افغان مہاجرین کا مسئلہ جذبات سے نہیں ہوش و خرد کیساتھ حل کر نا ہو گا

افغان مہاجرین کا مسئلہ جذبات سے نہیں ہوش و خرد کیساتھ حل کر نا ہو گا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اسے کہتے ہیں ’’نیکی برباد، گناہ لازم‘‘ پاکستان نے رُبع صدی سے زیادہ عرصے تک لاکھوں افغان مہاجروں کو اپنے ہاں مہمان رکھا۔ اس وقت بھی جو افغان مہاجرین پاکستان کے اندر ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں ان کی تعداد تیس لاکھ سے کسی صورت کم نہیں، بعض حلقے تو یہ تعداد پچاس لاکھ بھی بتاتے ہیں۔ چونکہ زندگی کے باقی شعبوں کی طرح اس سلسلے میں بھی درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں اس لئے تخمینوں سے کام چلایا جا رہا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہوگا جس نے اتنے طویل عرصے تک اتنی بڑی تعداد کو اپنے ہاں پناہ دی ہو۔ یہاں تک کہ انہیں آزادانہ کاروبار کی بھی اجازت دی ہو، افغانستان کے خوشحال طبقات سے تعلق رکھنے والے افغانوں نے تو پاکستان میں اپنا کاروبار اس حد تک جمالیا ہے کہ اب وہ اپنے ملک میں جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے، نہ وہ افغانستان کے حالات کو اپنے اور اپنے کاروبار کیلئے سازگار پاتے ہیں۔ آج 30 جون ہے اور یہ وہ تاریخ ہے جب افغان مہاجرین کو واپس چلے جانا چاہئے تھا، لیکن اقوام متحدہ نے ان کے قیام میں مزید 3 سال تک توسیع کی درخواست کردی۔ پاکستان کی وفاقی حکومت مہاجرین کے ایک حصے کی چھ ماہ تک توسیع کیلئے رضامند ہے لیکن خیبر پختونخوا کی حکومت کا موقف وفاقی حکومت سے مختلف ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کے مستقبل کا فیصلہ وزیراعظم کی آمد پر ہوگا جو بھی فیصلہ کیا جائے گا اس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوں گے۔ یہ اچھی بات ہے کہ اس سلسلے میں متفقہ فیصلہ کرلیا جائے لیکن پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی نے جو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے پختون علاقوں کو ملا کر ایک نیا پختون صوبہ بنانے کے حق میں ہیں ان کے ایک تازہ انٹرویو نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ افغان ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کو ان کی سرزمین پر ہراساں نہیں ہونے دوں گا۔ اگر انہیں پاکستان کے کسی اور حصے میں ہراساں کیا جا رہا ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ خیبر پختونخوا میں آ جائیں۔ انہوں نے پختونخوا کو تاریخی طور پر پختونوں کا علاقہ کہا اور پھر یہ وضاحت کی کہ ان کے بیان کو افغانستان ٹائمز نے درست طور پر شائع نہیں کیا۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ انہوں نے دراصل کیا کہا اور انہیں کیا کہنا چاہئے تھا، ان سے یہ گزارش ہے کہ تاریخی طور پر حقائق بدلتے رہتے ہیں جس خطے میں وہ رہتے ہیں اس کی تاریخ بھی ہمیشہ بدلتی رہی۔ پاکستان کے قیام سے پہلے یہ متحدہ ہندوستان تھا، جہاں مختلف ادوار میں مختلف خاندانوں کی حکمرانی رہی، پھر مغل سلطنت کا شیرازہ بکھرا تو انگریز پورے برصغیر کے حکمران ہوگئے۔ انگریز کی حکمرانی کا دور ختم ہوا تو یہ وہ ہندوستان نہیں تھا جہاں ان کی آمدہوئی تھی بلکہ یہ دو آزاد اور خود مختار ملکوں میں بدل چکا تھا۔ یہ سب تاریخی حقیقتیں اپنے اپنے مقام پر مسلمہ ہیں، لیکن یہ بدلتی بھی رہتی ہیں۔ خود بلوچستان میں تاریخ نے کئی بار انگڑائی لی۔ محمود اچکزئی اور ان کے والد مرحوم عبدالصمد اچکزئی جس پختونخوا صوبے کیلئے جدوجہد کرتے رہے اور محمود اچکزئی اب تک کر رہے ہیں اگر وہ کامیاب ہوتی ہے تو یہ بھی تاریخ کا ایک نیا سنگ میل ہوگا۔ انہوں نے افغان مہاجرین کی محبت میں جو بیان دیا ہے اس میں انہوں نے توازن برقرار نہیں رکھا اور تیس سال کی تاریخ کو بھلا کر ایک جذباتی بات کہہ دی ہے جس پر انہیں نظر غائر ڈالنی چاہئے کہ وہ کس حد تک درست ہے۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ جذباتی مسئلہ نہیں ہے اس پر ٹھنڈے دل سے غور کی ضرورت ہے۔ اس پر اس پہلو سے بھی غور کرنا ہوگا کہ ان مہاجرین کی آمد نے پاکستان کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب کئے اور طویل مہمان نوازی کا انجام کیا یہی ہونا تھا کہ اہل پاکستان خود ایک ناگوار بحث میں الجھ جائیں۔ اس بات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ برطانیہ جیسے ملک نے اگریورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو اس کی ایک وجہ سرحدوں پر مہاجرین کا دباؤ تھا اور یہ دباؤ ایسا ہے کہ یونین کے بہت سے ملک شاید برطانیہ کی طرح کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں اور اگر اس انتہا تک نہ بھی جائیں تو بھی مہاجرین کی یلغار ان کے پورے معاشرتی تار و پود کو بکھیر کر رکھ دے گی۔ اس لئے یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے ہم جذبات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ جو سیاسی رہنما بھی اس معاملے پر بحث مباحثے میں شریک ہیں، انہیں اپنے خیالات کے اظہار میں عقل و دانش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور نہ ہی جذبات کی رو میں بہہ کر کوئی ایسا فیصلہ کرنا چاہئے جس سے وہ تمام میزبانی مٹی میں مل جائے جو ربع صدی سے زیادہ عرصے تک پاکستان افغان مہاجرین کی کرتا رہا ہے۔

ہوش و خِرد

مزید : تجزیہ