سرکاری ملازمین اپنی دادرسی کیلئے بڑی تعداد میں پنجاب سروس ٹریبونل سے رجوع کرنے لگے

سرکاری ملازمین اپنی دادرسی کیلئے بڑی تعداد میں پنجاب سروس ٹریبونل سے رجوع ...

لاہور ( نامہ نگار خصوصی) پنجاب سروس ٹربیونل کو توہین عدالت کے ملنے والے اختیار کے بعد سرکاری ملازمین اپنی داد رسی کے لئے بڑی تعداد میں ٹربیونل سے رجوع کرنے لگے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹربیونل نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کی 6 ہزار 732 درخواستوں اور اپیلوں کا فیصلہ سنا دیا۔ پنجاب کے سرکاری ملازمین نے اپنی برطرفیوں، معطلیوں، تقرر و تبادلوں، سنیارٹی نظر انداز ہونے ، پینشن اور سروس سے متعلقہ محکمانہ زیادتیوں کے خلاف بڑی تعداد میں پنجاب سروس ٹربیونل سے رجوع کیا۔ گذشتہ ایک سال کے دوران سرکاری ملازمین کی جانب سے 6 ہزار 187 درخواستیں اور اپیلیں دائر کی گئیں۔ ٹربیونل کے ججز نے مجموعی طور پر 6ہزار 732 درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ ججز کی کمی کی بناء پر پہلے سے زیر التواء 7 ہزار289 پرانے مقدمات نہ نمٹائے جا سکے۔ ٹربیونل کے ججز نے ماہانہ کی بنیاد پر راولپنڈی،ملتان،بہاولپور اور فیصل آبادکے اضلاع میں جا کرمقدمات نمٹائے اورسرکاری ملازمین کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کیا۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ٹربیونل کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ شاہد سعیداور عدلیہ سے تعلق رکھنے والے جوادالحسن اور اشترعباس کی مجموعی کارکردگی دیگر تین بیوروکریٹ ممبران فہمیدہ مشتاق،خالد رامے اور مقصود احمد لک کے برعکس زیادہ تسلی بخش رہی۔بیوروکریٹ ممبران کو عدالتی امور کا تجربہ نہ ہونے کے سبب مشکلات کا سامنا بھی رہا جبکہ قوانین سے آگہی نہ ہونے کی بناء پر ان کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔سروس ٹربیونل کے جج جوادالحسن کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے ٹربیونل کو توہین عدالت کے اختیارات اور ٹربیونل کے فیصلوں پر عمل درآمد کے اختیار کا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے بعد سرکاری ملازمین محکمانہ زیادتیوں کے خلاف اپنی داد رسی کے لئے اس فورم سے بڑی تعداد میں رجوع کر رہے ہیں۔وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب سروس ٹربیونل میں عدالتی ممبران کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ زیر التواء پرانے مقدمات بھی جلد نمٹائے جا سکیں۔

مزید : صفحہ آخر