خصوصی بچے تعلیم کے حق سے محروم کیوں ؟

خصوصی بچے تعلیم کے حق سے محروم کیوں ؟

پاکستان میں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کے حوالے سے کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے

لاکھوں معذور بچوں کی تعلیم سے محرومی لمحہء فکریہ ہے ۔

زلیخا اویس

یوں تو دنیا کی آبادی کا 10 فیصد جبکہ پاکستان کی کل آبادی کا 7 فیصد حصہ ذہنی و جسمانی معذوری سے گزر رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ڈیکلریشن (1948) سے لے کر اکیسویں صدی کے ترقیاتی اہداف (Millennium Development goals)تک تمام معاہدوں میں پوری دنیا کو یقین دلایا کہ ہم اپنے بچوں کے تمام حقوق قطع نظر اس کے کہ وہ معذور ہیں یا نہیں، کا تحفظ کریں گے۔ مگر کسی نے اس پہلو کی جانب توجہ نہیں دی کہ خصوصی بچوں کی تعلیم کے بغیر اس ہدف کو حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ معیاری تعلیم ہر عام بچے کی طرح معذور بچے کا بھی حق ہے لیکن شاید ہی کسی سکول، کالج اور یونیورسٹی نے اس کا اہتمام کرنے کیلئے اپنے وسائل کا کچھ حصہ ان کو تعلیم اور ہنر دینے پرصرف کیا ہو۔

خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے فقدان کی تین وجوہات ہیں، والدین اور معاشرے کی عدم دلچسپی،معاشی اور نفسیاتی مسائل اور اُس پر ستم یہ کہ ایسے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ادارے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کچھ نظر بھی آتے ہیں تو وہ صرف بڑے شہروں تک محدود اور کافی حد تک وسائل کی کمی کا شکار ہیں جبکہ دیہاتوں میں ان بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ایسے بچوں کیلئے قائم سکول ، اداروں اور اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے جبکہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔پاکستانی معاشرے کا مجموعی رویہ اس حوالے سے انتہائی مایوس کن ہے۔

المیہ یہ بھی ہے کہ عام تعلیمی اداروں میں معاشرتی سطح پر نظرانداز ان طلباء کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔

ایک جائزے کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں ساٹھ لاکھ بچے ایسے ہیں جو تعلیم سے صرف اس لیے محروم ہیں کہ اْنھیں معمولی یا درمیانے درجے کی معذوری کا سامنا ہے جس کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں ان کا داخلہ دشوارہے جب کہ خصوصی تعلیمی مراکز کے پاس اتنی بڑی تعداد میں بچوں کو سنبھالے کی استطاعت نہیں۔

یہ بچے صحت مند انسانوں کی طرح تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اس باوجود اکثر بچوں کے والدین انھیں عام سکولوں میں بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں یا پھربعض اوقات سکولوں میں بھی ان کے لیے ماحول دوستانہ نہیں ہوتا۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی ہونہار بچے ناخواندہ رہ جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس کمتری کا شکار ہو کر ان کی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔

ملک کا آئین معمولی معذوری کا شکار ایسے بچوں کی عام سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جبکہ وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ حکومت معذور بچوں کو برابری کی سطح پر تعلیم کا حق دینے کا عزم رکھتی ہے جس کے تحت سال 2009ء کی تعلیمی پالیسی میں اس شق کو خاص طور پر شامل کیا گیا تھا کہ درمیانہ درجے کی معذوری کا شکار بچوں کو یہ پورا حق ہو کہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکیں۔

دوسری طرف والدین اپنے بچوں کی تکالیف اور ان کے حل سے ناواقف اور کسی جانب سے بھی تعاون اور مسائل کے حل کیلئے رہنمائی نہ ملنے کی بناء پر ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں اور جو واقف ہیں انہیں اپنے آس پاس ان معصوم بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی ادارہ نظر نہیں آتا جن سے مستفید ہوکر وہ اپنے متاثرہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی کے مسائل سے عہدہ برآء ہوسکیں۔ یہ ہے ہمارا مجموعی مزاج اور یہ ہے ہمارا اپنے خصوصی افراد کے ساتھ رویہ۔

ہمارے ہاں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کے حوالے سے کوئی منظم نظام موجود نہیں ہے۔ اس مسئلے سے نبرد آزما ہونے کیلئے کم و بیش5ہزار سے زائد اداروں کی ضرورت ہے جو بلاشبہ حکومت اور پبلک سیکٹر کے مشترکہ تعاون سے ہی ممکن ہے۔

پورے پاکستان میں سرکاری و نجی 744 سپیشل ایجوکیشن کے ادارے کام کررہے ہیں جن میں سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد صرف 189 ہے۔ لاہور جیسے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں صرف 46 سپیشل ایجوکیشن سنٹر ہیں، پورے سندھ میں 154 جبکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صرف 122 جبکہ اسلام آباد جیسے شہر میں سپیشل ایجوکیشن کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی مجموعی تعداد 36 ہے۔ سروے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ پاکستان میں 18 سال تک کی عمر کے 60 لاکھ سے زائد بچے کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں جن میں ذہنی معذور بچوں کی تعداد 30 فیصد، نابینا پن کا شکار 20 فیصد، قوت سماعت سے محروم 10 فیصد جبکہ جسمانی معذوری کا شکار بچے 40 فیصد ہیں۔ ادارہ شماریات کے 16 اکتوبر 2012ء کو جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 181 ملین ہے، جس میں سے معذور افراد کی کْل تعداد ایک کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہے یعنی کل آبادی کا تقریباً 7 فیصد حصہ۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں 18,26,623، سندھ میں 9,29,400، خیبرپختونخواہ میں 3,75,448، بلوچستان میں 1,46421، فاٹا میں 21,705 جبکہ آزاد کشمیر میں 80, 333 افراد کسی نہ کسی معذوری میں مبتلا ہیں۔ صوبائی سطح پر آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ معذور افراد سندھ میں 3.05 فیصد ہیں، 2.48 فیصد کے ساتھ پنجاب دوسرے، 2.23 فیصد کے ساتھ بلوچستا ن تیسرے اور 2.12 فیصد کے ساتھ کے پی کے چوتھے نمبر پر ہے۔ صرف لاہور میں 2 لاکھ سے زائد افراد مختلف اقسام کی معذوری کا شکار ہیں جبکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یہ تعداد 4.3 لاکھ کے قریب ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 1.1 لاکھ کے قریب خصوصی افراد بستے ہیں۔ وزارت سوشل ویلفیئر کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریباً ہر گاؤں میں 10 سے 20بچے ایسے ہیں جو کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں۔

پاکستان میں اس وقت معذور بچوں کے حوالے سے حکومتی اور نجی اداروں کی طرف سے جو سہولتیں ہیں وہ دو لاکھ کے قریب بچوں کو حاصل ہیں جبکہ 58لاکھ بچے ان سہولتوں سے محروم ہیں۔حالانکہ انہیں بھی زندہ رہنے کے اسباب مہیا کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا عام بچوں کو تعلیم ، کھیل اور دیگر حقوق دینا۔

نجی و سرکاری سطح پر ہمارے ارد گرد برائے نام ہی ایسے ادارے ہیں جو اس کارخیر میں حصہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد میں الفارابی سپیشل ایجوکیشن سنٹر، المختوم سپیشل ایجوکیشن سنٹر، فاطمہ جناح سپیشل ایجوکیشن سنٹر، ابن سینا سپیشل ایجوکیشن سنٹر، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپیشل ایجوکیشن سمیت12کے قریب ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ لاہور میں عزیز جہاں بیگم ٹرسٹ، انسٹیٹیوٹ آف فیزیکل ہینڈی کیپ چلڈرن، سپیشل ایجوکیشن سنٹر فار چلڈرن، سپیشل ایجوکیشن سنٹر فار مینٹلی ریٹارڈڈ چلڈرن، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ ، سعدیہ کیمپس ، امین مکتب ٹرسٹ ، پنجاب ٹرسٹ فار ڈس ایبل چلڈرن ، حمزہ فانڈیشن ، ادارہ بحالی معذوراں سمیت 40کے قریب ادارے موجود ہیں۔ جبکہ کامونکی، ساہیوال، اوکاڑہ، جھنگ، جہلم، سرگودہا، شیخوپورہ اور گجرات سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں ایسے ادارے قائم ہیں۔

کراچی میں سپیشل ایجوکیشن سنٹر، وکیشنل سنٹر فار سپیشل چلڈرن سمیت 20سے زائد ادارے کام کر رہے ہیں جبکہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ایسے ادارے موجود ہیں۔ بلوچستان کے شہروں خضدار، سبی اور کوئٹہ کے علاوہ خیبر پختونخوا میں سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور چار سدہ میں، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی خصوصی بچوں کیلئے ایسے ادارے کام کر رہے ہیں۔ جو ادارے معذور افراد کی بحالی کا کام کررہے ہیں۔ ثواب کا یہ کام کرنے والے ادارے اور افراد انتہائی قابل ستائش ہیں۔

خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے حکومتِ پنجاب کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں ۔

وزیراعلیٰ ٰمحمد شہباز شریف صوبے میں معذور بچوں اور افراد کی بحالی کے پروگراموں میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے خصوصی بچوں کی بحالی ،نگہداشت اورتعلیم و تربیت کے لیے متعددٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس مقصد کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی ہے اورخصوصی بچوں کی بحالی کے اداروں میں تعلیم و تربیت کی سہولتوں کو بہتر بنایا گیا ہے۔خصوصی بچوں کے تعلیمی اداروں میں ٹرانسپورٹ کی سہولتوں کے لیے بڑی تعداد میں بسیں فراہم کی گئی ہیں۔ پنجاب حکومت نے خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے نہ صرف نئے ادارے تعمیر کیے ہیں بلکہ خصوصی بچوں کے لیے کمپیوٹر لیبز اور سپیشل ایجوکیشن سنٹرز کو پرائمری سے مڈل تک اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں خصوصی بچوں کے متعددادارے کام کررہے ہیں۔پنجاب حکومت خصوصی بچوں کے بحالی کے اداروں میں بچوں کو کتابیں،یونیفارم،ٹرانسپورٹ،آلات اوردیگر سہولیات کی مفت فراہمی کے علاوہ ماہانہ وظیفہ بھی دے رہی ہے۔

تمام تعلیمی اداروں میں معذور طلبہ کے لئے عمر کی حد کو ختم کر دیا گیا ہے۔ معذور طلبہ کو داخلہ لینے کی صورت میں لیپ ٹاپ جبکہ تعلیم مکمل کرنے کی صورت میں الیکٹرک ویل چیئر دی جانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ پنجاب حکومت معذور طلبہ کو تعلیمی اداروں میں کسی بھی طرح کے تعلیمی اخراجات، ہاسٹل اور یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دینے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے۔ ہائیر ایجوکیشن میں خصوصی طلبہ کے لئے ایک سیٹ بھی مختص کر دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لئے خصوصی کتب، خصوصی ریمپ اور خصوصی باتھ رومز بھی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان طلبہ کو عملی زندگی میں باوقار بنانے کے لئے سنٹرز کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔

سپیشل تعلیمی اداروں کے لئے عوام میں آگاہی کی ضرورت ہے تا کہ وہ لوگ جن کے بچے سکولوں میں نہیں جا رہے وہ ان کو پنجاب حکومت کے ان اداروں میں داخل کروائیں۔حکومت کو ان سپیشل بچوں کے لئے بنائے گئے مراکز کی ایک مانیٹرنگ پالیسی بھی بنانی چاہئے جو اس بات کو چیک کرے کہ مراکز میں کتنے بچے زیر تعلیم ہیں اور ان بچو ں کے والدین سے بھی تجاویز لینی چاہئے۔خصوصی طور پر سپیشل بچوں کا ریکاڈ تیار کروانا چاہئے اور جو والدین اپنے سپیشل بچوں کو سکول نہیں بھیجتے ان کو حکومت کی طرف سے سختی سے پیغام جانا چاہئے۔

وہ بچے جن کے گھروں سے سپیشل ایجوکیشن کے سنٹر دور ہیں ان کے لئے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت تو خوش آئند ہے مگر اس میں اضافہ کیا جائے اگر بچوں کو گھروں سے ہی لینے اور چھوڑنے کا انتظام کیا جائے تو اس طرح مزید بچے بھی سکول میں آنا شروع ہو جائیں گے۔خصوصی بچے امن کے پیامبر اور سفیر ہیں، ان کی نگہداشت ،بحالی اور تعلیم و تربیت پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پنجاب کی طرح دیگر صوبوں کو بھی ایسے مراکز بنانے چاہئے جو سپیشل بچوں کو معاشرے کا بہترین فرد بنانے میں کردار ادا کریں۔

اس فیلڈ کے تجربہ کار ماہرین تعلیم ، ڈاکٹرز اور سائیکالوجسٹس کی مستند ٹیم بنا کر ان کی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خصوصی بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کو مزید بہتربنایا جائے۔ ان کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ، اساتذہ کو بہترین تربیت مہیا کی جائے اور ان بچوں کے والدین کو بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں پیش آنے والی مشکلات کا حل بتایا جائے تاکہ یہ بچے بامقصد زندگی کی طرف راغب ہوسکیں اور ملک و ملت کا یہ سرمایہ محفوظ ہوکر اپنے آپ کو بھی بچا سکے اور والدین اور وطن عزیز پاکستان پر بھی بوجھ بننے کی بجائے اسے معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط و مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو حکومتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں معذور طالبِ علموں کے لئے ایک بھی یونیورسٹی نہیں ۔دنیابھر میں خصوصی افراد کیلئے مخصوص ادارے ہوتے ہیں جو انہیں معاشرے میں بہتر کردار ادا کرنے کیلئے تیار کرتے ہیں۔ معذور بچوں کیلئے الگ نصاب بنتا ہے اور الگ اساتذہ ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس جانب توجہ ہی نہیں دی جاتی۔ہمارے یہاں پہلے تو معذور بچے کو اس کے اپنے گھر والے ہی نظر انداز کردیتے ہیں، اگر انہیں کوئی بہتر شہری بنانے کی کوشش کرے تو بدقسمتی سے سرکاری سطح پر اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب میں40ہزار سے زائد خصوصی بچے ہیں لیکن ان کے لئے ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے۔ اسی طرح موجودہ یونیورسٹیوں میں بھی ان کے لئے خصوصی ڈیپارٹمنٹ نہیں بنائے گئے۔ اس لئے خصوصی بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مشکلات کاسامنا ہے۔ پنجاب میں اڑھائی ہزار سے زائد تعلیمی اداروں میں 40ہزار کے قریب چار کیٹگریز کے خصوصی بچے زیر تعلیم ہیں۔

ان میں دو کیٹگریز میں شامل گونگے، بہرے اور ذہنی معذوروں کو شدید تحفظات لاحق ہیں۔ ایسے بچوں کے والدین کاکہنا ہے کہ ان کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نام پر کوئی خصوصی یونیورسٹی نہیں ہے اور نہ ہی موجودہ یونیورسٹیوں میں ان کیلئے الگ ڈیپارٹمنٹ موجود ہیں۔ اسی طرح ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وہ پڑھ لکھ جائیں تب بھی ان کے لئے ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یاد رہے ہمارے یہاں میٹرک کے بعد مہنگی تعلیم کاآغاز ہوجاتا ہے۔ یہی صورت حال معذور بچوں کے حوالے سے بھی نظر آتی ہے۔ معذور بچوں کا سلبیس اور طریقہ تعلیم مختلف ہوتا ہے۔ اکثر معذور بچے عام سکولوں یا کالجز میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے۔

یہ لوگ اگر تعلیم حاصل کرکے مفید شہری بننا چاہیں تو ہمارے موجود ماحول کے سبب ایک خاص حد کے بعد ان کا سفرروک دیاجاتا ہے اور یہ معطل عضو کی طرح ہوجاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ دیگر معذور افرادکے حوالے سے بھی قوانین پر عمل نہیں لاہور بورڈ کے امتحانی سنٹر میں بھی وہیل چیئرزکیلئے کوئی انتظام نہیں اور معذور امیدور کو کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔ پھر دو تین افراد اس کرسی کو اٹھا کر سیڑھیوں سے اوپر لے جاتے ہیں۔کیا معذوروں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے اور معاشرے کے قابل فخر شہری بنانے میں ہماری سرکار کی کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ معذوروں کے نام پر دلفریب اعلانات کرنے اورکوٹہ کے نعرے لگانے کے بجائے حقیقی اقدامات ضروری ہیں تا کہ آنے والے وقت میں کوٹہ سسٹم کاخاتمہ ہو اور تمام شہری اوپن میرٹ کی بنیاد پر میدان میں اترنے کے اہل ہوسکیں۔

ہم خصوصی افراد کے حقوق کی آواز بلند اور ان سے ’’اظہار یکجہتی‘‘ کرنے کیلئے جگہ جگہ سیمینارز، کانفرنسز، معذور افراد کی معاشرہ میں موجودگی، ان کے مسائل اور کردار کے حوالے سے ابلاغ کے بیشتر ذرائع سے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کر تے ہیں مگر ان پروگرامز میں جو قراردادیں پاس ہوتی اور جو دعوے اور وعدے کئے جاتے ہیں وہ صرف ان کانفرنسوں تک محدود رہتے اگر ان میں سے چند پر بھی عمل کرلیا جاتا تو آج معاشرے میں خصوصی افراد کی شرح کم ہوتی یا وہ کم از کم اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ ہوتے۔

پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں معذور بچوں کی تعلیم سے محرومی لمحہء فکریہ ہے ۔ سو فیصد بنیادی تعلیم کا ہدف حاصل کرنا یا معذور بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا انحصار صرف وسائل یا فنڈزپر ہی نہیں بلکہ اس کے لیے اساتذہ اور والدین کی تربیت کر کے ان کی سوچ میں تبدیلی لانا بھی ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کا ماحول اتنا دوستانہ اور پرکشش بنانے کی ضرورت ہے کہ بچوں کو یہاں اکتاہٹ کا احساس نہ ہو بلکہ یہاں ان کی دلچسپی کا تمام وہ سامان ہو جو انہیں تعلیم کی طرف راغب کرے۔

پاکستان میں کل معذور بچوں میں سے صر ف 8 فیصد کوسہولتیں میسر ہیں جبکہ 92فیصد بچے اپنے خاندان پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کی تعداد کے حوالے سے یہ ادارے بہت کم ہیں۔ ابھی نہ صرف حکومت کو اس سلسلے میں مزید کام کرنا ہو گا بلکہ معاشرے کے مخیر افراد کو زیادہ سے زیادہ آگے آنے کی ضرورت ہے۔

معاشرے کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معذور بچوں کو اس طرح سپورٹ کرے کہ یہ کسی پر بوجھ بننے کی بجائے معاشرے کے مفید اور فعال رکن بنیں اور اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ملک و قوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔

یہ بچے معاشرے میں ایک بڑا ہی فعال کردار ادا کرسکتے ہیں۔ان میں سے بعض بچے بڑے ہی باکمال ہوتے ہیں۔ ان کو مجنون، مجذوب اور معذور سمجھ کر انھیں دھتکارنا اور ان سے تعصب برتنا بری بات ہے۔ان بچوں کو عام بچوں کے ساتھ بٹھایا جائے اور انہی کی طرح تعلیم دی جائے تاکہ ان کا احساس محرومی دور ہو اور وہ نارمل زندگی گزارنے کی طرف راغب ہوسکیں۔ بلاشبہ ایسی مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ہم ایسے بچوں کو احساس کمتری سے نکال کر انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں اور انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے اپنے لئے تگ و دو کرنے کے قابل ہوسکیں اور معاشرے میں اپنی شناخت اور حیثیت منوانے کا چیلنج قبول کرسکیں۔

خصوصی افراد ہمارے قومی وجود کا حصہ ہیں اور ان کی بحالی کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا ئے جانے کی ضرورت ہے ۔

***

مزید : ایڈیشن 2