پاکستان یا اشرف غنی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، افغانستان میں ناکامی کی وجہ امریکی پالیسیاں ہیں ، جان مکین

پاکستان یا اشرف غنی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ، افغانستان میں ناکامی ...

 واشنگٹن/لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ افغانستان کے حالات کا ذمہ دار پاکستان یا اشرف غنی کو نہیں ٹھہرایا جا سکتابلکہ افغانستان کے حالات کی ذمہ دار امریکہ کی ناکام پالیسیاں اور صدر اوباما ہیں، افغانستان میں داعش کے منظر عام پر آنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات زیادہ حساس ہیں، آصف زرداری سے ملاقات ان کی خواہش پر کی لیکن وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی ان کی صحت کیلئے دعا گو ہوں۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز آرمڈ امریکی سروسز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان مکین نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کی مستقل موجودگی مددگار ثابت ہو گی، آصف زرداری سے ان کی خواہش پر ملاقات کی ، وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات نہیں ہوئی لیکن ان کی صحت کیلئے دعا گو ہوں، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کروں گا، افغانستان کے حالات کا ذمہ دار پاکستان یا اشرف غنی کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے، افغانستان کے حالات کی ذمہ دار امریکہ کی ناکام پالیسیاں اور صدر اوباما ہیں، امریکہ کے پاکستان سے تعلقات بنیادی طور پر اہم ہیں، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پہلے سے بہتر ہیں، افغانستان میں داعش کے منظر عام پر آنے کے بعد پاک امریکہ تعلقات زیادہ احساس ہیں، امریکہ کے متعدد ممالک کے ساتھ مسائل ہیں، اسے حل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات سب کے مفاد میں ہیں، افغانستان میں امریکی فوج کی مستقل موجودگی مددگار ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا ملکوں کے درمیان مسائل بائیکاٹ سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل کیے جاتے ہیں۔ این ایس جی میں پاکستان کی شمولیت پر بھارت کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات سب کے مفاد میں ہیں۔ امریکی سینیٹر جان مکین کا کہنا ہے کہ جرمنی ، جاپان اور کوریا کی طرح افغانستان میں بھی امریکی فوج کی مستقل موجودگی مددگار ہوگی۔

مزید : صفحہ اول