑھے 9ہزار ملازمین ہیں اور ہمیں قبل از وقت ریٹائر کر دیا جائے ۔ہماری بے جا توہین کی جا رہی ہے یا ناکردہ گناہ کی جو سزا دی جا رہی ہے وہ کسی طور پر قابل قبول نہیں ہماری تنزلی سے مجرمان کو فائدہ ہو گا اور وہ ہمارا پوسٹنگ ریکارڈ پیش کر کے عدالتوں سے بری ہو جائیں گے۔یہ باتیں انہوں نے روزنامہ پاکستان کو خصوصی انٹر ویو دیتے ہوئے کہیں ۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں پولیس آرڈر کے نفاذ کے بعد 2006سے پہلے جو آوٹ آف ٹرن پروموشنز ہوئی تھیں وہ قانونی تھیں اس وقت پنجاب میں یہ قانون موجود تھا کہ کسی بھی پولیس افسر کو اس کے اعلیٰ افسران ترقی دیکر اگلے عہدہ پر بھجوا سکتے تھے ۔جب سے پولیس آرڈر کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے ۔پنجاب میں اس کے بعد کسی کو آوٹ آف ٹرن ترقی نہیں دی گئی ایسے پولیس افسران جو فرض کی ادائیگی کیلئے ہر وقت جان کی قربانی دینے کو تیا ررہتے تھے انہیں کارکردگی کی بنیاد پر ترقیاں حاصل ہوئیں اور جو پولیس افسران دفاتر میں بیٹھ کر کام کرتے رہے اب وہ ہمارے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔پنجاب حکومت نے ہی نہیں پنجاب پولیس نے بھی ہمارا مقدمہ نہیں لڑا، سپریم کورٹ میں جولائی کے تیسرے ہفتے میں تفصیلی فیصلہ متوقع تھا لیکن پولیس افسران کی ایک مخصوص لابی نے ہمارا دفاع کرنے کی بجائے ہمیں جان بوجھ کر ایک طرح سے محکمہ سے فارغ کروا دیا ہے مگر یہ ایک افسر یا اہلکار کا مسئلہ نہیں پنجاب بھر سے ساڑھے 9ہزار افسر و اہلکار اس فیصلہ سے متاثر ہوئے ہیں اس فیصلہ کے بعد ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ پنجاب پولیس نے ہمارا مقدمہ لڑنے کے لئے سپریم کورٹ میں اے آئی جی لیگل کامران عادل کو کھڑا کیا تھا یہ وہ افسر ہے جب اسے اوکاڑہ تعینات کیا گیا تھا ان دنوں ا ن کے بھائیوں کے گھر سے محترمہ بے نظیر بھٹو پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی گاڑی برآمد ہوئی تھی جس پر سی آئی اے لاہور پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا اور ان دنوں ان کو سزائے موت کی سزا دی گئی ہے ۔اس وقت کے پولیس افسر اسلم ترین نے بھی کامران عادل کے خلاف انکوائری عمل میں لائی تھی ۔ایسا اے آئی جی لیگل کیسے بچا سکتا ہے ۔ہماری فورس اپنے ہی دوستوں کے ہاتھوں بدنام ہو رہی ہے اس کا فائدہ براہ راست ملزمان کو ہو گا جو سپاہی ترقی پا کر انسپکٹر بن چکے ہیں اب جب انہیں دوبارہ سپاہی بنا دیا گیا ہے ملزمان ان تفتیشی افسران کے بارے میں عدالتوں میں ریکارڈ سمیت جائیں گے کہ ایک سپاہی ہماری تفتیش کیسے عمل میں لا سکتا ہے ۔جس سے ان کے بری ہونے کا خدشہ ہے۔رینکرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے آئی جی پولیس پنجاب سے ملکر شکوہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ بہت زیادتی ہو رہی ہے جبکہ آئی جی کے مطابق انہوں نے سب کچھ قانون کے مطابق کیا ہے وہ سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے کے پابند ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر