داعش کی بنیاد ابو مصعب الزرقاوی نے رکھی، سابق امریکی فوجی عہدیدار کا انکشاف

داعش کی بنیاد ابو مصعب الزرقاوی نے رکھی، سابق امریکی فوجی عہدیدار کا انکشاف

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش آج دنیا بھر میں خوف و دہشت کی علامت سمجھی جاتی ہے اور دنیا کا ہر ذی شعور شخص اس کے نام سے واقف ہے اور ہر شخص سمجھتا ہے کہ ابوبکرالبغدادی نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی ہے، مگر یہ حقیقت نہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق داعش کی بنیاد دراصل ابو مصعب الزرقاوی نامی شدت پسند نے رکھی جس کی وجہ سے اسے ’’ داعش کا باپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ امریکی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل مائیک فلائن کا کہنا ہے کہ ’’الزرقاوی ہٹلر جیسی ذہنیت کا مالک اور انتہائی ظالم شخص تھا۔ وہ ہر اس شخص کو قتل کر دینا چاہتا تھا جو زندگی کو اس کی سوچ کے مطابق نہیں نہ گزاررہا ہو اور وہ مشرق وسطیٰ سمیت پوری اسلامی دنیا کا چہرہ ہی تبدیل کر دینا چاہتا تھا۔ ‘‘سب سے خطرناک خبر ا? گئی ایشیا ئی ملک کے بڑ ے علاقے پر داعش نے قبضہ کر لیا،اپنی ایک اور ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا ،یہ ملک افغانستان نہیں بلکہ۔۔۔ رپورٹ کے مطابق آج داعش جس طرح اس مقام پر پہنچی ہے اور جو کچھ کر رہی ہے اس کا کھوج لگانے کی کوشش کریں تو سراغ الزرقاوی تک پہنچتا ہے۔ الزرقاوی 1966میں اردن کے شہر زرقائمیں پیدا ہواتھا۔ اسے ہائی سکول سے نکال دیا گیا تھا۔ 23سال کی عمر میں وہ افغانستان گیا اور کچھ عرصہ بعد واپس اردن آ گیا۔ واپس آنے پر 1993ء میں اسے اردنی حکومت نے ناجائز ہتھیار رکھنے اور حکومت کے خلاف اقدامات پر جیل میں ڈال دیا۔ قید کا زمانہ اس کے لیے بہترین ثابت ہوا۔ اس نے وہاں دیگر قیدیوں کو اپنا ہمنوا بنایا اور انہیں جنگ و جدل پر آمادہ کر لیا۔ 1999ء میں اسے جیل سے رہا کر دیا گیا اور افغانستان جا کر اسامہ بن لادن سے ملنے کی اجازت دے دی۔ الزرقاوی اور اسامہ بن لادن مبینہ طور پر شروع سے ہی ایک دوسرے سے نفرت کرتے تھے۔2003ئمیں الزرقاوی عراق چلا گیا جہاں تین سال تک وہ اپنے گروپ کے ساتھ مل کر عراقی حکومت اور وہاں موجود امریکی تنصیبات پر ٹارگٹ حملے کرتا رہا۔ وہ اپنے گروپ کو ’عراقی القاعدہ‘ کا نام دیتا تھا۔ 2006ء میں ایک امریکی فضائی حملے میں الزرقاوی ہلاک ہو گیا۔ یہیں سے ان شدت پسندوں نے الزرقاوی کے گروپ کی قیادت سنبھال لی جو آج داعش کی قیادت کر رہے ہیں۔ چنانچہ اسی وجہ سے اسے ’داعش کا باپ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلائن کا کہنا ہے کہ ’’داعش کے شدت پسند بالکل الزرقاوی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ وہ بھی قیدیوں کے سرقلم کرتا تھا اور ان کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر پوسٹ کرتا تھا۔ اس کے علاوہ داعش لوگوں کو قتل کرنے کے جن طریقوں پر عمل پیرا ہے یہ الزرقاوی ہی کے ایجاد کردہ ہیں۔

مزید : صفحہ اول