جمعتہ الوداع اوریوم القدس اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹنے کا دن

جمعتہ الوداع اوریوم القدس اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹنے کا دن

پسروری

رمضان المبارک کو جس طرح بقیہ گیارہ مہینوں پر عظمت عطا فرمائی گئی ہے، اس طرح جمعتہ الوداع کو بھی دوسرے جمعوں سے زیادہ فضیلت حاصل ہے۔جمعہ کا دن ویسے بھی عام دنوں سے بہت زیادہ فضیلت والا دن ہے، جسے ہمارے رسول مقبولؐ نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن قرار دیا ہے۔ مسلمان اچھے کپڑے پہن کر ،نہا دھو کر، خوشبو لگا کر مساجد میں جوق در جوق حاضر ہوتے ہیں اور پورے ہفتے کے گناہوں کی بخشش کی دعا کرتے ہیں۔نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس لمحہ انسان جو بھی دعا کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اسے پوری فرما دیتے ہیں۔جمعتہ المبارک کی قرآن و حدیث میں بہت زیادہ فضیلت و اہمیت بیان ہوئی ہے۔سورۃ جمعہ کے اندر آخری رکوع میں مسلمانوں کو جمعہ کی ادائیگی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام کاروبار چھوڑ کر جمعہ کی ادائیگی کے لئے چلے آؤ اور جمعہ ادا کرنے کے بعد جاکر اپناکاروبار کرو۔رمضان المبارک میں جہاں نوافل کا ثواب فرضوں کے برابر ہوجاتا ہے اور فرائض کا ثواب ستر گنا کردیا جاتا ہے، وہاں اس ماہ مقدس کے جمعہ کا ثواب بھی بہت زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے۔

جمعتہ الوداع کو دیگر ایام سے اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ اس کے بعد مسلمانوں کو عیدالفطر کی شکل میں ایک بہت بڑا انعام ملنا ہوتا ہے اور پھر لوگ کثرت اور اہتمام کے ساتھ اپنے گھر کے تمام افراد کی طرف سے فطرانہ کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں اور جمعتہ الوداع میں نمازیوں کی کثیر تعداد اکٹھی ہوتی ہے اور علمائے کرام خصوصیت کے ساتھ دعائیں کرواتے ہیں۔ایک مسلمان کو جہاں رمضان المبارک کے اختتام پر روضے پورے کرنے پر ایک حقیقی خوشی اور راحت ہوتی ہے، وہاں دوسری طرف انہیں اس بات کی تشنگی رہتی ہے کہ رحمتوں، برکتوں والا مہینہ ہم سے جدا ہورہا ہے۔جمعتہ الوداع اس لحاظ سے بھی بڑا اہم ہے کہ یہ جمعہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں آتا ہے،جسے حضور اکرمؐ کی حدیث کے مطابق جہنم سے آزادی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے۔مسلمانوں کو رمضان المبارک کے اختتام پر تمام دنوں کا سردار میسر آجاتا ہے، جس میں خصوصی اہتمام سے انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر اللہ سے جہنم سے آزاد ہونے کا سوال کرتا ہے اور ویسے بھی پورے مہینے کے روزے رکھ کر دل مزید نرم ہو چکا ہوتا ہے اور اللہ کی طرف مائل ہوچکا ہوتا ہے اور تقویٰ جیسی نعمت پروان چڑھ چکی ہوتی ہے تو جمعتہ الوداع کے موقع پر امت مسلمہ کے بڑے بڑے اجتماعات میں اجتماعی طور پر معافی مانگنے کا بہت لطف آتا ہے، چونکہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور اس سے قدم قدم پر گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں بھی اگر نیکی کے معاملے میں کہیں کوتاہی رہ جاتی ہے تو اس کے ازالہ کے لئے جمعتہ الوداع اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ہے۔

موجودہ حالات میں جبکہ امت مسلمہ مجموعی طور پر مسائل و مشکلات کا شکار ہے ۔پوری قوم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سال بھر کے جمعوں کے سردار جمعہ کے روز اللہ تعالیٰ کے گھر میں حاضر ہوکر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور رب کے سامنے گڑ گڑا کر یہ دعا کریں کہ جس طرح اس نے ہمیں اس سال کا پور امہینہ ثواب کی نیت سے گزارنے کی توفیق دی،آئندہ بھی ایسا مہینہ نصیب فرمائے۔ جمعتہ الوداع کو باقی جمعوں کی نسبت یہ بھی انفرادیت حاصل ہے کہ اس دن مساجد میں تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی، بلکہ نمازیوں کے لئے کئے گئے وافر انتظامات بھی کم پڑ جاتے ہیں اور ایسے ایسے چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، جنہیں سال بعد جمعتہ الوداع کے دوران ہی دیکھا جاتا ہے اور یہ بات اپنی جگہ حیثیت رکھتی ہے کہ اس طرح سال میں صرف ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا درست عمل نہیں ہے،لیکن اللہ کی رحمت سے مایوسی بھی بہت بڑا گناہ ہے۔

جمعتہ الوداع کی ادائیگی کے دوران مسلمان دو بڑی خوشیاں محسوس کرتے ہیں۔آج رحمتوں، برکتوں اور فضیلتوں والے مہینے کے اختتام پر اور عیدالفطر سے قبل انہیں ایک عید میسر آ رہی ہوتی ہے۔مسلمان بچے، بوڑھے، عورتیں اور جوان اس دن خصوصی اہتمام کے ساتھ مساجد میں جاتے ہیں۔یہ دن ماہ رمضان المبارک کی جدائی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو سمیٹنے کا دن ہے، ہر مسلمان کو ان آخری گھڑیوں کوغنیمت جانتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے تاکہ اپنے گناہوں کی بخشش کی راہ ہموار ہو۔کیا معلوم کہ آئندہ یہ رحمتوں کا مہینہ اور جمعتہ الوداع کا دن دیکھنا نصیب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان المبارک کے اس جمعتہ الوداع کے موقع پر پچھلے سال کی غلطیوں ، کوتاہیوں پر معافی مانگنے کی توفیق دے۔آمین یا رب العالمین!

آج رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہے جسے عرف عام میں جمعتہ الوداع کہا جاتا ہے اور جمعتہ الوداع کا دن پوری دنیا کے مسلمان قبلہ اول کی آزادی کے لئے یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ وہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے ہر ممکن جدو جہد کریں گے۔

ہر بار کی طرح اس باربھی ’’یوم القدس‘‘ فلسطین کے معصوم شہریوں کے خون سے تر بتر آیا ہے، اسرائیل نے ظلم و وحشت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ فلسطین کے معصوم شہریوں کو جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں پرمشتمل ہے،کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، انسانیت بلبلا رہی ہے۔ پوری دنیا کے عوام چیخ رہے ہیں، مگر بڑی طاقتیں ظالم اسرائیل کی حمایت کر رہی ہیں اور مسلمان سربراہان مملکت بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تڑپتے لاشے انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کے سامنے ایک کھلا سوال بن چکے ہیں، لیکن کوئی اس پر توجہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ معصوم ہے کہ بہتا چلا جا رہا ہے اور کوئی اسے روکنے کو تیار نہیں۔

بیت المقدس و مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان اسی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔جب محبوب خدا ،شافع روز جزا ،حضور رحمت للعالمینؐ نے خواہش کا اظہار کیا کہ خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کی جائے تو رب کائنات نے خانہ کعبہ کو قبلہ کا عظیم درجہ عطا فرما دیا اور مسلمان خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے ۔

مسجد اقصیٰ کا ذکر قرآن پاک میں 15ویں پارے کے شروع میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور رحمت عالم حضرت محمد مصطفےٰ ؐ کو معراج جیسے عظیم معجزے سے سرفراز فرمایا تو پہلے آپ ؐ مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک کا سفر طے کرکے بیت المقدس میں تشریف لائے ۔ مسجد اقصیٰ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور ؐ نے یہاں حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک تمام انبیاء کرام اور رسولوں کی امامت فرمائی اور کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء اور رسولوں نے آپ ؐ کی امامت میں نماز ادا فرمائی ۔ اسی اعزاز پر آپ کو امام الانبیاء کا شرف حاصل ہوا ۔مسجد اقصیٰ ہی سے آپ ؐ معراج کے اگلے سفر کے لئے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور لامکاں تک چا پہنچے ۔مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اوروہ نشانیاں جہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے برکتیں نازل ہوتی ہیں انبیاء کرام کے مزارات ہیں ۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش اسی سر زمین پر ہوئی ۔قبل ازیں بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء کرام یہاں تشریف لائے ۔اسی وجہ سے اس کو انبیاء کی سر زمین کہاجاتا ہے ۔ یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں سلیمانؑ نے ہیکل سلیمانی تعمیر کروایا تھا جو مسجد اقصیٰ کے قریبی علاقہ میں واقعہ ہے

بیت المقدس مسجد اقصیٰ قبلہ اول دنیا کی ایک بڑی اکثریت والی قوم مسلمانوں کے لئے انتہائی متبرک ، محترم اور دینی و روحانی مقام ہے اور ہر مسلمان کا دل مچلتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کرے اور یہاں نماز ادا کرے ۔

جمعۃ الوداع یوم القدس کے موقع پر پوری دنیا کی مسلمان تنظیمیں ،جماعتیں اور افراد بیت المقدس کی آزادی کے لئے احتجاجی جلسے ،جلوس ،مظاہرے اور ’’القدس ‘‘ریلیاں نکالتے ہیں اور اپنے دلی جذبات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ان کو یوم القدس کے طور پر منانے کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہوا ۔ انقلاب ایران کے بانی نے کہا تھا کہ ’’ یوم القدس ایک ایسا دن ہے جسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے۔اسے صرف سر زمین قدس سے ہی وابستہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ ظالم اورمظلوم کے درمیان مقابلے کا دن ہے۔ ‘‘کیونکہ نصف صدی کے قریب بیت المقدس پر یہودی قبضہ اور بیت المقدس کے تقدس کی پامالی غیرت مسلم کو کھلا چیلنج ہے ۔غیور مسلمانو! بیت المقدس کی حرمت اور حفاظت در حقیقت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے۔ ملت اسلامیہ کے حکمرانو! بیت المقدس کی آزادی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آج مسجد اقصیٰ پکار پکار کر کہہ رہی ہے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور سپہ سالاروں میں کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی ،محمد بن قاسم یا محمود غزنوی جیسا سچا ،کھرا ،دلیر اور نڈر و بہادر مسلمان حکمران ،سپہ سالار ہے جو قبلہ اول کو یہودیوں کے نرغہ سے آزاد کر ا سکے ۔یوم القدس عالم اسلام کے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ آئیے! بیت المقدس کی آزادی کے لئے پوری دنیا کے مسلمان اپنے تمام تر اختلافات یکسر بھلا کر پوری طرح متحد ہو جائیں اور بیت المقدس کی آزادی ہر مسلمان کے دل کی آواز اور نعرہ بن جانا چاہئے ،کیونکہ اب ہم ہی صلاح الدین ایوبی کے پیرو کار ہیں ۔ہم اسلاف کی یادوں کو تازہ کر کے اور ملتِ اسلامیہ کو ہر امتحان سے نجات دلا کر ہی حقیقی مسلمان اور فرض شفاس کہلا سکیں گے ۔

آج غزہ کے حالات اور معصوم فلسطینیوں کا بہتا خون دہائی دے رہا ہے کہ مسلمانو! خدا کے لئے ایک ہو جاؤ۔ تم تو وہ اُمت ہو جو دوسروں کی بچیوں کی رکھوالی کیا کرتی تھی، آج تمہاری اپنی بیٹیوں کو خون میں نہلایا جا رہا ہے، تمہارے معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔۔۔۔ تمہاری غیرت کب جاگے گی؟ کب تم ذلیل یہودیوں کا ہاتھ روکو گے؟ کب اپنے قبلہ اول کو آزاد کراؤ گے؟

مزید : ایڈیشن 1